Islam Times:
2026-07-24@06:39:31 GMT

ٹرمپ کا امن منصوبہ یا دفاعِ اسرائیل روڈ میپ؟

اشاعت کی تاریخ: 7th, October 2025 GMT

ٹرمپ کا امن منصوبہ یا دفاعِ اسرائیل روڈ میپ؟

اسلام ٹائمز: نجانے کیوں ہمارے حکمرانوں کو نوشتہ دیوار پڑھنا نہیں آرہا کہ امریکہ کے عروج کا سورج غروب ہونیوالا ہے۔ دنیا میں چین سمیت دیگر قوتیں اپنا اثر و رسوخ بڑھا رہی ہیں۔ امریکہ خود کسی ایک جھٹکے کی مار ہے۔ اس کی جنگ کسی بھی قوت کیساتھ ہوگئی تو وہ امریکہ کی آخری جنگ ہوگی، اس لئے ٹرمپ دنیا میں جنگیں بند کروانے کا راگ آلاپ کر امریکہ کی گرتی ہوئی ساکھ کو بچانے کی ناکام کوشش کر رہا ہے۔ تحریر: تصور حسین شہزاد

ڈونلڈ ٹرمپ کے 20 نکاتی امن منصوبے کا چرچا اس وقت عروج پر ہے۔ یہاں تک کہ اس منصوبے کو ’’بہترین‘‘ قرار دلوانے کیلئے ہمارے میڈیا میں بھی خبریں چلوائی گئیں کہ اس پر حماس نے بھی مشروط آمادگی ظاہر کر دی ہے، جبکہ ہمارے وزیراعظم نے بھی ’’شاہ کی شاہ سے زیادہ وفاداری‘‘ میں عجلت میں اس منصوبے کے نکات پڑھے بغیر، قبول ہے، قبول ہے، کہہ دیا، جبکہ زمینی حقائق یہ ہیں کہ خود ٹرمپ نے بھی اسے حتمی شکل نہیں دی تھی، ایک مجوزہ منصوبہ تھا، جس کا مسودہ قبل از وقت پبلک کر دیا گیا۔ بعدازاں نیتن یاہو کیساتھ ملاقات کے بعد ٹرمپ نے اس میں ’’بڑی‘‘ تبدیلیاں کیں اور وائٹ ہاوس کی جانب سے وہ تبدیل شدہ منصوبہ ایک بار پھر جاری کیا گیا۔ جس پر کہا گیا کہ پہلے سے جاری کردہ مسودہ درست نہیں تھا، اب اس میں ’’غلطیاں‘‘ ٹھیک کرکے دوبارہ جاری کیا جا رہا ہے۔

اس میں جو ’’غلطیاں‘‘ درست کی گئیں، وہ یہ تھیں کہ وہ پوائنٹس اسرائیلی مفادات کیخلاف جا رہے تھے اور نیتن یاہو کو وہ قبول نہیں تھے، جس پر فوری ’’غور و خوض‘‘ کے بعد ٹرمپ نے وہ پوائنٹس نکال دیئے اور نیا مسودہ تیار کرکے جاری کروا دیا۔ اب حماس سمیت فلسطینی اتھارٹی، قطر اور سعودی عرب سمیت دیگر مسلم حکمرانوں کو بھی وہ مسودہ دیا گیا، کسی نے بھی اتنی عجلت میں اسے ’’منظور‘‘ نہیں کیا، جتنی تیزی ہمارے وزیراعظم نے دکھائی، اب نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار کو اس کی وضاحتیں دینی پڑ رہی ہیں، جبکہ عسکری قیادت کے حوالے سے بھی ہدایات ملنے کے بعد پارلیمنٹ کو بتایا گیا کہ اسرائیل کو تسلیم کرنے نہیں جا رہے۔

لاہور میں گفتگو میں سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے واضح کر دیا کہ اسرائیل کو تسلیم کرنے کا کوئی منصوبہ زیر غور نہیں۔ البتہ ایک اور حکومتی عہدیدار سے بات ہوئی تو انہوں نے کہا ہم مشرق وسطیٰ میں امن چاہتے ہیں اور ہماری خواہش ہے کہ فلسطینیوں کی نسل کشی کا یہ سلسلہ بند ہو جائے۔ اس کیلئے ہم کسی بھی امن معاہدہ کی حمایت کریں گے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ اس ٹرمپی منصوبے کو حماس تسلیم کرتی ہے یا نہیں؟ کیونکہ منصوبے کا غیر جانبدارانہ جائزہ لیا جائے تو اس سے کھلے بندوں یہ واضح ہوتا ہے کہ یہ منصوبہ قیام امن کیلئے نہیں، بلکہ دفاعِ اسرائیل کیلئے ہے۔ اس منصوبے کو صرف اور صرف اسرائیل کو طاقتور بنانے اور اسے تحفظ فراہم کرنے کی ایک ناکام کوشش ہے۔

کیونکہ حالیہ حماس اسرائیل جنگ میں، اسرائیل کو عبرتناک شکست ہوئی ہے۔ اوپر سے ایران اسرائیل جنگ نے 12 دنوں میں اسرائیل کے نام نہاد دفاعی نظام کی قلعی کھول کر رکھ دی۔ یہ حقیقت ہے کہ غزہ کی اینٹ سے اینٹ بجا دی گئی ہے، بہت زیادہ تباہی ہوئی ہے، لیکن اس تباہی کے باوجود، شکست اسرائیل کے مقدر میں لکھی جا چکی ہے۔ پوری دنیا، بالخصوص یورپی ممالک میں اسرائیل کیخلاف ہونیوالے مظاہرے اس بات کا واضح ثبوت ہیں کہ اب عالمی رائے عامہ اسرائیل کیخلاف اور فلسطین کے حق میں ہوچکی ہے۔ یہ حماس کی فتح ہے۔ آج 7 اکتوبر کو حماس کی جدوجہد آزادی کو پورے دو سال مکمل ہوگئے ہیں۔ اسرائیل آج کے دن کو کس نظر سے منا رہا ہے، یہ اسرائیل میڈیا اور اسرائیل کے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز چیخ چیخ کر بتا رہے ہیں کہ 7 اکتوبر کو شروع ہونیوالی مزاحمت نے اسرائیل کو تباہ کرکے رکھ دیا ہے۔

اسرائیلی وزارتِ دفاع نے غزہ جنگ کے دو سال مکمل ہونے پر فوجی جانی نقصان کی تفصیلات بھی جاری کی ہیں۔ جن میں اعتراف کیا ہے کہ 7 اکتوبر 2023ء سے اب تک 1152 اسرائیلی فوجی ہلاک ہوچکے ہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ہلاک ہونیوالوں میں اسرائیلی فوج، پولیس، شن بیٹ ایجنسی اور دیگر سکیورٹی اداروں کے اہلکار شامل ہیں۔ وزارت نے اعتراف کیا کہ غزہ جنگ کی بھاری قیمت اسرائیلی ریاست اپنے کندھوں پر اٹھا رہی ہے اور اس تنازع نے اسرائیلی معاشرے کو گہرے زخم دیئے ہیں۔ یہ اعداد و شمار اس وقت سامنے آئے ہیں، جب بین الاقوامی سطح پر اسرائیل پر جنگ بندی کے دباؤ میں اضافہ ہو رہا ہے اور غزہ میں انسانی بحران شدید تر ہوتا جا رہا ہے۔

ایسے وقت میں نیتن یاہو کی مقبولیت کا گراف بھی بُری طرح نیچے آیا ہے اور اس کی سیاسی ساکھ بھی خطرے سے دوچار ہے۔ ٹرمپ کا یہ اقدام نتین یاہو کو بچا پائے گا اور نہ ہی اسرائیل کو محفوظ رکھ سکے گا۔ کیونکہ عالمی بیانیہ تبدیل ہوچکا ہے، خود امریکہ کی کیفیت بھی ڈوبتی ناؤ کی سی ہے۔ نجانے کیوں ہمارے حکمرانوں کو نوشتہ دیوار پڑھنا نہیں آرہا کہ امریکہ کے عروج کا سورج غروب ہونیوالا ہے۔ دنیا میں چین سمیت دیگر قوتیں اپنا اثر و رسوخ بڑھا رہی ہیں۔ امریکہ خود کسی ایک جھٹکے کی مار ہے۔ اس کی جنگ کسی بھی قوت کیساتھ ہوگئی تو وہ امریکہ کی آخری جنگ ہوگی، اس لئے ٹرمپ دنیا میں جنگیں بند کروانے کا راگ آلاپ کر امریکہ کی گرتی ہوئی ساکھ کو بچانے کی ناکام کوشش کر رہا ہے۔

کچھ حلقے کہہ رہے ہیں کہ حماس نے اسرائیل پر 7 اکتوبر کو حملہ کرکے غلطی کی اور غزہ کی تباہی کا سامان کیا۔ راقم اس سوچ سے متفق نہیں، حماس نے مزاحمت کرکے غلطی نہیں کی، بلکہ بروقت اور موثر فیصلہ کیا ہے۔ اس سے عربوں میں اسرائیل کو تسلیم کرنے کے حوالے سے جو ایک لہر چل پڑی تھی، وہ رک گئی ہے۔ مشرق وسطیٰ کا منظرنامہ تبدیل ہوا ہے اور عالمی رائے عامہ اسرائیل کیخلاف ہوگئی ہے۔ یہ حماس کی بہت بڑی فتح ہے۔ جانوں اور املاک کی قربانیاں اپنی جگہ، لیکن بڑے ہدف کیلئے قربانی بھی بڑی دینی پڑتی ہے۔ حماس نے بڑی قربانیاں دے کر بڑا ہدف حاصل کیا ہے۔ اب حماس کی اس کامیابی کو ناکامی میں بدلنے کا ٹرمپی منصوبہ خود ناکام ہو جائے گا اور فلسطین ایک آزاد ریاست کے طور پر ایک بار پھر دنیا کے نقشے پر نمودار ہوگا۔ ان شاء اللہ

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: میں اسرائیل اسرائیل کو امریکہ کی دنیا میں حماس کی اور اس ہے اور ہیں کہ رہا ہے نے بھی

پڑھیں:

ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی

امریکی سینیٹ نے ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع میں امریکا کی شمولیت ختم کرنے کے لیے پیش کی گئی جنگی اختیارات کی قرارداد مسترد کر دی۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی سینیٹ نے جمعرات کو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت دینے والی قرارداد منظور کرنے سے انکار کر دیا۔

میری لینڈ سے تعلق رکھنے والے ڈیموکریٹ سینیٹر کرس وین ہولن کی پیش کردہ وار پاورز ریزولوشن پر ووٹنگ ہوئی تاہم قرارداد 47 کے مقابلے میں 49 ووٹوں سے مسترد ہوگئی اور مطلوبہ حمایت حاصل نہ کرسکی۔

ریپبلکن سینیٹر سوسن کولنز نے اپنی جماعت کی پالیسی کے برعکس قرارداد کے حق میں ووٹ دیا جبکہ ڈیموکریٹ سینیٹر جان فیٹرمین نے اپنی پارٹی سے اختلاف کرتے ہوئے قرارداد کی مخالفت کی۔

تین سینیٹرز نے رائے شماری میں حصہ نہیں لیا جن میں سینیٹر کیٹی برٹ، مچ میک کونل، لیزا مرکووسکی اور رینڈ پال شامل ہیں۔

اس قرارداد میں مطالبہ کیا گیا تھا کہ اگر کانگریس باقاعدہ جنگ کا اعلان نہ کرے یا صدر کو خصوصی اجازت نہ دے، تو صدر ٹرمپ ایران کے اندر یا ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں سے امریکی افواج کو واپس بلائیں۔

ڈیموکریٹ ارکان اور بعض ریپبلکن قانون سازوں کا مؤقف ہے کہ ایران کے خلاف موجودہ فوجی کارروائیوں میں صدر ٹرمپ نے کانگریس کے اس آئینی اختیار کو نظر انداز کیا ہے جس کے تحت صرف کانگریس کو جنگ کا اعلان کرنے کا اختیار حاصل ہے۔

اس سے چند گھنٹے قبل امریکی ایوانِ نمائندگان نے ایران جنگ محدود کرنے کی اپنی وار پاورز قرارداد منظور کی تھی تاہم اسے گزشتہ ماہ کے مقابلے میں ایک ووٹ کم ملا جس سے کانگریس میں بھی اس معاملے پر اختلافات نمایاں ہیں۔

گزشتہ ماہ بھی سینیٹ نے اسی نوعیت کی ایک قرارداد 50 کے مقابلے میں 48 ووٹوں سے منظور کی تھی۔ اس وقت چند ریپبلکن ارکان نے بھی ڈیموکریٹس کا ساتھ دیا تھا لیکن اس وقت ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی نافذ تھی اور مزید امریکی جانی نقصان نہیں ہوا تھا۔

آئینی ماہرین کے مطابق 1973 کے وار پاورز ایکٹ کا مقصد صدر کے فوجی اختیارات پر کانگریس کی نگرانی کو یقینی بنانا تھا لیکن اب تک کسی بھی امریکی صدر نے اسے مکمل طور پر پابند قانون کے طور پر تسلیم نہیں کیا۔

مزید یہ کہ اس قانون کی آئینی حیثیت پر کبھی امریکی عدالتوں نے حتمی فیصلہ نہیں دیا اسی لیے اگر قرارداد منظور بھی ہو جاتی تو اس کے نتیجے میں صدر کو فوری طور پر فوج واپس بلانے کا قانونی پابند بنانا مشکل ہوتا۔

 

 

متعلقہ مضامین

  • نئی امریکی ویزا پالیسی پاکستانی طلبہ کے لیے مشکلات کا سبب بن سکتی ہے
  • ایران سے جنگ نے ایک اور مشکل کھڑی کر دی، امریکا کے تیل کے ذخائر 45 سال کی کم ترین سطح پر پہنچ گئے
  • ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
  • سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو
  • ’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدہ ابراہیمی معاہدہ میں شمولیت سے مشروط کر دیا
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
  • پاکستان کے دفاع، سیکیورٹی کے شعبے میں ٹیکنالوجی کا استعمال قابل فخر ہے، وزیراعظم
  • حملہ ہوا تو خلیج میں امریکہ سے منسلک پلوں اور بجلی گھروں کو نشانہ بنائیں گے، ایران
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم