پاک افغان کشیدگی میں اضافہ، طورخم بارڈر ہر قسم کی آمدورفت کے لیے بند
اشاعت کی تاریخ: 12th, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اسلام آباد: پاکستان اور افغانستان کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث طورخم بارڈر کو دونوں اطراف سے تجارتی سرگرمیوں اور پیدل آمد و رفت کے لیے مکمل طور پر بند کر دیا گیا ہے، سرحدی بندش کے نتیجے میں سینکڑوں مسافر اور درجنوں تجارتی گاڑیاں پھنس گئیں جبکہ بارڈر کے قریب سیکیورٹی ہائی الرٹ کر دی گئی ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق طورخم بارڈر کی بندش کے بعد ہر قسم کی آمد و رفت معطل ہو گئی ہے، پیدل سفر کرنے والے شہریوں اور تجارتی سامان لے جانے والی گاڑیوں کو واپس لنڈی کوتل منتقل کر دیا گیا ہے، فیصلہ سیکیورٹی خدشات اور افغان فورسز کی حالیہ اشتعال انگیزی کے تناظر میں کیا گیا ہے۔
خیال رہےکہ گزشتہ روز افغانستان کی جانب سے بلا اشتعال فائرنگ اور جارحیت کے بعد پاک فوج نے بھرپور جوابی کارروائی کرتے ہوئے متعدد افغان چیک پوسٹوں کو تباہ کر دیا تھا، کارروائی میں افغان فورسز کو بھاری جانی و مالی نقصان اٹھانا پڑا اور متعدد اہلکار ہلاک ہوئے۔
واضح رہےکہ یہ پہلا موقع نہیں جب طورخم بارڈر بند کیا گیا ہو۔ 21 فروری کو بھی پاکستانی اور افغان سیکیورٹی فورسز کے درمیان سرحد کے دونوں جانب تعمیراتی سرگرمیوں پر کشیدگی کے بعد طورخم کراسنگ بند کر دی گئی تھی۔
مارچ میں صورتحال مزید بگڑ گئی تھی جب پاکستان اور افغان طالبان کی افواج کے درمیان فائرنگ کے تبادلے میں 6 فوجیوں سمیت 8 افراد زخمی ہو گئے تھے۔ اس وقت سرحد پار فائرنگ کا سلسلہ تین روز تک جاری رہا تھا جس کے بعد قبائلی عمائدین کی مداخلت سے معاملہ عارضی طور پر ختم ہوا۔
سرکاری ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان اپنی سرحدی خودمختاری کے تحفظ کے لیے پرعزم ہے اور کسی بھی جارحیت کا بھرپور جواب دیا جائے گا، تاہم کشیدگی کے خاتمے کے لیے سفارتی ذرائع بروئے کار لانے پر بھی غور جاری ہے۔
خیال رہے کہ ایران نے پاکستان اور افغانستان کے درمیان ثالثی کی پیشکش کی ہے، جبکہ پاکستانی فورسز نے حالیہ کارروائی میں افغان بارڈر کے اندر گھس کر دہشت گردوں کا صفایا کیا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: کے درمیان اور افغان کے لیے کے بعد
پڑھیں:
فورسز کی بلوچستان کے مختلف علاقوں میں کارروائیاں، 17 دہشتگرد ہلاک، آئی ایس پی آر
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) سے جاری بیان کے مطابق سیکیورٹی فورسز(security forces) نے 24 مئی 2026 کو پیش آنے والے ریل حادثے کے بعد خفیہ اطلاعات کی بنیاد پر بلوچستان کے اضلاع مستونگ، نوشکی، زہری، خضدار اور کیچ میں کارروائیاں کیں۔
بیان میں کہا گیا کہ ان کارروائیوں کے دوران سیکیورٹی اہلکاروں نے دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا اور شدید فائرنگ کے تبادلوں کے دوران بھارتی اسپانسرڈ فتنۃ الہندوستان کے 17 دہشت گردوں کو ہلاک کردیا اور ان علاقوں میں سرگرم دہشت گردی کے نیٹ ورکس کو بڑا دھچکا پہنچایا ہے۔
آئی ایس پی آر نے بتایا کہ بھارتی اسپانسرڈ ہلاک دہشت گردوں کے زیرقبضہ ہتھیار، باردو اور بڑے پیمانے دھماکا خیز مواد اور مواد تیار کرنے کی ڈیوائسز برآمد کرلی گئیں۔
بیان میں بتایا گیا کہ ہلاک دہشت گرد بلوچستان کے ان علاقوں میں دہشت گردی کے کئی اہم واقعات میں ملوث رہے تھے۔
مزید پڑھیں:پاکستان میں پٹرولیم مصنوعات کی کھپت میں 23 فیصد کمی
آئی ایس پی آر نے مزید بتایا کہ علاقے سے دہشت گردوں کے صفایا کرنے کے لیے سینیٹائزیشن آپریشن جاری ہے، سیکیورٹی فورسز اور پاکستان کے قانون نافذ کرنے والے اداروں کی عزم استحکام وژن کے تحت دہشت گردی کے خاتمہ کی مہم پوری رفتار سے جاری رہے گی تاکہ ملک سے بیرونی اسپانسرڈ اور تعاون سے جاری دہشت گردی کے ناسور کا مکمل خاتمہ ہو۔