اسرائیل خونی بھیڑیا ہے اور دنیا خصوصا عالم اسلام کے حکمران تماشائی بنے ہوئے ہیں، محمد ایوب مغل
اشاعت کی تاریخ: 6th, October 2025 GMT
جمعیت علمائے پاکستان کے زیراہتمام منعقدہ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے رہنمائوں کا کہنا تھا کہ غزہ پر اسرائیلی ظلم پر بین الاقوامی طاقتوں کی خاموشی اور عالم اسلام کی طرف سے عملی اقدامات نہ کرنا معنی خیز اور شرمناک ہے، امریکی صدر کا حماس کو بار بار جارہانہ انداز میں حکم دینا جدید دور میں ظلم کی انتہا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ جمعیت علمائے پاکستان نورانی ضلع ملتان کے زیراہتمام پریس کلب ملتان میں غزہ کی پکار اسرائیل مردہ باد سیمینار منعقد ہوا، جس کی صدارت جمعیت جنوبی پنجاب کے صدر محمد ایوب مغل نے کی، جماعت اہل سنت پنجاب کے ناظم اعلی علامہ محمد فاروق خان سعیدی، صاحزادہ معصوم میاں نقشبندی اور یونس غازی کی خصوصی شرکت، مفتی عثمان پسروری نے خطاب کیا۔ مقررین نے خطاب کرتے ہوئے کہا غزہ پر اسرائیلی ظلم پر بین الاقوامی طاقتوں کی خاموشی اور عالم اسلام کی طرف سے عملی اقدامات نہ کرنا معنی خیز اور شرمناک ہے، امریکی صدر کا حماس کو بار بار جارہانہ انداز میں حکم دینا جدید دور میں ظلم کی انتہا ہے، اسرائیل خونی بھیڑیا ہے اور دنیا خصوصا عالم اسلام کے حکمران تماشائی بنے ہوئے ہیں، جس پر پوری دنیا کی عوام سڑکوں پر نکل کر سراپا احتجاج ہیں، اگر امریکہ اور اسرائیل کو غزہ میں مسلمانوں کے خون سے عملی طور پر نہ روکا گیا تو یہ جنگی جنون کی آگ پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے کر دم لے گی۔ حکومت پاکستان سابق سینٹر مشتاق احمد خان کو اسرائیلی ظالمانہ حراست سے رہائی دلا کر پاکستان لائے، حماس کی ہمت اور استقامت کو بھی سلام ہے، دو سالہ امریکہ کی سرپرستی میں اسرائیلی ظلم و جبر کے باوجود تنہا اپنے قدموں پر کھڑے ہو کر بین الاقوامی قوت کے مقابلے پر ہے، یہ بھی حقیقت ہے کہ موجودہ ظلم کو روکنے کا واحد حل جذبہ جہاد کے زندہ ہونے میں ہے۔
رہنمائوں نے کہا کہ پاکستانی عوام کو دیگر اقوام کی طرح سڑکوں پر نکل کر دنیا کے سامنے بھرپور طریقے سے احتجاج کرنا چاہیے، اس جدید دور میں بھی مسلمانوں کو علاج معالجہ اور خوراک سے محروم کرنا ظلم و بربریت کی انتہا ہے، اس پر دنیا کی خاموشی بڑا ظلم ہے جو کہ انتہائی قابل مذمت ہے، مذہبی جماعتوں کو متحد ہوکر بھرپور طریقے سے صدائے احتجاج کو بلند کرنا وقت کا تقاضا ہے، اسرائیل ناجائز ریاست ہے جو یورپ اور امریکہ نے مل کر مسلمانوں کے قتل عام کرنے کے لئے بنائی، بیت المقدس مسلمانوں کا قبلہ اول ہے، غزہ فلسطین انبیا کرام علیہم السلام کی سرزمین ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: عالم اسلام
پڑھیں:
اتحاد مذاہب کیلئے سعودی فتویٰ، مولانا زاہدالراشدی اور مولانا فضل الرحمان خلیل کی تائید
راہنماؤں نے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے مشرق وسطیٰ میں اسرائیل کے مفادات کے تحفظ اور توسیع کے لیے مسلسل سہولت کاری کی جا رہی ہے، جس کا مقصد فلسطینی عوام کے جائز حقوق کو نظرانداز کرتے ہوئے صہیونی ریاست کے توسیع پسندانہ عزائم کو عملی شکل دینا ہے۔’’ابراہیمی معاہدہ‘‘ بین المذاہب ہم آہنگی کا عنوان استعمال کرتے ہوئے مسلم ممالک کو اسرائیل کیساتھ تعلقات استوار کرنے پر آمادہ کرنے کی کوشش ہے، حالانکہ اس کے پس پردہ سیاسی اہداف اور مقاصد کسی سے پوشیدہ نہیں۔ اسلام ٹائمز۔ پاکستان شریعت کونسل کے امیر مولانا زاہدالراشدی اور انصار اُلامہ پاکستان کے امیر مولانا فضل الرحمن خلیل نے سعودی عرب کے ممتاز علماء کی جانب سے اتحاد مذاہب کے بارے میں جاری کردہ فتوے کی بھرپور تائید کرتے ہوئے کہا ہے کہ نام نہاد ابراھیمی معاہدہ درحقیقت اسرائیل کو خطے میں مستقل حیثیت دلانے اور ’’گریٹر اسرائیل‘‘ کے توسیع پسندانہ منصوبے کی راہ ہموار کرنے کی ایک خطرناک کوشش ہے، جسے عالم اسلام کسی صورت قبول نہیں کرے گا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے اسلام آباد میں باہمی ملاقات کے دوران کیا۔ اس موقع پر پاکستان شریعت کونسل کے ڈپٹی سیکرٹری جنرل مولانا عبدالرؤف محمدی، سیکرٹری اطلاعات پروفیسر حافظ محمد منیر، مولانا جمیل الرحمن فاروقی، حاجی صلاح الدین فاروقی، مفتی محمد نعمان، مولانا محمد معاویہ، سردار زاہد منان اور دیگر راہنما بھی موجود تھے۔ راہنماؤں نے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے مشرق وسطیٰ میں اسرائیل کے مفادات کے تحفظ اور توسیع کے لیے مسلسل سہولت کاری کی جا رہی ہے، جس کا مقصد فلسطینی عوام کے جائز حقوق کو نظرانداز کرتے ہوئے صہیونی ریاست کے توسیع پسندانہ عزائم کو عملی شکل دینا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ’’ابراہیمی معاہدہ‘‘ بین المذاہب ہم آہنگی کا عنوان استعمال کرتے ہوئے مسلم ممالک کو اسرائیل کیساتھ تعلقات استوار کرنے پر آمادہ کرنے کی کوشش ہے، حالانکہ اس کے پس پردہ سیاسی اہداف اور مقاصد کسی سے پوشیدہ نہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ اسرائیل نے گزشتہ کئی دہائیوں سے فلسطینی سرزمین پر ناجائز قبضہ کر رکھا ہے، لاکھوں فلسطینیوں کو ان کے گھروں سے بے دخل کیا گیا، بیت المقدس کی حیثیت تبدیل کرنے کی کوششیں کی گئیں اور غزہ سمیت فلسطینی علاقوں میں انسانیت سوز مظالم کا سلسلہ جاری ہے۔ ایسے حالات میں اسرائیل کو تسلیم کرنے یا اس کیساتھ معمول کے تعلقات قائم کرنے کا کوئی جواز موجود نہیں۔ مولانا زاہد الراشدی اور مولانا فضل الرحمن خلیل نے کہا کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی نسبت کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرنا اور اس کے نام پر مختلف مذاہب کو ایک ایسے نظریاتی فریم ورک میں جمع کرنے کی کوشش کرنا جس سے اسلامی عقائد و تعلیمات متاثر ہوں، قابل قبول نہیں۔ انہوں نے کہا کہ قرآن کریم کی تعلیمات اور امت مسلمہ کے اجماعی عقائد کی روشنی میں اسلام اپنی مستقل شناخت اور نظریاتی اساس رکھتا ہے جسے کسی مصنوعی عنوان کے تحت خلط ملط نہیں کیا جا سکتا۔
اجلاس کے شرکاء نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پاکستان اور سعودی عرب سمیت تمام مسلم ممالک کو اسرائیل کے توسیع پسندانہ عزائم اور گریٹر اسرائیل کے منصوبے کے خلاف مشترکہ مؤقف اختیار کرنا چاہیے اور ایسی ہر کوشش کو سختی سے مسترد کر دینا چاہیے جو فلسطینی کاز کو نقصان پہنچانے یا صہیونی ریاست کو مزید تقویت دینے کا باعث بنے۔ انہوں نے عالم اسلام کے حکمرانوں، دینی قیادت اور عوام سے اپیل کی کہ وہ مسئلہ فلسطین کے حوالے سے اپنے تاریخی، دینی اور اخلاقی موقف پر ثابت قدم رہیں اور بیت المقدس اور فلسطینی عوام کے حقوق کے تحفظ کے لیے متحدہ کردار ادا کریں۔ اس موقع پر شرکاء نے فلسطینی عوام کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے عوام ہمیشہ کی طرح فلسطینی بھائیوں کے حق خود ارادیت، آزادی اور ایک آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کی جدوجہد کی حمایت جاری رکھیں گے۔