Islam Times:
2026-07-24@09:01:11 GMT

ٹرمپ منصوبہ اور اسرائیلی کابینہ میں اختلافات

اشاعت کی تاریخ: 6th, October 2025 GMT

ٹرمپ منصوبہ اور اسرائیلی کابینہ میں اختلافات

اسلام ٹائمز: نیتن یاہو کی کابینہ میں یہ اختلافات انکے عہدیداروں کے بیانات میں بھی سامنے آئے ہیں۔ ایک بیان میں اسرائیلی کابینہ کے ترجمان نے کہا کہ غزہ میں جنگ بندی نام کی کوئی چیز نہیں ہے بلکہ صرف حملوں اور بم دھماکوں کو عارضی طور پر روک دیا گیا ہے۔ دریں اثناء، Ma'ariv پول سے پتہ چلتا ہے کہ 53 فیصد اسرائیلی اور 41 فیصد ووٹرز حکمران اتحاد کی حمایت کرتے ہیں، لیکن دائیں بازو کے وزراء نے حکومت کو گرانے کی دھمکی دی ہے۔ قومی سلامتی کے وزیر ایتمار بین گویر کا کہنا ہے کہ ہم کسی ایسی قومی شکست کا حصہ نہیں بنیں گے، جو ا ابدی رسوائی ہو اور اگلے قتل عام کیلئے ٹائم بم بن جائے۔ تحریر: سید رضی عمادی

غزہ کے عوام کے خلاف صیہونی حکومت کی نسل کشی کے دوسرے سال کے اختتام کے موقع پر صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے غزہ میں جنگ بندی کا دعویٰ کرتے ہوئے 20 نکاتی منصوبہ پیش کیا ہے۔ غزہ جنگ کے خاتمے کے لیے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے 20 نکاتی منصوبے پر تحریک حماس نے مشروط آمادگی کا اعلان کیا ہے۔ جنگ بندی اور قیدیوں کا تبادلہ، غزہ سے اسرائیلی افواج کا انخلاء، غزہ کی تعمیر نو، عبوری حکومت کی تشکیل اور حماس کو غیر مسلح کرنا ٹرمپ کے غزہ سے متعلق منصوبے کی اہم شقوں میں شامل ہے۔ حماس کے اس منصوبے پر مشروط آمادگی کے بعد اسرائیلی کابینہ کے اندر اختلافات شروع ہوگئے ہیں۔

اگرچہ نیتن یاہو پہلے ہی ٹرمپ کے منصوبے سے اتفاق کرچکا ہے، لیکن اس معاملے میں اسرائیلی کابینہ کے اندر شدید اختلافات پائے جاتے ہیں۔ یہ اختلاف کئی محوروں کے گرد گھومتے ہیں۔ پہلا محور یہ ہے کہ کابینہ کے کچھ ارکان، بشمول بین گویر اور سموٹریج یعنی داخلی سلامتی اور مالیات کے وزراء، اس منصوبے کے شدید مخالف ہیں اور ان کا خیال ہے کہ غزہ میں جنگ جاری رہنی چاہیئے۔ دوسرے لفظوں میں یہ لوگ اس غلط تجویز پر اصرار کرتے رہتے ہیں کہ صہیونی قیدیوں کو جنگ کے ذریعے آزاد کرنا ممکن ہے اور حماس کے ساتھ سیاسی معاہدے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ وہ اس معاہدے کو حماس کے لیے سیاسی رعایت سمجھتے ہیں۔

نیتن یاہو کی کابینہ میں اختلاف کا ایک اور محور اسرائیل کے غزہ پٹی سے انخلاء سے متعلق ہے۔ غزہ سے اسرائیل کے فوجی انخلاء کو نیتن یاہو کی کابینہ کے دائیں بازو کے وزراء کی مزاحمت کا سامنا ہے، جو حماس کے مکمل خاتمے تک جنگ جاری رکھنا چاہتے ہیں۔ دوسری جانب نیتن یاہو کی کابینہ کے کچھ ارکان کا خیال ہے کہ غزہ سے انخلاء اس پٹی پر مکمل قبضے کے منصوبے سے متصادم ہے۔ اس لیے وہ نہ صرف غزہ سے انخلاء بلکہ اس پٹی میں عبوری حکومت کی تشکیل کے منصوبے کی بھی مخالفت کرتے ہیں، کیونکہ حماس نے ٹرمپ کے منصوبے کے جواب میں غزہ میں ایک آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کا اعلان کیا تھا۔ حماس نے اگرچہ غزہ کی انتظامیہ پر بین الاقوامی نگرانی کی واضح طور پر مخالفت نہیں کی ہے، لیکن اس نے ایک آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کی ضرورت پر زور دیا ہے۔

نیتن یاہو کی کابینہ میں یہ اختلافات ان کے عہدیداروں کے بیانات میں بھی سامنے آئے ہیں۔ ایک بیان میں اسرائیلی کابینہ کے ترجمان نے کہا کہ غزہ میں جنگ بندی نام کی کوئی چیز نہیں ہے بلکہ صرف حملوں اور بم دھماکوں کو عارضی طور پر روک دیا گیا ہے۔ دریں اثناء، Ma'ariv پول سے پتہ چلتا ہے کہ 53 فیصد اسرائیلی اور 41 فیصد ووٹرز حکمران اتحاد کی حمایت کرتے ہیں، لیکن دائیں بازو کے وزراء نے حکومت کو گرانے کی دھمکی دی ہے۔ قومی سلامتی کے وزیر ایتمار بین گویر کا کہنا ہے کہ ہم کسی ایسی قومی شکست کا حصہ نہیں بنیں گے، جو ا ابدی رسوائی ہو اور اگلے قتل عام کے لیے ٹائم بم بن جائے۔

اسرائیلی کابینہ میں ان اختلافات کو دیکھتے ہوئے یہ بات ذہن میں آتی ہے کہ ٹرمپ یا نیتن یاہو یا دونوں حماس کے ردعمل کا فائدہ اٹھا کر تمام اسرائیلی قیدیوں کو رہا کرنے اور اس سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کر رہے ہیں اور اسی لیے حماس کی بالواسطہ مخالفت کے باوجود امریکی صدر نے فی الوقت اپنے دیگر مطالبات کے حوالے سے  تحمل کا مظاہرہ کیا اور ہر طرح کے ردعمل کو قبول کیا۔ تاہم غزہ پر حملے روکنے کا دعویٰ کرنے والی صیہونی حکومت نے گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران مزید 65 فلسطینیوں کو شہید کیا ہے، جس سے غزہ میں جنگ بندی کے قیام کے ٹرمپ کے منصوبے کی کامیابی غیر واضح نظر آرہی ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: نیتن یاہو کی کابینہ اسرائیلی کابینہ کے کابینہ میں کے منصوبے کے وزراء حماس کے ٹرمپ کے کہ غزہ

پڑھیں:

ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدہ ابراہیمی معاہدہ میں شمولیت سے مشروط کر دیا

امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ مجوزہ سول جوہری معاہدے کومعاہدہ ابراہیمی (Abraham Accords) میں سعودی شمولیت سے مشروط کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ معاہدے کے تحت سعودی عرب کو کسی بھی صورت یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر جاری بیان میں کہا کہ امریکا کے محکمہ توانائی اور سعودی عرب کے درمیان زیر غور سول جوہری معاہدہ صرف پرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ یہ پروگرام ایران، متحدہ عرب امارات اور دیگر ممالک کے سول جوہری پروگراموں کی طرز پر ہوگا، تاہم اس میں یورینیم افزودگی کی اجازت شامل نہیں ہوگی۔

امریکی صدر نے کہا کہ معاہدے کی منظوری ضرور دی جائے گی، لیکن اس کی بنیادی شرط یہ ہوگی کہ سعودی عرب باعزت اور باہمی احترام پر مبنی معاہدہ ابراہیمی میں شامل ہو۔ ان کے مطابق امریکا کو ایسے سول جوہری مراکز پر کوئی اعتراض نہیں جو مکمل طور پر پرامن مقاصد کے لیے قائم کیے جائیں اور جن میں یورینیم افزودہ نہ کیا جائے۔

دوسری جانب اسرائیلی وزیراعظم کے دفتر نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ اگر سعودی عرب معاہدہ ابراہیمی میں شامل ہوتا ہے تو یہ مشرق وسطیٰ میں امن کے لیے ایک تاریخی پیش رفت ہوگی۔ بیان میں کہا گیا کہ حالیہ علاقائی پیش رفت کے بعد خطے میں امن کے دائرے کو مزید وسعت دینے کا موقع پیدا ہوا ہے، تاہم اسرائیلی حکومت نے امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے پر براہ راست کوئی تبصرہ نہیں کیا۔

ادھر امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل کی ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ صدر ٹرمپ سعودی عرب کے ساتھ 30 سالہ سول جوہری معاہدے کی اصولی منظوری دے چکے ہیں، جسے اب کانگریس کی منظوری درکار ہوگی۔ رپورٹ کے مطابق اس معاہدے کی مالیت کئی ارب ڈالر ہو سکتی ہے اور اس کے ذریعے سعودی عرب کو جوہری توانائی کی جدید ٹیکنالوجی تک رسائی حاصل ہوگی۔

تاہم اسرائیل میں اس مجوزہ معاہدے پر تحفظات بھی سامنے آئے ہیں۔ سابق اسرائیلی وزیر دفاع اویگدور لائبرمین نے اسے اسرائیل کے لیے اسٹریٹیجک خطرہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ہر فوجی جوہری پروگرام کی ابتدا سول جوہری پروگرام سے ہوتی ہے اور اگر سعودی عرب کو اپنی سرزمین پر یورینیم افزودگی کی اجازت دی گئی تو اس سے مشرق وسطیٰ میں جوہری ہتھیاروں کی نئی دوڑ شروع ہونے کا خدشہ پیدا ہو سکتا ہے۔

واضح رہے کہ معاہدہ ابراہیمی کا آغاز 2020 میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پہلے دورِ صدارت میں ہوا تھا، جس کا مقصد اسرائیل اور مختلف عرب و مسلم ممالک کے درمیان سفارتی، اقتصادی اور سکیورٹی تعلقات کو فروغ دینا تھا۔ اس معاہدے کے تحت متحدہ عرب امارات، بحرین، مراکش اور سوڈان اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لا چکے ہیں، جبکہ سعودی عرب کی ممکنہ شمولیت کو خطے کی سفارتی تاریخ میں ایک اہم پیش رفت تصور کیا جا رہا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • مغربی کنارے میں اسرائیلی فورسز اور آبادکاروں کا دھاوا، 4 فلسطینی شہید
  • ایمنسٹی انٹرنیشنل کا نیتن یاہو کی گرفتاری کا مطالبہ، آئی سی سی میں مقدمہ چلانے پر زور
  • سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو
  • ’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدہ ابراہیمی معاہدہ میں شمولیت سے مشروط کر دیا
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
  • سرکاری ملازمین کے سفری اور تفریقی الاؤنس میں اضافے کی منظوری، نئی شرحیں جاری
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
  • سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل
  • سندھ کابینہ نے صوبے کے سرکاری ملازمین کے کنوینس الاؤنس میں اضافہ کر دیا ہے، شرجیل میمن