ذرائع کے مطابق سونم وانگچک کے وکیل مصطفی حاجی نے ایک بیان میں کہا کہ وانگچک ذہنی اور جسمانی طور پر مضبوط ہیں تاہم وہ لداخ کے بارے میں انتہائی فکر مند ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ بھارتی ریاست راجستھان کی جودھ پور سینٹرل جیل میں غیر قانونی طور پر نظربند معروف ماحولیاتی کارکن سونم وانگچک نے لداخ خطے کے علاقے لیہہ میں بھارتی فورسز کے ہاتھوں چار شہریوں کی ہلاکت کی آزادانہ عدالتی تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔ ذرائع کے مطابق سونم وانگچک کے وکیل مصطفی حاجی نے ایک بیان میں کہا کہ وانگچک ذہنی اور جسمانی طور پر مضبوط ہیں تاہم وہ لداخ کے بارے میں انتہائی فکر مند ہیں۔ مصطفی حاجی نے کہا کہ وانگچک نے لیہہ اپیکس باڈی (ایل اے بی)، کارگل ڈیموکریٹک الائنس (کے ڈی اے) اور دیگر تنظیموں پر زور دیا ہے کہ وہ اپنے آئینی حقوق کے لیے اپنی جدوجہد جاری رکھیں، یہ نمائندہ تنظیمیں لداخ کے مفاد میں جو بھی اقدامات کریں گی، وہ (وانگچک ) ان کے ساتھ ہوں گے۔ وکیل نے کہا کہ وانگچک نے 24 ستمبر کو لیہہ میں احتجاج کے دوران بھارتی فورسز کے ہاتھوں چار شہریوں کی ہلاکت کی آزادانہ عدالتی تحقیقات کا بھی مطالبہ کیا۔ انہوں نے لوگوں پر زور دیا کہ وہ اتحاد و اتفاق برقرار اور حقوق کی جدوجہد کو پرامن طریقے سے جاری رکھیں۔ مودی حکومت نے بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں و کشمیر کے خطے لداخ سے تعلق رکھنے والے سونم وانگچک کو حقوق کیلئے جدوجہد کی پاداش میں سلاخوں کے پیچھے ڈال رکھا ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: سونم وانگچک

پڑھیں:

شارع فیصل، کس لین میں گاڑی چلائی تو چالان نہیں ہوگا؟

کراچی میں شارع فیصل پر ٹریفک کی روانی کو بہتر بنانے کے لیے ٹریفک لین کی پاسداری کرانے کے لیے قوانین پر سختی عملدرآمد کیا جارہا ہے۔

ٹریفک لین کی خلاف ورزی پر 24 گھنٹوں کے دوران 96 چالان جاری کیے گئے ہیں۔

کراچی میں ٹریفک جام اور حادثات کی بڑھتی ہوئی تعداد کے پیچھے کئی وجوہات ہیں، لیکن ایک بڑی وجہ ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی ہے۔

شہر کی سڑکوں پر مختلف گاڑیوں کے لیے مخصوص لینز تو موجود ہیں، اور زیادہ تر شہری اس بات سے واقف بھی ہیں کہ کون سی لین کس قسم کی گاڑی کے لیے مختص ہے، مگر وقت بچانے اور جلد منزل تک پہنچنے کی دوڑ میں اکثر لوگ ان اصولوں کو نظرانداز کر دیتے ہیں۔

ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کو روکنے اور سڑکوں پر نظم و ضبط بہتر بنانے کے لیے ٹریفک پولیس نے پہلے ہی ای-ٹکٹنگ سسٹم نافذ کیا ہوا ہے، لیکن اب شارع فیصل پر لین کی خلاف ورزی کرنے والوں کو خودکار طریقے سے جرمانے جاری کیے جائیں گے۔

ڈی آئی جی ٹریفک پیر محمد شاہ کے مطابق ٹریفک جام کی صورت میں شہریوں کو لین تبدیل کرنے کی رعایت ہے، لیکن سست ٹریفک پر شہریوں کو مقررہ لین میں ہی رہنا ہوگا اور ہیوی بائیک رائڈرز بھی لین کی خلاف ورزی کریں گے تو چالان ہوگا۔

دوسری جانب شہریوں نے اس اقدام کو ٹریفک نظم و ضبط کی جانب ایک مثبت پیشرفت قرار دیا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ قوانین پر مؤثر عملدرآمد کے ساتھ ساتھ عوامی آگاہی بھی انتہائی ضروری ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ نئے نظام اور لین ڈسپلن کے اصولوں سے واقف ہو سکیں۔

قانون تو موجود ہے، اب اصل امتحان اس پر عملدرآمد اور شہریوں کے تعاون کا ہے۔ اگر دونوں ساتھ چلیں تو شاید کراچی کی سڑکیں زیادہ محفوظ اور منظم بن سکیں۔

متعلقہ مضامین

  • شارع فیصل، کس لین میں گاڑی چلائی تو چالان نہیں ہوگا؟
  • عشق پاکستانی نوجوان کو ایل او سی کے پار لے گیا
  • جسٹس ریٹائرڈ مقبول باقر سندھ انسانی حقوق کمیشن کے چیئرپرسن مقرر
  • ہمارا ایک مطالبہ ہے بانی کو شفا انٹرنیشنل منتقل کیا جائے، سہیل آفریدی
  • اگر لداخ سیاسی اتحاد قائم کرسکتا ہے تو ہم بھی کرسکتے ہیں، محبوبہ مفتی
  • گلگت بلتستان کو بھی آئینی وبنیادی حقوق ملنے چاہئیں ، سعد رفیق
  • تیزگام ایکسپریس کی پاور وین میں آگ لگ گئی
  • بحرین نے اپنے شہریوں کو ایران اور عراق کے سفر سے روک دیا
  • روینہ ٹنڈن کی والدہ کے گھر بڑی چوری، لاکھوں روپے مالیت کے زیورات غائب
  • شوگر ملز ایسوسی ایشن کا چینی برآمد کرنے کا مطالبہ، ماضی میں اس فیصلے سے کیا نقصان ہوا؟