سونم وانگچک کا لداخ میں شہریوں کی ہلاکت کی عدالتی تحقیقات کا مطالبہ
اشاعت کی تاریخ: 14th, October 2025 GMT
ذرائع کے مطابق سونم وانگچک کے وکیل مصطفی حاجی نے ایک بیان میں کہا کہ وانگچک ذہنی اور جسمانی طور پر مضبوط ہیں تاہم وہ لداخ کے بارے میں انتہائی فکر مند ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ بھارتی ریاست راجستھان کی جودھ پور سینٹرل جیل میں غیر قانونی طور پر نظربند معروف ماحولیاتی کارکن سونم وانگچک نے لداخ خطے کے علاقے لیہہ میں بھارتی فورسز کے ہاتھوں چار شہریوں کی ہلاکت کی آزادانہ عدالتی تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔ ذرائع کے مطابق سونم وانگچک کے وکیل مصطفی حاجی نے ایک بیان میں کہا کہ وانگچک ذہنی اور جسمانی طور پر مضبوط ہیں تاہم وہ لداخ کے بارے میں انتہائی فکر مند ہیں۔ مصطفی حاجی نے کہا کہ وانگچک نے لیہہ اپیکس باڈی (ایل اے بی)، کارگل ڈیموکریٹک الائنس (کے ڈی اے) اور دیگر تنظیموں پر زور دیا ہے کہ وہ اپنے آئینی حقوق کے لیے اپنی جدوجہد جاری رکھیں، یہ نمائندہ تنظیمیں لداخ کے مفاد میں جو بھی اقدامات کریں گی، وہ (وانگچک ) ان کے ساتھ ہوں گے۔ وکیل نے کہا کہ وانگچک نے 24 ستمبر کو لیہہ میں احتجاج کے دوران بھارتی فورسز کے ہاتھوں چار شہریوں کی ہلاکت کی آزادانہ عدالتی تحقیقات کا بھی مطالبہ کیا۔ انہوں نے لوگوں پر زور دیا کہ وہ اتحاد و اتفاق برقرار اور حقوق کی جدوجہد کو پرامن طریقے سے جاری رکھیں۔ مودی حکومت نے بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں و کشمیر کے خطے لداخ سے تعلق رکھنے والے سونم وانگچک کو حقوق کیلئے جدوجہد کی پاداش میں سلاخوں کے پیچھے ڈال رکھا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: سونم وانگچک
پڑھیں:
بحرین نے اپنے شہریوں کو ایران اور عراق کے سفر سے روک دیا
اپنے ایک جاری بیان میں بحرینی وزارت داخلہ کا کہنا تھا کہ اس حکم کی مخالفت کرنے والوں کیخلاف سخت تادیبی کارروائی انجام دی جائے گی۔ اسلام ٹائمز۔ آج "بحرین" کی وزارت داخلہ نے نام نہاد علاقائی سیکورٹی خدشات کا حوالہ دیتے ہوئے، اپنے شہریوں کو تا حکم ثانوی "ایران" اور "عراق" کے سفر سے روک دیا۔ مذکورہ ملک کی وزارت داخلہ نے کہا کہ اس حکم کی مخالفت کرنے والوں کے خلاف سخت تادیبی کارروائی انجام دی جائے گی۔ بحرین نے الزام لگایا کہ اس نے یہ فیصلہ ایرانی جارحیت کے نتیجے میں پیدا ہونے والی موجودہ سیکیورٹی صورتحال کے پیش نظر کیا۔ جس کا مقصد ملک کی سلامتی کو برقرار رکھنا اور بحرینی شہریوں کی حفاظت کو یقینی بنانا ہے۔ حالانکہ یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ جنگِ رمضان کے دوران ایران کے خلاف کھلی امریکی و صیہونی جارحیت میں بحرین برابر کا شریک ہے۔ خطے کا سب سے بڑا امریکی اڈہ بھی اسی ملک میں موجود ہے۔ ان اڈوں کے خلاف ایران کی جوابی کاری ضربوں نے بحرین کو شدید متاثر کیا۔ جس کی وجہ سے اُسے اقتصادی مشکلات کا سامنا ہے۔ مزید برآں کہ درست سفارتی فیصلوں کی بجائے "منامہ" اپنی ہٹ دھرمی پر قائم ہے۔ جس سے اُسے مزید سنگین نتائج بھگتنا پڑ سکتے ہیں۔