Islam Times:
2026-07-24@09:56:42 GMT

کیا حماس نے امریکہ و اسرائیل کو فریب دیا ہے؟

اشاعت کی تاریخ: 4th, October 2025 GMT

کیا حماس نے امریکہ و اسرائیل کو فریب دیا ہے؟

اپنے ایک تبصرے میں انصار الله کا کہنا تھا کہ غزہ کے لوگ گھٹن بھرے محاصرے، مسلسل حملوں اور روزانہ ہونے والی اموات کا سامنا کر رہے ہیں۔ جسے کوئی عام انسان برداشت نہیں کر سکتا۔ اسلام ٹائمز۔ گزشتہ روز فلسطین کی مقاومتی تحریک "حماس" نے غزہ میں جنگ بندی كے لئے امریکی صدر "ڈونلڈ ٹرامپ" كے پیش كردہ منصوبے كا جواب دیا۔ جس پر مختلف تجزیے اور تبصرے سامنے آ رہے ہیں۔ "انصار الله" سے مربوط یمنی نیوز ویب سائٹ  نے اپنی رپورٹ میں حماس کے جواب کو دانشمندانہ قرار دیا۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ حماس نے امریکی تجاویز کو من و عن قبول نہیں کیا۔ مذکورہ ویب سائٹ کے مطابق، حماس بارہا ثابت کر چکی ہے کہ وہ فلسطینی عوام کی اصل آواز اور ان کی دفاعی ڈھال ہے۔ حماس نے جس قسم کی قربانی دے دی ہے وہ دور بیٹھ کر باتیں اور رائے پیش کرنے سے کہیں بڑھ کر ہے۔ رپورٹ کے مطابق، حماس نے ڈونلڈ ٹرامپ کی تجویز کو مکمل طور پر قبول نہیں کیا بلکہ صرف بنیادی اصولوں سے اتفاق کیا، جیسے کہ اسرائیلی قیدیوں کو ایک یا کئی مرحلوں میں رہا کرنا۔ امریکی صدر کی تجویز میں کل 20 نکات تھے جب کہ حماس نے صرف 9 نکات سے اتفاق کیا۔ باقی نکات پر مزید بات چیت کی ضرورت ہے۔ یہ نکات نئے نہیں، بلکہ پہلے بھی حماس ان سے متفق رہی ہے۔

حماس کے لئے ٹیکنوکریٹ (ماہرین پر مشتمل) حکومت کا تصور نیا نہیں، بلکہ وہ پہلے بھی ایسی ہی حکومت بنانے کی خواہش ظاہر کر چکی ہے۔ تاہم فلسطینی مزاحمت نے اس بات پر زور دیا کہ ان نکات پر عمل درآمد کے لئے مزید مذاکرات درکار ہیں۔ لہذا، حتمی موقف ابھی تشکیل پا رہا ہے اور حتمی فیصلہ ابھی باقی ہے۔ باقی نکات سے حماس نے براہ راست اتفاق نہیں کیا، بلکہ کہا ہے کہ ان پر مزید بات چیت ہونی چاہئے۔ یہ ایک سوچا سمجھا سیاسی اور سفارتی رویہ ہے۔ البتہ حماس نے ان تجاویز کو مکمل طور پر مسترد بھی نہیں کیا، کیونکہ اس کے بعض نکات جیسے قیدیوں کی رہائی، جبری نقل مکانی کو روکنا، تعمیر نو اور جنگ بندی، فلسطینی مفاد میں ہیں۔ رپورٹ کے مطابق، ڈونلڈ ٹرامپ کی تجویز میں کچھ خامیاں بھی ہیں جن کی وجہ سے اسے موجودہ شکل میں قبول نہیں کیا جا سکتا۔ جیسے کہ اسرائیلی فوج کے غزہ سے انخلاء کی نوعیت اور استقامتی محاذ کے ہتھیار، کہ جنہیں حماس سے حاصل کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ انہی کمزوریوں کی وجہ سے حماس نے سوچ سمجھ کر محتاط رویہ اپنایا ہے۔ تاکہ وہ کسی سیاسی یا عسکری جال میں نہ پھنس جائے۔

انصار الله نے مزید کہا کہ یمنی رہنماوں نے امریکی صدر کی تجویز کے بارے میں کوئی بھی فیصلہ، فلسطینی مزاحمت پر چھوڑ دیا ہے۔ مقاومت کے حامی کی حیثیت سے ہمارا موقف اب بھی برقرار ہے۔ لہذا، فلسطینی مزاحمت جو بھی فیصلہ کرے گی، ہم اسے قبول کریں گے۔ کیونکہ سب سے زیادہ قربانی تو حماس ہی نے دی ہے۔ غزہ کے لوگ گھٹن بھرے محاصرے، مسلسل حملوں اور روزانہ ہونے والی اموات کا سامنا کر رہے ہیں۔ جسے کوئی عام انسان برداشت نہیں کر سکتا۔ ان حالات میں، ہم دنیا کی خاموشی اور عرب و اسلامی ممالک کی ناکامی کو بھی دیکھ رہے ہیں۔ اس کے باوجود انہوں نے صبر اور مزاحمت کا مظاہرہ کیا۔ آخر میں ہم کہہ سکتے ہیں کہ حماس کامیاب رہی اور ہمیں آئندہ ہونے والی پیشرفت کا انتظار کرنا چاہئے۔ یقیناً جنگ کے اس دور کا اختتام صرف اور صرف حماس و دیگر فلسطینی مزاحمتی تحریکوں کی شرائط پر ہی ہو گا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: فلسطینی مزاحمت نہیں کیا کی تجویز رہے ہیں

پڑھیں:

جبری مشقت کے خدشات: امریکہ نے پاکستان سمیت درجنوں ٹریڈ پارٹنرز پر نئے ٹیرفس لگا دیے

جبری مشقت کے خدشات: امریکہ نے پاکستان سمیت درجنوں ٹریڈ پارٹنرز پر نئے ٹیرفس لگا دیے جبری مشقت کے خدشات: امریکہ نے پاکستان سمیت درجنوں ٹریڈ پارٹنرز پر نئے ٹیرفس لگا دیے

یہ نئے محصولات صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے رواں سال عائد کیے گئے عارضی عالمی ٹیرفس کی جگہ لیں گے، جن کی مدت جمعے کو ختم ہو رہی ہے۔ امریکی حکام کے مطابق نئے ٹیرفس 24 جولائی جمعے کے دن سے نافذ العمل ہوں گے اور ان کی شرح 10 فیصد سے 12.5 فیصد تک ہو گی۔

امریکی تجارتی نمائندے جیمیسن گریئر نے کہا کہ جبری مشقت سے تیار کردہ مصنوعات کی امریکہ میں درآمد پر تقریباً ایک صدی سے پابندی عائد ہے اور اس قانون پر سختی سے عمل درآمد کیا جاتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ امریکہ کے تجارتی شراکت دار بھی اسی معیار کو اپنائیں۔

(جاری ہے)

انہوں نے مزید کہا کہ جن ممالک کو نشانہ بنایا گیا ہے وہ امریکی تجارت کے بڑے حصے کی نمائندگی کرتے ہیں۔

ٹرمپ انتظامیہ نے فروری میں سپریم کورٹ کی جانب سے متعدد ٹیرفس منسوخ کیے جانے کے بعد فوری طور پر نئی قانونی بنیادوں پر محصولات دوبارہ نافذ کرنے کی کوشش کی تھی۔ عدالت کے فیصلے نے صدر ٹرمپ کی من مانی بنیادوں پر بلند ٹیرفس عائد کرنے کی صلاحیت کو محدود کر دیا تھا۔

عدالتی فیصلے کے بعد صدر ٹرمپ نے ایک مختلف قانونی اختیار استعمال کرتے ہوئے درآمدات پر 10 فیصد عارضی ٹیرفس نافذ کیے تھے، تاہم ان کی مدت صرف 150 دن تھی، جو 24 جولائی کو ختم ہو رہی ہے۔

نئے تجویز کیے گئے محصولات انہی ٹیرفس کی جگہ لیں گے۔ کون کون سے ممالک متاثر

یہ اقدامات کئی ماہ تک جاری رہنے والی تحقیقات کے بعد مرتب کیے گئے ہیں اور ماہرین کے مطابق انہیں قانونی چیلنجز کا سامنا ہونے کی صورت میں پہلے کے مقابلے میں زیادہ مضبوط تصور کیا جا رہا ہے۔

امریکی حکام کے مطابق ارجنٹائن، بنگلہ دیش، برطانیہ، کمبوڈیا، کینیڈا، ایکواڈور، السلواڈور، گوئٹے مالا، ہونڈوراس، بھارت، انڈونیشیا، اردن، ملائیشیا، میکسیکو، پاکستان، سری لنکا اور ٹرینیڈاڈ اینڈ ٹوباگو سمیت متعدد ممالک کی مصنوعات پر 10 فیصد ٹیرفس عائد کیے جائیں گے۔

دوسری جانب یورپی یونین، تائیوان، جاپان، جنوبی کوریا اور سوئٹزرلینڈ کی مصنوعات پر یہ شرح 10 یا 12.5 فیصد ہو گی۔ اس کے علاوہ چین سمیت دیگر 38 ممالک پر 12.5 فیصد ٹیرفس نافذ کیے جائیں گے۔

نئے امریکی ٹیرفس پر مختلف ممالک کا شدید ردعمل

امریکہ کی جانب سے نئے درآمدی ٹیرفس نافذ کیے جانے کے بعد مختلف متاثرہ ممالک نے اس فیصلے پر شدید ردعمل ظاہر کرتے ہوئے انہیں غیر منصفانہ اور بلاجواز قرار دیا ہے۔

برازیل، جس کی امریکہ کو برآمدات پر نئے اقدامات کے تحت 12.5 فیصد ٹیرفس عائد کیے جائیں گے، نے امریکی فیصلے کو ’’مکمل طور پر من مانا‘‘ اور ’’بلاجواز‘‘ قرار دیا ہے۔

آسٹریلیا نے کہا ہے کہ نئے امریکی ٹیرفس ’’کسی بھی لحاظ سے قابل فہم نہیں‘‘ اور ملکی حکومت اس فیصلے پر شدید مایوس ہے۔ اب آسٹریلوی مصنوعات پر امریکی درآمدی محصولات 10 فیصد سے بڑھا کر 12.5 فیصد کر دیے جائیں گے۔

جاپان نے بھی اس امریکی اقدام پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔ جاپانی حکومت کے ترجمان نے کہا کہ ملک کی صنعتی اور تجارتی سرگرمیاں بین الاقوامی قوانین اور ضوابط کے مطابق انجام دی جاتی ہیں، اس لیے اس بنیاد پر اضافی ٹیرفس عائد کرنا مناسب نہیں۔

دباؤ برقرار رکھنے کی حکمت عملی

دریں اثنا واشنگٹن مزید 16 معیشتوں سے متعلق تحقیقات بھی کر رہا ہے، جن کے نتیجے میں مستقبل میں اضافی محصولات عائد کیے جا سکتے ہیں۔

تجارتی امور کی ماہر وکیل گریٹا پائش نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ بنیادی ٹیرفس نافذ کرنے کے ساتھ مزید محصولات کی دھمکی برقرار رکھنا امریکہ کو اپنے تجارتی شراکت داروں پر دباؤ قائم رکھنے میں مدد دیتا ہے۔

ان کے مطابق اس حکمت عملی سے ایسے ممالک کو اپنے سابقہ تجارتی معاہدوں پر عمل درآمد کی ترغیب بھی ملتی ہے، جبکہ حکومت چاہتی ہے کہ عدالتوں میں ممکنہ چیلنجز کی صورت میں نئے ٹیرفس قانونی طور پر مضبوط ثابت ہوں۔

امریکی حکام کے مطابق وہ مصنوعات جو پہلے ہی مخصوص شعبہ جاتی ٹیرفس، جیسے اسٹیل اور ایلومینیم پر عائد محصولات، کے دائرے میں آتی ہیں، ان پر نئے ٹیرفس لاگو نہیں ہوں گے۔

ادارت: مقبول ملک

متعلقہ مضامین

  • مغربی کنارے میں اسرائیلی فورسز اور آبادکاروں کا دھاوا، 4 فلسطینی شہید
  • جبری مشقت کے خدشات: امریکہ نے پاکستان سمیت درجنوں ٹریڈ پارٹنرز پر نئے ٹیرفس لگا دیے
  • مسجد اقصیٰ کی حیثیت تبدیل کرنے کی ہر کوشش مسترد، 8 اسلامی ممالک کا اسرائیل کو فوری انتباہ
  • امریکہ کا پاکستان سمیت 60 ممالک پر نئے ٹیرف عائد کرنے کا اعلان
  • نئی امریکی ویزا پالیسی پاکستانی طلبہ کے لیے مشکلات کا سبب بن سکتی ہے
  • ایران سے جنگ نے ایک اور مشکل کھڑی کر دی، امریکا کے تیل کے ذخائر 45 سال کی کم ترین سطح پر پہنچ گئے
  • سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
  • حملہ ہوا تو خلیج میں امریکہ سے منسلک پلوں اور بجلی گھروں کو نشانہ بنائیں گے، ایران
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم