Islam Times:
2026-07-24@06:38:39 GMT

فلسطینی مزاحمت کی 6 اسٹریٹجک کامیابیاں

اشاعت کی تاریخ: 6th, October 2025 GMT

فلسطینی مزاحمت کی 6 اسٹریٹجک کامیابیاں

اسلام ٹائمز: ٹرمپ کا امن منصوبہ نہ صرف حماس کو کمزور کرنے میں ناکام رہا، بلکہ اس نے امریکہ اور اسرائیل کی اسٹریٹجک ناکامیوں کو مزید نمایاں کر دیا۔ حماس نے نہ صرف اپنی شرائط پر قائم رہ کر مذاکرات کیے، بلکہ عالمی سطح پر فلسطینی مزاحمت کو ایک نئی اخلاقی اور سیاسی قوت عطا ہوئی۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ مزاحمت، حکمت اور عوامی حمایت کے امتزاج سے عالمی طاقتوں کی منصوبہ بندی کو شکست دی جا سکتی ہے۔  تحریر: محمدرضا دہقان

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے فلسطینی تنظیم حماس کو پیش کردہ "20 نکاتی امن منصوبہ" بظاہر جنگ بندی، قیدیوں کے تبادلے اور غزہ کے انتظام کے لیے بین الاقوامی کمیٹی کی تشکیل پر مبنی ہے۔ تجزیہ نگاروں کے مطابق اس منصوبے کے اصل اہداف حماس کو غیر مسلح کرنا اور غزہ کو سابق برطانوی وزیرِاعظم ٹونی بلیئر کے حوالے کرنا ہیں۔ حماس نے اس منصوبے کو مکمل طور پر مسترد نہیں کیا، بلکہ مذاکرات میں شرکت کے لئے دو بنیادی شرائط پر سامنے رکھی ہیں: یر
1۔ مسلح ہونے سے انکار
2۔ غزہ کا انتظام فلسطینی داخلی قوتوں کے ہاتھوں میں رہنا
یہی وہ مقام ہے، جہاں سے حماس کی کامیابی اور امریکہ، اسرائیل، یورپ اور اسرائیل دوست عرب حکومتوں کی چھ اسٹریٹجک شکستوں کی وضاحت ہوتی ہے۔

پہلی کامیابی: استعمار کا حماس کو شکست دینے کا خواب چکنا چور
ابتدائی طور پر تجزیہ کاروں نے سمجھا تھا کہ حماس نے ٹرمپ کے امن منصووبے کا جواب دیکر شکست قبول کر لی ہے، لیکن زمینی حقائق کچھ اور بتاتے ہیں۔ جیسا کہ رہبر انقلاب اسلامی آیت اللہ سید علی خامنہ ای نے 9 جنوری 2024 کو فرمایا تھا کہ انہوں نے دعویٰ کیا تھا کہ یہ حماس کو ختم کریں گے لیکن اس میں ناکام رہے، اسی طرح دشمن نے کہا تھا کہ وہ غزہ کے عوام کو یہاں سے منتقل کریں گے لیکن اس میں بھی ناکام رہے، انہوں نے یہ دعویٰ بھی کیا تھا کہ مزاحمت کی کارروائیوں کو روکیں گے لیکن اس میں کامیاب نہیں ہوسکے۔

دوسری کامیابی: غزہ ان کے لئے دلدل ثابت ہوا
صہیونی حکومت کا غزہ میں جارحیت کا ارتکاب اور غزہ کو خالی کروا کے اس پر قبضے کا خواب خود اس کے لیے دلدل بن گیا۔ اس بارے میں بھی رہبر انقلاب نے 20 مارچ 2024 کو فرمایا تھا کہ آج اگر وہ غزہ سے نکلیں تو بھی ان کی شکست ہے، اور اگر نہ نکلیں تب بھی شکست خوردہ ہیں، صہیونی حکومت کا یہی مقدر ہے۔

تیسری کامیابی: حماس کے واضح اور ٹھوس مطالبات
ٹرمپ کی جانب سے اسرائیل کو جرائم سے بری کروانے اور تحفظ دینے کے لئے جو امن منصوبہ پیش کیا گیا، اس کے جواب میں حماس نے مذاکرات میں شرکت کے لئے جس طرح مطالبات اور نکات رکھ کر اس پر بات چیت سے انکار نہیں کیا، یہ حماس نے درایت ہے، بظاہر منصوبے کے ساتھ چل رہے ہیں، لیکن اصل مطالبات پیش کیے اور ٹرمپ و نیتن یاہو کو ان کے اپنے ہی جال میں پھنسا دیا۔

چوتھی کامیابی: امریکا اپنے مؤقف سے ہٹنا
ٹرمپ کا امن منصوبہ کے بارے میں اب جو موقف سامنے آ رہا ہے، دراصل وہی مؤقف ہے جو حماس پہلے ہی پیش کر چکی تھی۔ حماس نے پہلے ہی کہا تھا کہ وہ غزہ کا انتظام سنبھالنے کو تیار ہے، بشرطیکہ قابض حکومت پیچھے ہٹے اور جنگ ختم ہو۔ اب امریکہ اسی مؤقف کو "امن منصوبہ" کے طور پر پیش کر رہا ہے۔

پانچویں کامیابی: عالمی سطح پر اسرائیل کی بدنامی
7 اکتوبر کے بعد اسرائیل نہ صرف اپنے کسی بھی ہدف کو حاصل نہ کر سکا، بلکہ دنیا بھر میں عوامی رائے اس کے خلاف ہو گئی۔ جیسا کہ رہبر انقلاب نے 23 مئی 2024 کو فرمایا کہ "آج دنیا مزاحمت کے حق میں نعرے لگا رہی ہے، کون سوچ سکتا تھا کہ امریکہ کی یونیورسٹیوں میں فلسطین کے حق میں نعرے لگیں گے، فلسطینی پرچم بلند کیے جائیں گے؟ یہ سب ہو چکا ہے۔ 

چھٹی کامیابی: اسرائیل کو مسلسل ذلت آمیز پسپائی
ٹرمپ کے امن منصوبے کے بعد حماس کی طرف سے مذاکرات جاری رکھنے کا اعلان یہ تازہ شکست ان ذلتوں کا تسلسل ہے، جو اسرائیل نے حالیہ برسوں میں برداشت کی ہیں، جن میں سابقہ قیدیوں کی رہائی کے معاہدے بھی شامل ہیں، جنہیں حماس نے مہارت سے ہاتھ سے جانے نہیں دیا۔ اس بارے میں بھی رہبر انقلاب نے 23 مئی 2024 کو فرمایا تھا کہ اللہ کا پہلا وعدہ آپ کے لیے پورا ہو چکا ہے، کہ کتنی ہی چھوٹی جماعتیں اللہ کے حکم سے بڑی جماعتوں پر غالب آئی ہیں۔ تم ایک چھوٹی جماعت ہو جو امریکہ، نیٹو، برطانیہ اور دیگر پر غالب آ گئی ہے۔ پس وہ دوسرا وعدہ بھی، یعنی اسرائیل کا خاتمہ، ضرور پورا ہوگا کہ فلسطین کا قیام سمندر سے دریا تک، ان شاء اللہ وہ دن بھی تم دیکھو گے۔

ٹرمپ کا امن منصوبہ نہ صرف حماس کو کمزور کرنے میں ناکام رہا، بلکہ اس نے امریکہ اور اسرائیل کی اسٹریٹجک ناکامیوں کو مزید نمایاں کر دیا۔ حماس نے نہ صرف اپنی شرائط پر قائم رہ کر مذاکرات کیے، بلکہ عالمی سطح پر فلسطینی مزاحمت کو ایک نئی اخلاقی اور سیاسی قوت عطا ہوئی۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ مزاحمت، حکمت اور عوامی حمایت کے امتزاج سے عالمی طاقتوں کی منصوبہ بندی کو شکست دی جا سکتی ہے۔ 

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: رہبر انقلاب کو فرمایا حماس کو تھا کہ کے لئے

پڑھیں:

سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل

نیتن یاہو - فوٹو: فائل

اسرائیلی وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سعودی عرب پر سول جوہری معاہدے کےلیے ابراہیمی معاہدے میں شمولیت کی شرط سے متعلق ردِ عمل دے دیا۔ 

برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری ایک بیان میں اسرائیلی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ سعودی عرب کا ’ابراہیمی معاہدے‘ میں شامل ہونا مشرقِ وسطیٰ میں امن و سلامتی کے لیے تاریخی اور عظیم پیش رفت ہوگی۔

خیال رہے کہ نیتن یاہو کی جانب سے یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس اعلان کے بعد سامنے آیا جس میں انہوں نے امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان ہونے والے سول جوہری معاہدے کا ذکر کیا تھا۔

سعودی عرب سے جوہری معاہدہ، ٹرمپ نے ابراہیمی معاہدے میں شمولیت کی شرط رکھ دی

اپنے بیان میں امریکی صدر کا کہنا تھا کہ امریکی محکمہ توانائی اور سعودی عرب کے درمیان سول جوہری معاہدہ منظور کرلیا جائے گا۔

صدر ٹرمپ نے واضح طور پر یہ شرط رکھی تھی کہ امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان یہ سول جوہری معاہدہ اسی صورت ممکن ہوگا جب سعودی عرب باضابطہ طور پر ’ابراہیمی معاہدے‘ کا حصہ بنے گا۔

تاہم یہ علم میں رہے کہ اپنے بیان میں اسرائیلی وزیراعظم نے امریکہ اور سعودی عرب کے اس سول جوہری معاہدے کا براہِ راست کوئی تذکرہ نہیں کیا۔

متعلقہ مضامین

  • ویژن 2030 نے سعودی معاشرے کو نئی سمت دے دی، خواتین، صحت اور ثقافت کے شعبوں میں نمایاں کامیابیاں
  • ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
  • سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو
  • ’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
  • امریکی ایوان نمائندگان کی ٹرمپ کو ایران جنگ روکنے کی ہدایت، قرارداد منظور
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدہ ابراہیمی معاہدہ میں شمولیت سے مشروط کر دیا
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
  • سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل