Islam Times:
2026-07-24@06:08:06 GMT

کیا حماس نے امریکہ و اسرائیل کو فریب دیا ہے؟

اشاعت کی تاریخ: 4th, October 2025 GMT

کیا حماس نے امریکہ و اسرائیل کو فریب دیا ہے؟

اپنے ایک تبصرے میں انصار الله کا کہنا تھا کہ غزہ کے لوگ گھٹن بھرے محاصرے، مسلسل حملوں اور روزانہ ہونے والی اموات کا سامنا کر رہے ہیں۔ جسے کوئی عام انسان برداشت نہیں کر سکتا۔ اسلام ٹائمز۔ گزشتہ روز فلسطین کی مقاومتی تحریک "حماس" نے غزہ میں جنگ بندی كے لئے امریکی صدر "ڈونلڈ ٹرامپ" كے پیش كردہ منصوبے كا جواب دیا۔ جس پر مختلف تجزیے اور تبصرے سامنے آ رہے ہیں۔ "انصار الله" سے مربوط یمنی نیوز ویب سائٹ  نے اپنی رپورٹ میں حماس کے جواب کو دانشمندانہ قرار دیا۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ حماس نے امریکی تجاویز کو من و عن قبول نہیں کیا۔ مذکورہ ویب سائٹ کے مطابق، حماس بارہا ثابت کر چکی ہے کہ وہ فلسطینی عوام کی اصل آواز اور ان کی دفاعی ڈھال ہے۔ حماس نے جس قسم کی قربانی دے دی ہے وہ دور بیٹھ کر باتیں اور رائے پیش کرنے سے کہیں بڑھ کر ہے۔ رپورٹ کے مطابق، حماس نے ڈونلڈ ٹرامپ کی تجویز کو مکمل طور پر قبول نہیں کیا بلکہ صرف بنیادی اصولوں سے اتفاق کیا، جیسے کہ اسرائیلی قیدیوں کو ایک یا کئی مرحلوں میں رہا کرنا۔ امریکی صدر کی تجویز میں کل 20 نکات تھے جب کہ حماس نے صرف 9 نکات سے اتفاق کیا۔ باقی نکات پر مزید بات چیت کی ضرورت ہے۔ یہ نکات نئے نہیں، بلکہ پہلے بھی حماس ان سے متفق رہی ہے۔

حماس کے لئے ٹیکنوکریٹ (ماہرین پر مشتمل) حکومت کا تصور نیا نہیں، بلکہ وہ پہلے بھی ایسی ہی حکومت بنانے کی خواہش ظاہر کر چکی ہے۔ تاہم فلسطینی مزاحمت نے اس بات پر زور دیا کہ ان نکات پر عمل درآمد کے لئے مزید مذاکرات درکار ہیں۔ لہذا، حتمی موقف ابھی تشکیل پا رہا ہے اور حتمی فیصلہ ابھی باقی ہے۔ باقی نکات سے حماس نے براہ راست اتفاق نہیں کیا، بلکہ کہا ہے کہ ان پر مزید بات چیت ہونی چاہئے۔ یہ ایک سوچا سمجھا سیاسی اور سفارتی رویہ ہے۔ البتہ حماس نے ان تجاویز کو مکمل طور پر مسترد بھی نہیں کیا، کیونکہ اس کے بعض نکات جیسے قیدیوں کی رہائی، جبری نقل مکانی کو روکنا، تعمیر نو اور جنگ بندی، فلسطینی مفاد میں ہیں۔ رپورٹ کے مطابق، ڈونلڈ ٹرامپ کی تجویز میں کچھ خامیاں بھی ہیں جن کی وجہ سے اسے موجودہ شکل میں قبول نہیں کیا جا سکتا۔ جیسے کہ اسرائیلی فوج کے غزہ سے انخلاء کی نوعیت اور استقامتی محاذ کے ہتھیار، کہ جنہیں حماس سے حاصل کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ انہی کمزوریوں کی وجہ سے حماس نے سوچ سمجھ کر محتاط رویہ اپنایا ہے۔ تاکہ وہ کسی سیاسی یا عسکری جال میں نہ پھنس جائے۔

انصار الله نے مزید کہا کہ یمنی رہنماوں نے امریکی صدر کی تجویز کے بارے میں کوئی بھی فیصلہ، فلسطینی مزاحمت پر چھوڑ دیا ہے۔ مقاومت کے حامی کی حیثیت سے ہمارا موقف اب بھی برقرار ہے۔ لہذا، فلسطینی مزاحمت جو بھی فیصلہ کرے گی، ہم اسے قبول کریں گے۔ کیونکہ سب سے زیادہ قربانی تو حماس ہی نے دی ہے۔ غزہ کے لوگ گھٹن بھرے محاصرے، مسلسل حملوں اور روزانہ ہونے والی اموات کا سامنا کر رہے ہیں۔ جسے کوئی عام انسان برداشت نہیں کر سکتا۔ ان حالات میں، ہم دنیا کی خاموشی اور عرب و اسلامی ممالک کی ناکامی کو بھی دیکھ رہے ہیں۔ اس کے باوجود انہوں نے صبر اور مزاحمت کا مظاہرہ کیا۔ آخر میں ہم کہہ سکتے ہیں کہ حماس کامیاب رہی اور ہمیں آئندہ ہونے والی پیشرفت کا انتظار کرنا چاہئے۔ یقیناً جنگ کے اس دور کا اختتام صرف اور صرف حماس و دیگر فلسطینی مزاحمتی تحریکوں کی شرائط پر ہی ہو گا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: فلسطینی مزاحمت نہیں کیا کی تجویز رہے ہیں

پڑھیں:

’ابھی ہو گیا، بس‘، سونو نگم نے نیٹ احتجاج پر تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا

معروف بھارتی گلوکار سونو نگم نے نیٹ احتجاج پر تبصرہ کرنے سے انکار کرتے ہوئے میڈیا نمائندوں سے کہا کہ اس معاملے پر ان سے مزید سوال نہ کیے جائیں۔

سونو نگم سے ایک حالیہ میڈیا گفتگو کے دوران مبینہ نیٹ پرچہ لیک اور تعلیمی اصلاحات کے مطالبے پر جاری احتجاج کے حوالے سے سوال کیا گیا، تاہم انہوں نے اس موضوع پر اپنی رائے دینے سے گریز کیا۔

رپورٹرز کی جانب سے مسلسل سوالات کیے جانے پر سونو نگم نے واضح کیا کہ وہ اس معاملے پر بات نہیں کرنا چاہتے۔ بار بار سوالات کیے جانے پر وہ کچھ برہم دکھائی دیے اور مختصراً کہا، ’’ابھی ہو گیا، بس۔‘‘ اس جملے کے ذریعے انہوں نے اشارہ دیا کہ وہ اس موضوع پر مزید گفتگو نہیں کرنا چاہتے۔

رپورٹس کے مطابق، یہ میڈیا گفتگو کہاں اور کس موقع پر ہوئی، اس حوالے سے کوئی تفصیلات سامنے نہیں آئیں۔

        View this post on Instagram                      

 

نیٹ احتجاج پر متعدد شوبز شخصیات کا ردِعمل

سونو نگم کی خاموشی ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب بھارتی فلم انڈسٹری کی کئی معروف شخصیات نیٹ احتجاج پر اپنے خیالات کا اظہار کر رہی ہیں۔

اداکار سلمان خان، عالیہ بھٹ، دُلکر سلمان، وجے ورما، نصیرالدین شاہ، انوپم کھیر، ہیما مالنی، پریتی زنٹا اور عمران خان سمیت متعدد فنکار اس معاملے پر مختلف رائے کا اظہار کر چکے ہیں۔ بعض نے طلبہ کی حمایت کرتے ہوئے مذاکرات اور تعلیمی اصلاحات کا مطالبہ کیا جبکہ دیگر نے مختلف مؤقف اختیار کیا۔

واضح رہے کہ نیٹ امتحان میں مبینہ پرچہ لیک کے بعد ملک بھر میں طلبہ کی جانب سے احتجاج جاری ہے۔ مظاہرین امتحانی نظام میں شفافیت، ذمہ دار عناصر کے خلاف کارروائی اور احتساب کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • نیٹ فلکس کی پہلی پاکستانی اوریجنل سیریز ’جو بچے ہیں سنگ سمیٹ لو‘ کب ریلیز ہو گی؟
  • ’ابھی ہو گیا، بس‘، سونو نگم نے نیٹ احتجاج پر تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا
  • نئی امریکی ویزا پالیسی پاکستانی طلبہ کے لیے مشکلات کا سبب بن سکتی ہے
  • ایران سے جنگ نے ایک اور مشکل کھڑی کر دی، امریکا کے تیل کے ذخائر 45 سال کی کم ترین سطح پر پہنچ گئے
  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
  • حملہ ہوا تو خلیج میں امریکہ سے منسلک پلوں اور بجلی گھروں کو نشانہ بنائیں گے، ایران
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم