پاکستان میں پہلی بار بنکرنگ لائسنس کا اجراء، سمندری معیشت میں انقلاب کی توقع
اشاعت کی تاریخ: 18th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
وفاقی وزیر برائے بحری امور محمد جنید انوار چوہدری نے اعلان کیا ہے کہ پاکستان میں پہلی بار بنکرِنگ (جہازوں کو ایندھن کی فراہمی) کے لیے تاریخی لائسنس جاری کر دیا گیا ہے۔ اس اہم اقدام کے ساتھ کراچی پورٹ پر عالمی معیار کی بنکرنگ سروس کا باقاعدہ آغاز بھی کر دیا گیا ہے۔
وفاقی وزیر کے مطابق پاکستان کی میری ٹائم انڈسٹری میں یہ بڑا بریک تھرو ہے جس میں متعدد بین الاقوامی کمپنیوں نے بھی لائسنس کے حصول میں دلچسپی ظاہر کی ہے۔ اس منصوبے سے مستقبل میں اربوں روپے کی آمدنی آنے کی توقع ہے، جو ملکی معیشت کے لیے نہایت اہم ہو گی۔
جنید انوار چوہدری نے بتایا کہ یہ سروس وزیراعظم کی خصوصی ہدایات پر شروع کی گئی ہے، اور اب کراچی پورٹ پر آنے والے جہازوں کو بین الاقوامی معیار کے فیول سپلائی سسٹم کی سہولت دستیاب ہو گی۔ ان کا کہنا تھا کہ عالمی معیار کی اس سروس سے کراچی پورٹ کی علاقائی مسابقت میں اضافہ ہوگا اور منظم نظام کے باعث غیرملکی شپنگ لائنز کی آمد بھی بڑھے گی۔
انہوں نے مزید کہا کہ کراچی پورٹ میں عالمی حفاظتی اور آپریشنل اسٹینڈرڈز نافذ کر دیے گئے ہیں۔ نئی بنکرنگ سروس سے مرمت، سپلائز اور میری ٹائم لاجسٹکس کے شعبوں میں روزگار کے مواقع بڑھیں گے، جبکہ ایندھن کے معیار، دستاویزات اور شفافیت کے حوالے سے بین الاقوامی اصولوں کی سختی سے پابندی کی جائے گی۔
یہ پیش رفت پاکستان کو خطے کی اہم میری ٹائم معیشتوں میں شامل کرنے کی طرف ایک بڑا قدم قرار دی جا رہی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: کراچی پورٹ
پڑھیں:
پنجاب میں پہلی بار سیلاب کی پیشگی اطلاع کیلئے ڈرون مانیٹرنگ شروع
حکام کے مطابق تمام بیراجوں، دریاؤں اور ہیڈ ورکس کی سیف سٹی ڈرون سرویلنس کے ذریعے نگرانی کی جا رہی ہے تاکہ پانی کی سطح اور ممکنہ سیلابی ریلوں کی بروقت نشاندہی کی جا سکے۔ اسلام ٹائمز۔ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی ہدایت پر صوبے میں پہلی مرتبہ سیلاب کی پیشگی اطلاع اور نگرانی کے لیے ڈرون مانیٹرنگ کا آغاز کر دیا گیا۔ حکام کے مطابق تمام بیراجوں، دریاؤں اور ہیڈ ورکس کی سیف سٹی ڈرون سرویلنس کے ذریعے نگرانی کی جا رہی ہے تاکہ پانی کی سطح اور ممکنہ سیلابی ریلوں کی بروقت نشاندہی کی جا سکے۔
ڈرون مانیٹرنگ کے دوران جھنگ کے تریموں بیراج میں پانی کی سطح معمول کے مطابق ریکارڈ کی گئی جبکہ پاکپتن میں دریائے راوی اور ستلج میں سیلابی صورتحال، پانی کی آمد اور دریائی کناروں پر کٹاؤ کا جائزہ لیا گیا، جہاں پانی کا بہاؤ معمول کے مطابق رہا۔
سرگودھا میں دریائے چناب پر واقع طالب والا پل، خانیوال میں ہیڈ سدھنائی بیراج اور ہیڈ ورکس، جبکہ منڈی بہاؤالدین میں رسول بیراج پر بھی ڈرون سرویلنس کے ذریعے پانی کے بہاؤ کی نگرانی کی گئی۔ حکام کے مطابق ساہیوال کے علاقے کتب شہانہ کے قریب نچلے درجے کا سیلاب ریکارڈ کیا گیا، جبکہ سیالکوٹ کے ہیڈ مرالہ پر پانی کا بہاؤ ایک لاکھ 74 ہزار کیوسک ریکارڈ ہوا۔