اسکرین ٹائم: بچوں کی تعلیمی کارکردگی پر اثرات
اشاعت کی تاریخ: 15th, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
نت نئی برقی ایجادات بالخصوص ڈیجیٹل ٹیکنالوجی اور اسمارٹ ڈیوائسز نے جہاں ایک جانب زندگی میں آسانیاں پیدا کی ہیں وہیں دوسری جانب ان آلات کے بے جا استعمال نے ذہنی، جسمانی، اعصابی، سماجی اور نفسیاتی مسائل میں بھی اضافہ کیا ہے۔ ایک نئی تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ زیادہ اسکرین ٹائم بچوں کی ابتدائی تعلیمی کارکردگی پر منفی اثر ڈالتا ہے۔ مطالعے سے پتا چلا ہے کہ جن بچوں نے روزانہ زیادہ وقت اسمارٹ فون، ٹیبلٹ یا ٹی وی اسکرین پر گزارا، ان کی ریاضی اور مطالعے کی کارکردگی دیگر بچوں کے مقابلے میں کم تھی۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ مسلسل اسکرین کے استعمال سے بچوں کی توجہ کی صلاحیت، نیند کے معمولات اور ذہنی ارتکاز متاثر ہوتے ہیں، جس کا اثر براہِ راست سیکھنے کی رفتار پر پڑتا ہے۔ طبی ماہرین اس امر پر متفق ہیں کہ بچوں میں توجہ کی کمی اور روزمرہ کی سرگرمیوں سے دوری دماغی صلاحیتوں کو متاثر کرتی ہے۔ ڈیجیٹل آلات تعلیم کو بہتر بنانے کا باعث بن سکتے ہیں مگر کسی بھی چیز کا حد سے زیادہ استعمال مضمرات کا باعث بنتا ہے یقینا یہ ایک ایسی صورتحال ہے جو تشویش کا باعث ہے، جدید ٹیکنالوجی ہماری زندگی کا حصہ بن چکی ہے، ایسے میں ضرورت اس امر کی ہے کہ ڈیجیٹل آلات کے استعمال کی حد مقرر کی جائے، اس کے مثبت استعمال کو فروغ دیا جائے، اور بچوں کی اچھی ذہنی صحت کے لیے انہیں جسمانی سرگرمیوں میں مشغول کیا جائے تاکہ بچوں کی دماغی صلاحیت متاثر نہ ہو۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: بچوں کی
پڑھیں:
میئر لندن، 16 سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت
لندن کے میئر سر صادق خان(sadiq khan) نے 16 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ بچوں کو آن لائن دنیا میں درپیش خطرات اور نقصانات سے بچانے کے لیے یہ ایک ضروری اقدام ہے۔
منگل کو لندن میں انجینئرز، کاروباری شخصیات اور سرمایہ کاروں سے خطاب کے دوران صادق خان نے کہا کہ جس طرح خوراک اور ادویات تیار کرنے والی کمپنیوں کو اپنی مصنوعات کی حفاظت ثابت کرنا پڑتی ہے، اسی طرح سوشل میڈیا کمپنیوں کو بھی اپنے پلیٹ فارمز کے بچوں کے لیے محفوظ ہونے کا ثبوت دینا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ جب تک سوشل میڈیا کمپنیاں اپنے پلیٹ فارمز کی حفاظت ثابت نہیں کرتیں، اس وقت تک کم عمر بچوں کے لیے ان پر پابندی عائد کرنا ہی نقصانات کو روکنے کا مؤثر طریقہ ہے۔
میئر نے اس بات پر بھی تشویش کا اظہار کیا کہ آن لائن مینوسفیئر نامی رجحان نوجوان لڑکوں اور مردوں پر منفی اثرات مرتب کر رہا ہے، جس سے ایک کھوئی ہوئی نسل پیدا ہونے کا خطرہ ہے۔
یہ مؤقف برطانوی وزیر اعظم سر کیئر اسٹارمر کے مؤقف سے زیادہ سخت سمجھا جا رہا ہے، اگرچہ وزیر اعظم نے بچوں کی آن لائن حفاظت کے لیے اہم اقدامات کا وعدہ کیا ہے، تاہم انہوں نے ابھی تک سوشل میڈیا پر مکمل پابندی کی حمایت نہیں کی۔
برطانوی حکومت نے حال ہی میں بچوں کے آن لائن تحفظ سے متعلق ایک مشاورتی عمل مکمل کیا ہے، جس میں سوشل میڈیا کے لیے کم از کم عمر مقرر کرنے، ایپس کے استعمال کے اوقات محدود کرنے، لا محدود اسکرولنگ اور آٹو پلے جیسی عادت ساز خصوصیات پر پابندی لگانے اور عمر کی تصدیق کے سخت نظام متعارف کرانے جیسے اقدامات پر رائے طلب کی گئی تھی۔
مزید پڑھیں:نیشنل ہیلتھ سروسز کیلئے 22 ارب روپے کا بجٹ مختص، اہم تفصیلات سامنے آگئیں
مشاورت کے نتائج کی بنیاد پر حکومت بچوں کے تحفظ کے لیے آئندہ پالیسی اور قانون سازی کے حوالے سے فیصلے کرے گی۔