Juraat:
2026-07-24@03:28:24 GMT

ٹرمپ کاامن منصوبہ اور مسلم قیادت

اشاعت کی تاریخ: 5th, October 2025 GMT

ٹرمپ کاامن منصوبہ اور مسلم قیادت

حمیداللہ بھٹی

غزہ میں جنگ نہیںنسل کشی ہورہی ہے کیونکہ حماس کے پاس کوئی فضائی طاقت نہیں۔ ہتھیاربھی ازکار ِرفتہ ہیں اور نفری بھی تربیت یافتہ نہیں ۔نیز بھوک وپیاس سے نڈھال اور اِتنے مسائل کے باوجود اپنی شناخت کے تحفظ کی جبلت اُسے شکست تسلیم کرنے سے روکتی ہے۔ وہ تمام تر بے سروسامانی کے باوجوداپنی بساط کے مطابق دفاع میں ثابت قدم ہے۔ دوبرس سے اسرائیل کی طرف سے غزہ میں جاری نسل کشی نے دنیا کو ہلا کررکھ دیا ہے۔ اسی بناپر امریکہ اور اسرائیل کو عالمی سطح پر سفارتی تنہائی کا سامنا ہے ۔ اسرائیلی سفاکانہ بمباری پر شدید ردِ عمل آنے سے ہی برطانیہ اور فرانس جیسے ممالک بالآخر فلسطینی ریاست تسلیم کرنے پر مجبور ہوئے ہیں۔ یہ ایک ایسی تبدیلی ہے جو صدرٹرمپ جیسے مذہبی تعصب کے شکار شخص کو امن منصوبہ پیش کرنے کی طرف لائی ہے۔ اِس منصوبے کی ابتدامیں چند اہم مسلم ممالک نے حمایت کی جسے اِس بناپر مسلم قیادت کی جلد بازی سمجھاجارہا ہے کہ امن منصوبے میں نہ صرف آزاد و خود مختار فلسطینی ریاست بارے کوئی لائحہ عمل نہیں اور نہ ہی القدس شریف پر قبضہ ختم کرانے کی بابت کوئی واضح یقین دہانی ہے ۔انھی وجوہات کی بناپر ایسے قیاسات کو تقویت ملتی ہے کہ اسرائیل سے دنیا کی بڑھتی نفرت کو کم کرنے کے لیے ہی امریکہ میدان میں آیا ہے ، جس کا مسلم قیادت نے ادراک نہ کیا اور جلد بازی میں حمایت سے اپنی ساکھ دائو پر لگالی۔
فلسطین کا مسئلہ دراصل اسرائیل کا پیدا کردہ ہے۔ اگروہ جارحانہ پالیسی اورتوسیع پاسندی ترک کردے تو مشرقِ وسطیٰ میں فوری طورپر امن قائم ہو سکتا ہے، مگر اسرائیل کی توسیع پسندی نے فلسطین اتھارٹی کوچند ایک ایسے شہروں تک محدود کر دیا ہے جہاں غربت ا وربھوک و افلاس کا راج ہے جوہر حوالے سے اسرائیل کی محتاج ہے۔ فلسطین کو اِس نہج تک لانے میں پی ایل او کی حماقتوں کابھی اہم کردار ہے۔ اگر اوسلومعاہدے کے وقت یاسر عرفات جلدبازی نہ کرتے توآج فلسطینی اتھارٹی یوں بے بس ولاچار نہ ہوتی۔ جب حماس غزہ کی منتخب قیادت ہے تو امریکہ اور اسرائیل کااُسے دہشت گرد قرار دیناسمجھ سے بالاتر ہے ۔ٹرمپ امن منصوبے میں فلسطینی ریاست بارے میں تو ابہام ہے مگر حماس کی قیادت کو غیر مسلح کرنے اور ملک بدرکرنے بارے غیر مُبہم وضاحت ہے جس سے اسرائیل نوازی آشکار ہوتی ہے۔ حماس کے ہتھیارڈالنے کے بعد اسرائیلی کوانخلا کاوقت دیناجانبداری کو عیاں کرتا ہے، ا سرائیل کا قیام برطانیہ کی وجہ سے ممکن ہوا مگر اب یہ حالت ہے کہ خطے میں امریکی پالیسی کا تعین اسرائیل کرتا ہے۔ ٹرمپ امن منصوبے میں ایک بین الا قوامی عبوری اِدارے کا تصور پیش کیا گیا ہے جس کی صدارت امریکی صدر کے پاس ہوگی، جبکہ برطانیہ کے سابق وزیر اعظم ٹونی بلیئرکو اِس کاحصہ بنایا گیاہے۔ علاوہ ازیں غزہ کی مستقبل میں دیکھ بھال کے لیے ٹرمپ نے اپنے صیہونی داماد جیرڈکشنر کو بھی اہم کردار تفویض کیا ہے، یہ سب امن پسندوں کوچونکانے کا باعث ہے امن منصوبہ کسی سازش کاپیش خیمہ معلوم ہوتا ہے جسے مسلم امہ کو سمجھنا چاہیے۔
صدر ٹرمپ کا دعویٰ ہے کہ انھوں نے آٹھ بڑے مسلم ممالک کی مشاورت سے امن منصوبہ پیش کیا جس کی پاکستان سمیت سب نے حمایت کی ہے مگرحمایتی امن منصوبے کے خدوخال سامنے آنے پراب پریشان لگتے ہیں اور اپنی لاتعلقی ظاہرکرر ہے ہیں۔ قطر نے تحفظات کا اظہار کیا ہے پاکستان بھی اب فاصلہ اختیار کرتا نظر آتا ہے جبکہ حماس نے بھی امن منصوبہ رَد کر دیا ہے تواعتماد کا شکار امریکہ کوحالات کی سنگینی کاکچھ احساس ہواہے اور وہ دوست ممالک کو اعتماد میں لینے لگا ہے ۔قطر کو دفاع کی یقین دہانی کرائی گئی ہے جبکہ شہباز شریف اور فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیرکے ساتھ ہونے کے دعویٰ پر اسحاق ڈار کو کہنا پڑا ہے کہ ہم کسی ابراہم اکارڈ کا حصہ نہیں بننے جارہے، اگر مسلم قیادت جلدبازی سے گریز کرتی توشایدٹرمپ ایسی جانبداری سے کام نہ لیتے اورنہ ہی آج مسلم قیادت عوامی حلقوں میں ہدفِ تنقید بن رہی ہوتی جلدبازی کاشاخسانہ ہے کہ امن منصوبے کی حمایت کی یقین دہانی کرانے والے قطر سمیت دو عرب ممالک اب مخمصے میں ہیں کہ کیسے حماس کو منصوبہ تسلیم کرنے پر رضا مند کریں۔ اب تو یہ بھی واضح ہوگیا ہے کہ مقبوضہ علاقوں سے اسرائیلی فوج کی واپسی نیتن یاہوکی خواہش کے مطابق ہونابہت مشکل ہے۔ اسی لیے امن منصوبے میں بار بار ترامیم کرانے کی نوبت آئی مسلم قیادت کی طرف سے حمایت کے باوجود امن منصوبہ کا پایہ تکمیل کو پہنچنااِس لیے بھی مشکل ہے کہ اکثر مسلم ممالک کی قیادت عوامی اعتماد سے محروم ہے جوحمایت کے بعد اب تذبذب میںہے جو اُسے کسی غیر معمولی فیصلے سے روکتی ہے ۔
امن منصوبے میں حماس سے کہا گیا ہے کہ بہتر گھنٹوں میں زندہ یرغمالیوں کورہاکرے اور دودرجن کے قریب مردہ یرغمالیو ں کی باقیات اسرائیل کے حوالے کردے بعد گرفتار کیے گئے فلسطینیوں کواسرائیل رہا کرے گا ۔ماضی کے تجربات شاہد ہیں کہ اسرائیل وعدے پورے نہیں کرتابلکہ من مرضی سے کام لیتا ہے ۔اسی لیے تمام تر مشکلات کے باوجود حماس اب اسرائیل پر اعتماد کرنے میں ہچکچارہی ہے۔ جنگ بندی کے ایام میں حماس کی طرف سے یرغمالیوں کی رہائی ہوتے ہی اسرائیل حملے کرتارہاہے جس کے سدِ باب کے حوالے سے جب مسلم قیادت پہلے کچھ نہیں کر سکی تو اب بھی ایسا امکانات کو رَد نہیں کیا جا سکتا کہ اسرائیل امن ،اصول ،اخلاق یا انسانی ہمدردی کو خاطر میں لائے بغیر شقی القلبی سے کام لے گا اور مسلم قیادت عملی اقدامات کی بجائے محض زبانی کلامی مذمت تک محدود رہے گی ۔لہٰذابہتر یہ ہے کہ غزہ کو مزید قربانی کا بکرابننانے سے گریز کیا جائے ۔امن معاہدے پر عمل کرنا یا جان چھڑانا دونوں صورتوں میں نیتن یاہو کے لیے بھی زیادہ خوشگوار صورتحال نہیں ہو سکتی جب وہ انتہائی دائیں بازو کی متعصب جماعت کے ووٹوں کی کمزور بیساکھی کے سہارے حکومت کررہے ہیں ۔اِس صورت میں بہتر ہوگا کہ تمام فریقین کوکسی نئے امتحان میں ڈالنے کی بجائے انصاف سے کام لیاجائے ۔
غیر جانبدار حلقے متفق ہیں کہ ٹرمپ امن منصوبے سے بھلے مشرقِ وسطیٰ میں امن نہ آئے اور قبضے میں لیے گئے علاقے پروشلم وگولان کی پہاڑیایوں سے فوجی انخلا نہ ہو نیز غزہ کا محاصرہ بددستور رہے لیکن اسرائیل کو تسلیم کرانے کا دیرینہ خواب پوراہوسکتاہے۔ بہتر یہ ہے کہ اِس حقیقت کو مسلم قیادت سمجھے ایسا ہی منصوبہ عراق میں جب ناقابل قبول قرار پاچکا تو نیاتجربہ کرنادانشمندی نہیںایسے جانبداری پر مبنی منصوبے کو تسلیم کرنے سے عرب بہار جیسی بیداری کی ایک نئی لہر جنم لینے کاخدشہ بھی بعید ازقیاس نہیںہے۔ ٹرمپ امن منصوبے کی حمایت کرتے ہوئے مسلم قیادت تمام پہلوئوں کو مدِ نظر رکھے اور فلسطینیوں کے مفاد کا تحفظ یقین بنائے۔ بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناح کا دوٹوک موقف رہا ہے کہ اسرائیل مسلم دنیاکے دل میں پیوست خنجر ہے تو اسرائیل کو تسلیم کرنے کا کوئی جواز نہیں مگر دوریاستی حل کی حمایت دراصل اسرائیل کو تسلیم کرنے کے مترادف ہے اور یہی امن منصوبے کی آڑ میں ہوناہے ۔
٭٭٭

.

ذریعہ

ذریعہ: Juraat

کلیدی لفظ: سے اسرائیل مسلم قیادت اسرائیل کو کہ اسرائیل تسلیم کرنے منصوبے کی کو تسلیم ہے کہ ا سے کام کی طرف

پڑھیں:

امریکی ایوان نمائندگان کی ٹرمپ کو ایران جنگ روکنے کی ہدایت، قرارداد منظور

امریکا کے ریپبلکن اکثریتی ایوان نمائندگان (ہاؤس آف ریپریزنٹیٹوز) نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے خلاف امریکی فوجی کارروائیاں روکنے کی ہدایت دینے والی قرارداد منظور کر لی جسے کانگریس کی جانب سے صدر ٹرمپ کے لیے ایک اور علامتی پیغام قرار دیا جا رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: آبنائے ہرمز میں کسی بھی جہاز پر حملہ ہوا تو ایران کا بنیادی ڈھانچہ تباہ کردیں گے، ڈونلڈ ٹرمپ کی دھمکی

قرارداد 214 کے مقابلے میں 208 ووٹوں سے منظور ہوئی جبکہ چار ریپبلکن ارکان نے بھی ڈیموکریٹس کا ساتھ دیتے ہوئے اس کی حمایت کی۔

یہ قرارداد واشنگٹن سے تعلق رکھنے والی ڈیموکریٹ رکن پرامیلا جے پال نے پیش کی جس میں صدر ٹرمپ کو ہدایت دی گئی ہے کہ کانگریس کی منظوری کے بغیر ایران کے خلاف امریکی مسلح افواج کی کارروائیاں بند کی جائیں۔

تاہم ماہرین کے مطابق اس قرارداد کی حیثیت زیادہ تر علامتی ہے، کیونکہ حالیہ مہینوں میں بھی کانگریس اس نوعیت کی متعدد قراردادیں منظور کر چکی ہے مگر ان کے نتیجے میں جنگی کارروائیاں نہیں رک سکیں۔

مزید پڑھیے: ایران مذاکرات کے لیے بے تاب، لیکن بامعنی بات چیت ہی ہوگی، ڈونلڈ ٹرمپ

قرارداد کی حمایت کرنے والے چار ریپبلکن ارکان میں ٹام بیریٹ (مشی گن)، برائن فٹزپیٹرک (پنسلوانیا)، وارن ڈیوڈسن (اوہائیو) اور تھامس میسی (کینٹکی) شامل ہیں۔

Today, the House PASSED my bipartisan War Powers Resolution to end the war in Iran by a vote of 214-208.

This is a big victory for the vast majority of Americans who want President Trump to end this illegal war and focus on their lives right here at home. pic.twitter.com/ZaE3NtTJdP

— Rep. Pramila Jayapal (@RepJayapal) July 23, 2026

اگرچہ ریپبلکن پارٹی کو ایوان نمائندگان اور سینیٹ دونوں میں معمولی برتری حاصل ہے تاہم اس قرارداد کی منظوری کو صدر ٹرمپ کی پالیسیوں پر اپنی ہی جماعت کے بعض ارکان کے تحفظات کی علامت بھی قرار دیا جا رہا ہے۔

ادھر امریکی سینیٹ میں بھی ایران سے متعلق ایک علیحدہ مگر ملتی جلتی قرارداد پر ووٹنگ متوقع تھی۔

یہ پیشرفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب صدر ٹرمپ نے ایران کے خلاف فوجی کارروائیوں میں مزید شدت لانے کا اعلان کیا ہے اور امریکی فوجیوں کی ہلاکتوں کی بھی تصدیق کی ہے۔

مزید پڑھیں: ایران کو ایک امریکی فوجی کے قتل کی کئی گنا زیادہ قیمت چکانی پڑےگی، ڈونلڈ ٹرمپ کی تہران کو وارننگ

صدر ٹرمپ نے جمعرات کو ایران اور اس کے اتحادی یمنی حوثی گروپ کو بڑی فوجی سزا دینے کا عندیہ دیا۔ دوسری جانب، عارضی جنگ بندی کے مؤثر طور پر ختم ہونے کے 2 ہفتے بعد امریکی فوج نے ایران پر ایک اور رات فضائی حملے کیے، جس کے جواب میں ایران نے پڑوسی ممالک میں قائم امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

امریکا امریکی ایوان نمائندگان ایران امریکا کشیدگی ٹرمپ کو جنگ روکنے کی ہدایت ڈیموکریٹ رکن پرامیلا جے پال ہاؤس آف ریپریزنٹیٹوز

متعلقہ مضامین

  • ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
  • سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو
  • ’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
  • آزاد کشمیر انتخابات: استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس میں انتخابی اتحاد، سیٹ ایڈجسٹمنٹ پر اتفاق
  • امریکی ایوان نمائندگان کی ٹرمپ کو ایران جنگ روکنے کی ہدایت، قرارداد منظور
  • آزاد کشمیر الیکشن، استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد پر اتفاق
  • استحکام پاکستان پارٹی آزاد کشمیر اور آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد طے
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدہ ابراہیمی معاہدہ میں شمولیت سے مشروط کر دیا
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم