خیبر پختونخوا میں سہیل آفریدی کی جگہ نیا وزیراعلیٰ آئے گا، ندیم افضل چن کا دعویٰ
اشاعت کی تاریخ: 8th, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اسلام آباد: پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما ندیم افضل چن نے دعویٰ کیا ہے کہ تحریک انصاف ( پی ٹی آئی) کی جانب سے نامزد کردہ سہیل آفریدی کو وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نہیں بنایا جائے گا اور پی ٹی آئی خود ان کا نام تبدیل کرے گی۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ندیم افضل چن نے کہا کہ ان کے ذرائع کے مطابق وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے حوالے سے پی ٹی آئی کے اندر شدید اختلافات پائے جا رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہمارے ذرائع نے بتایا ہے کہ سہیل آفریدی وزیراعلیٰ نہیں بنیں گے، پی ٹی آئی کل تک وزیراعلیٰ کے لیے نیا نام فائنل کرے گی جبکہ اپوزیشن بھی اپنا امیدوار سامنے لانے پر غور کر رہی ہے۔
ندیم افضل چن نے یہ بھی انکشاف کیا کہ ممکن ہے خیبرپختونخوا کے لیے کوئی سرپرائز یا متفقہ امیدوار سامنے آ جائے،اگلے دو روز صوبے کی سیاست کے لیے نہایت اہم ہیں اور اس دوران اہم فیصلے متوقع ہیں، سہیل آفریدی کی نامزدگی پی ٹی آئی کا اندرونی فیصلہ ہے، حالات اس سمت میں نہیں جا رہے کہ وہ وزیراعلیٰ بن سکیں۔
انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کو علی امین گنڈاپور کو ہٹانے کی وجوہات واضح کرنا ہوں گی، ہم حکومت کا حصہ نہیں لیکن اتحادی ضرور ہیں اور ہم ان کی کسان دشمن پالیسیوں پر مسلسل تنقید کرتے رہے ہیں۔
ندیم افضل چن نے اعتراف کیا کہ بلاول زرداری نے حالیہ دنوں میں وزیراعظم مریم نواز کی کارکردگی کی تعریف بھی کی ہے، حکومت کو تمام سیاسی قوتوں کو ساتھ لے کر چلنا چاہیے تھا، خاص طور پر سیلاب کے دوران جب قومی سطح پر تعاون کی ضرورت تھی۔
ان کا کہنا تھا کہ ہم نے حکومت کو تجویز دی تھی کہ سیلاب متاثرین کی مدد کے لیے بی آئی ایس پی (بینظیر انکم سپورٹ پروگرام) کے ذریعے امدادی کارروائیاں کی جائیں تاکہ شفافیت یقینی ہو۔
پیپلز پارٹی رہنما نے کہا کہ پہلے ہم پنجاب کا حساب لیں گے، پھر وفاق کا بھی حساب لیا جائے گا، آصف زرداری اسلام آباد آئیں گے تو ان سے سیاسی حکمت عملی پر تفصیلی مشاورت کی جائے گی۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: ندیم افضل چن نے پی ٹی آئی نے کہا کہ کے لیے
پڑھیں:
جمال رئیسانی کا بی وائی سی اور کالعدم بی ایل اے کے مبینہ روابط کا دعویٰ، خواتین کے استعمال کو بلوچ روایات کے خلاف قرار دے دیا
بلوچستان سے رکن قومی اسمبلی جمال رئیسانی نے دعویٰ کیا ہے کہ کالعدم بلوچ عسکری تنظیموں اور بعض سماجی و سیاسی حلقوں کے درمیان روابط موجود ہیں، جبکہ خواتین اور کم عمر لڑکیوں کو مسلح سرگرمیوں میں شامل کرنا بلوچ روایات اور قبائلی اقدار کے منافی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:بھارتی سرپرستی میں زہریلا پروپیگنڈا، کالعدم بی ایل اے سے منسلک ملک دشمن شاعرہ حبیبہ پیرجان کی گرفتاری کے لیے 10 لاکھ روپے انعام کا اعلان
پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے جمال رئیسانی نے کہا کہ کالعدم تنظیم بی ایل اے کے کمانڈر بشیر زیب کا نام مختلف واقعات میں سامنے آتا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بلوچ معاشرے کی روایات میں خواتین کو جنگی مقاصد کے لیے استعمال کرنے کی کوئی گنجائش موجود نہیں۔ انہوں نے سابق بلوچ رہنما اکبر بگٹی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ نواب اکبر بگٹی نے بھی یہ مؤقف اختیار کیا تھا کہ بلوچ خواتین کو جنگ کا حصہ نہیں بنایا جائے گا۔
نواب اکبر بگٹی نے کہا تھا کہ ہم جنگ میں خواتین کو استعمال نہیں کریں گے، ہیروف 2 میں شامل خودکش حملہ آور اور کمانڈر شہناز تک تمام کے تانے بانے بی وائی سی سے ملتے ہیں، جمال رئیسانی
مکمل ویڈیو فیس بک پیج پرhttps://t.co/GB5kSKBy0R#Balochistan #Quetta pic.twitter.com/GLHj40tk43
— Daily Intekhab (@Intekhabhd) June 2, 2026
رکن قومی اسمبلی نے الزام عائد کیا کہ حالیہ برسوں میں بعض کم عمر لڑکیوں اور خواتین کو عسکری سرگرمیوں کے لیے استعمال کیا گیا، جو بلوچ روایات کے خلاف ہے۔ انہوں نے کہا کہ بعض خودکش حملوں اور عسکری کارروائیوں میں خواتین کی شمولیت کے شواہد سامنے آئے ہیں، جس پر سنجیدہ توجہ دینے کی ضرورت ہے۔
جمال رئیسانی کا کہنا تھا کہ دشمن صرف ہتھیاروں کے ذریعے نہیں بلکہ سوشل میڈیا، ہیش ٹیگز، ویڈیوز اور پروپیگنڈا مہمات کے ذریعے بھی نوجوانوں کو متاثر کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایک منظم نیٹ ورک مخصوص بیانیے کو فروغ دے کر نوجوان نسل کی سوچ پر اثر انداز ہونے کی کوشش کر رہا ہے۔
انہوں نے مزید الزام لگایا کہ بعض افراد اور گروہ سوشل میڈیا اور دیگر ذرائع ابلاغ کے ذریعے کالعدم تنظیموں کے بیانیے کو تقویت دیتے ہیں۔ ان کے مطابق سیکیورٹی اداروں اور ریاستی اداروں کے پاس اس حوالے سے مختلف رپورٹس اور شواہد موجود ہیں جن کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔
جمال رئیسانی نے کہا کہ حکومت دہشت گردی اور انتہا پسندی کے خلاف مؤثر قانون سازی اور اقدامات جاری رکھے ہوئے ہے اور بلوچستان کے نوجوانوں کو تشدد کے راستے سے دور رکھنے کے لیے ریاستی سطح پر مختلف پروگرام بھی شروع کیے گئے ہیں۔
انہوں نے زور دیا کہ بلوچستان کے مسائل کا حل سیاسی مکالمے، جمہوری عمل اور آئینی طریقہ کار میں مضمر ہے، جبکہ تشدد اور مسلح کارروائیاں نہ صرف صوبے بلکہ پورے ملک کے امن اور استحکام کے لیے نقصان دہ ہیں۔
پریس کانفرنس کے دوران جمال رئیسانی نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ بعض حالیہ واقعات اور عسکری کارروائیوں میں ملوث افراد کے روابط مخصوص حلقوں سے ملتے ہیں، جن کی تحقیقات جاری ہیں۔ تاہم ان الزامات پر متعلقہ فریقین کا مؤقف سامنے نہیں آ سکا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں