ٹرمپ منصوبہ اور اسرائیلی کابینہ میں اختلافات
اشاعت کی تاریخ: 6th, October 2025 GMT
اسلام ٹائمز: نیتن یاہو کی کابینہ میں یہ اختلافات انکے عہدیداروں کے بیانات میں بھی سامنے آئے ہیں۔ ایک بیان میں اسرائیلی کابینہ کے ترجمان نے کہا کہ غزہ میں جنگ بندی نام کی کوئی چیز نہیں ہے بلکہ صرف حملوں اور بم دھماکوں کو عارضی طور پر روک دیا گیا ہے۔ دریں اثناء، Ma'ariv پول سے پتہ چلتا ہے کہ 53 فیصد اسرائیلی اور 41 فیصد ووٹرز حکمران اتحاد کی حمایت کرتے ہیں، لیکن دائیں بازو کے وزراء نے حکومت کو گرانے کی دھمکی دی ہے۔ قومی سلامتی کے وزیر ایتمار بین گویر کا کہنا ہے کہ ہم کسی ایسی قومی شکست کا حصہ نہیں بنیں گے، جو ا ابدی رسوائی ہو اور اگلے قتل عام کیلئے ٹائم بم بن جائے۔ تحریر: سید رضی عمادی
غزہ کے عوام کے خلاف صیہونی حکومت کی نسل کشی کے دوسرے سال کے اختتام کے موقع پر صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے غزہ میں جنگ بندی کا دعویٰ کرتے ہوئے 20 نکاتی منصوبہ پیش کیا ہے۔ غزہ جنگ کے خاتمے کے لیے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے 20 نکاتی منصوبے پر تحریک حماس نے مشروط آمادگی کا اعلان کیا ہے۔ جنگ بندی اور قیدیوں کا تبادلہ، غزہ سے اسرائیلی افواج کا انخلاء، غزہ کی تعمیر نو، عبوری حکومت کی تشکیل اور حماس کو غیر مسلح کرنا ٹرمپ کے غزہ سے متعلق منصوبے کی اہم شقوں میں شامل ہے۔ حماس کے اس منصوبے پر مشروط آمادگی کے بعد اسرائیلی کابینہ کے اندر اختلافات شروع ہوگئے ہیں۔
اگرچہ نیتن یاہو پہلے ہی ٹرمپ کے منصوبے سے اتفاق کرچکا ہے، لیکن اس معاملے میں اسرائیلی کابینہ کے اندر شدید اختلافات پائے جاتے ہیں۔ یہ اختلاف کئی محوروں کے گرد گھومتے ہیں۔ پہلا محور یہ ہے کہ کابینہ کے کچھ ارکان، بشمول بین گویر اور سموٹریج یعنی داخلی سلامتی اور مالیات کے وزراء، اس منصوبے کے شدید مخالف ہیں اور ان کا خیال ہے کہ غزہ میں جنگ جاری رہنی چاہیئے۔ دوسرے لفظوں میں یہ لوگ اس غلط تجویز پر اصرار کرتے رہتے ہیں کہ صہیونی قیدیوں کو جنگ کے ذریعے آزاد کرنا ممکن ہے اور حماس کے ساتھ سیاسی معاہدے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ وہ اس معاہدے کو حماس کے لیے سیاسی رعایت سمجھتے ہیں۔
نیتن یاہو کی کابینہ میں اختلاف کا ایک اور محور اسرائیل کے غزہ پٹی سے انخلاء سے متعلق ہے۔ غزہ سے اسرائیل کے فوجی انخلاء کو نیتن یاہو کی کابینہ کے دائیں بازو کے وزراء کی مزاحمت کا سامنا ہے، جو حماس کے مکمل خاتمے تک جنگ جاری رکھنا چاہتے ہیں۔ دوسری جانب نیتن یاہو کی کابینہ کے کچھ ارکان کا خیال ہے کہ غزہ سے انخلاء اس پٹی پر مکمل قبضے کے منصوبے سے متصادم ہے۔ اس لیے وہ نہ صرف غزہ سے انخلاء بلکہ اس پٹی میں عبوری حکومت کی تشکیل کے منصوبے کی بھی مخالفت کرتے ہیں، کیونکہ حماس نے ٹرمپ کے منصوبے کے جواب میں غزہ میں ایک آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کا اعلان کیا تھا۔ حماس نے اگرچہ غزہ کی انتظامیہ پر بین الاقوامی نگرانی کی واضح طور پر مخالفت نہیں کی ہے، لیکن اس نے ایک آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کی ضرورت پر زور دیا ہے۔
نیتن یاہو کی کابینہ میں یہ اختلافات ان کے عہدیداروں کے بیانات میں بھی سامنے آئے ہیں۔ ایک بیان میں اسرائیلی کابینہ کے ترجمان نے کہا کہ غزہ میں جنگ بندی نام کی کوئی چیز نہیں ہے بلکہ صرف حملوں اور بم دھماکوں کو عارضی طور پر روک دیا گیا ہے۔ دریں اثناء، Ma'ariv پول سے پتہ چلتا ہے کہ 53 فیصد اسرائیلی اور 41 فیصد ووٹرز حکمران اتحاد کی حمایت کرتے ہیں، لیکن دائیں بازو کے وزراء نے حکومت کو گرانے کی دھمکی دی ہے۔ قومی سلامتی کے وزیر ایتمار بین گویر کا کہنا ہے کہ ہم کسی ایسی قومی شکست کا حصہ نہیں بنیں گے، جو ا ابدی رسوائی ہو اور اگلے قتل عام کے لیے ٹائم بم بن جائے۔
اسرائیلی کابینہ میں ان اختلافات کو دیکھتے ہوئے یہ بات ذہن میں آتی ہے کہ ٹرمپ یا نیتن یاہو یا دونوں حماس کے ردعمل کا فائدہ اٹھا کر تمام اسرائیلی قیدیوں کو رہا کرنے اور اس سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کر رہے ہیں اور اسی لیے حماس کی بالواسطہ مخالفت کے باوجود امریکی صدر نے فی الوقت اپنے دیگر مطالبات کے حوالے سے تحمل کا مظاہرہ کیا اور ہر طرح کے ردعمل کو قبول کیا۔ تاہم غزہ پر حملے روکنے کا دعویٰ کرنے والی صیہونی حکومت نے گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران مزید 65 فلسطینیوں کو شہید کیا ہے، جس سے غزہ میں جنگ بندی کے قیام کے ٹرمپ کے منصوبے کی کامیابی غیر واضح نظر آرہی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: نیتن یاہو کی کابینہ اسرائیلی کابینہ کے کابینہ میں کے منصوبے کے وزراء حماس کے ٹرمپ کے کہ غزہ
پڑھیں:
فراہمی آب کا ’کے فور منصوبہ‘ مزید تاخیر کا شکار، 2029ء تک مکمل ہونے کا امکان
12 سال پہلے یہ منصوہہ 25 ارب روپے مکمل ہو جانا تھا، تاہم اب اس کی لاگت 200 ارب روپے سے زائد ہو چکی ہے اور آنے والے وقت تخمینی لاگت میں مزید اضافہ کا بھی امکان ہے۔ اسلام ٹائمز۔ شہر قائد میں اضافی پانی کا منصوبہ ’کے فور‘ کی تکمیل میں مزید تین سال لگ سکتے ہے، جبکہ منصوبے کا اصل کام تو ابھی شروع ہی نہیں ہوا، جب وہ ہوگا تو شہر کی مرکزی سڑکیں متاثر ہوگی، حکام نے بتایا کہ 12 سال پہلے یہ منصوہہ 25 ارب روپے مکمل ہو جانا تھا، تاہم اب اس کی لاگت 200 ارب روپے سے زائد ہو چکی ہے اور آنے والے وقت تخمینی لاگت میں مزید اضافہ کا بھی امکان ہے۔ تفصیلات کے مطابق کراچی میں پانی کی طلب 1 ارب 20 کروڑ گیلن ہے، جبکہ رسد 65 کروڑ گیلن ہے شہر کو مزید پانی فراہم کرنے کیلئے کے فور منصوبہ بنانے کا اعلان کیا تھا، لیکن حکومتین تبدیل ہوتی رہی لیکن یہ منصوبہ 20 سال سے زیر التواء ہے۔ 2014ء میں اس منصوبے کو وفاق اور سندھ حکومت نے مل کر بنانا تھا، جس کی لاگت 25 ارب روپے بتائی گئی تھی لیکن پھر کھٹائی میں پڑ گیا، تاہم پھر اس کو واپڈا کو دیا گیا اور اس کی مکمل ہونے کی ڈیڈ لائن بھی دی گئی لیکن اس میں مکمل نہیں ہو سکا۔ کئی ڈیڈ لائن گزر گئیں لیکن منصوبہ مکمل نہیں ہوسکا، تاہم اب وفاقی وزیر احسن اقبال نے دسمبر 2026ء کی ڈیڈ لائن دی ہے۔
کے فور منصوبہ 2026ء میں بھی مکمل نہیں ہو سکے گا، اس کی مکمل ہونے کا امکان 2029ء کی جنوری تک ہے۔ کے فور منصوبے پر وفاق کی جانب سے تین کام کئے جانے ہیں، جن میں ٹراسمیشن لائن، پمپنگ اسٹیشن اور فلٹر پلانٹ بنانے کے کام کی ذمہ داری ہے، جبکہ سندھ حکومت کے پاس چار کام کرنے تھے، اس میں اراضی مہیا کرنا، آگمینٹیشن، الیکٹرک سپلائی اور اری گیشن کی ذمہ داری تھی، جو کینچھر جیل سے پانی فراہم کرنے میں مدد کریگا۔ اس منصوبے کا ابھی بہت کام کرنا باقی ہے، آگمیٹیشن کا نیپا سے حسن اسکوائر کا نومبر 2025ء سے اب تک کام مکمل نہیں ہوسکا، بلکہ بین الاقومی مالیاتی ادارے نے اس کو غیر معیاری قرار دے دیا ہے اور ابھی تو بہت کام باقی ہے، جب یہ لائنیں شہر کی مرکزی راستوں میں ڈالی جائیں گی اس وقت شہریوں کو آمدورفت میں مزید مشکلات کا سامنا کرنا پڑیگا۔