پاکستان پیپلزپیپلز پارٹی (پی پی پی) نے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کے متنازعہ کینال منصوبے کے حوالے سے دیے گئے ریمارکس کو سی سی آئی کے فیصلے کی خلاف ورزی اور آئینی فورم کی توہین قرار دیا ہے۔

پی پی پی سندھ کے صدر نثار کھوڑو نے مسلم لیگ ن کے قائد نواز شریف سے مطالبہ کیا کہ وہ مریم نواز کے بیانات کا نوٹس لیں اور پارٹی پالیسی واضح کریں۔

یہ بھی پڑھیں: کینالز منصوبہ ختم ہونے کے باوجود سندھ میں احتجاج کیوں جاری ہے؟

نثار کھوڑو نے کہا کہ سی سی آئی ایک آئینی فورم ہے جس نے متنازعہ کینال منصوبے کو متفقہ طور پر مسترد کیا ہے اور جب تک تمام صوبے اتفاق نہیں کرتے، کوئی کینال منصوبہ نہیں بنایا جا سکتا۔ ان کا کہنا تھا کہ وزیراعلیٰ پنجاب کی سی سی آئی کے مقابلے میں کوئی حیثیت نہیں اور وہ آئینی فورم سے بالاتر نہیں ہیں۔

انہوں نے کہا کہ مریم نواز کو اپنے صوبے میں اپنے دریاؤں پر ڈیم بنانے سے کسی نے نہیں روکا، لیکن اگر سندھو دریا پر لنک کینالز یا ڈیم بنانے کی کوشش کی گئی تو سندھ مزاحمت کرے گا، جیسا کہ ماضی میں نواز شریف کو کالاباغ ڈیم بنانے سے روک دیا گیا تھا۔

نثار کھوڑو نے خبردار کیا کہ سندھ اپنے حصے کے پانی پر کسی کو ڈاکہ ڈالنے کی اجازت نہیں دے گا اور آئینی طور پر پانی پر پہلا حق ٹیل والے صوبے سندھ کا ہے۔ ان کے مطابق سندھ کے پانی پر حملہ صوبے اور ملک کی وحدت پر حملہ تصور ہوگا۔

یہ بھی پڑھیں: مریم نواز نے پیپلز پارٹی کا معافی مانگنے کا مطالبہ مسترد کردیا

پیپلز پارٹی رہنما نے کہا کہ نواز شریف میں سیاسی بصیرت تھی جنہوں نے کالاباغ ڈیم کا اعلان واپس لیا، لیکن مریم نواز میں وہ سیاسی سمجھ نہیں ہے اور وہ آئینی فورمز کی توہین کررہی ہیں۔

نثار کھوڑو نے پنجاب حکومت سے سیلاب متاثرین کو دی جانے والی امداد قوم کے سامنے ظاہر کرنے کا مطالبہ کیا اور کہا کہ مریم نواز کی جانب سے امداد فراہم کرنے کے دعوے صرف ٹی وی چینلز تک محدود ہیں جبکہ متاثرین اب بھی ریلیف کے منتظر ہیں۔

انہوں نے الزام لگایا کہ پنجاب حکومت نے منصوبہ بندی کے تحت کٹ لگا کر غریب کسانوں اور ان کی فصلوں کو ڈبویا جبکہ امیر طبقے کے بنگلوں کو بچایا گیا۔

یہ بھی پڑھیں: وی نیوز ڈیبیٹ: نہروں کے معاملے پر پنجاب اور سندھ کے وزرائے آبپاشی کے درمیان دلچسپ بحث

نثار کھوڑو نے کہا کہ پنجاب کسی ایک جماعت کی جاگیر نہیں اور پیپلز پارٹی سمیت ہر سیاسی جماعت کو وہاں سرگرمیاں کرنے کا حق حاصل ہے، وزیراعلیٰ پنجاب پیپلز پارٹی کی بڑھتی ہوئی مقبولیت سے خوفزدہ ہیں اور اسی وجہ سے وہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے ذریعے سیلاب متاثرین کو ریلیف دینے کی مخالفت کررہی ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

we news پنجاب حکومت پیپلز پارٹی سندھ کینالز پراجیکٹ نثار کھوڑو.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: پنجاب حکومت پیپلز پارٹی کینالز پراجیکٹ نثار کھوڑو نثار کھوڑو نے پیپلز پارٹی پنجاب حکومت مریم نواز نے کہا کہ

پڑھیں:

مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان

بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے بڑھتے ہوئے واقعات کے خلاف سخت اقدامات کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے جرائم میں ملوث افراد کو جلد انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیےفاسٹ ٹریک عدالتیںقائم کی جائیں گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ طلبہ کے مستقبل سے کھیلنے والوں کے ساتھ کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی۔

سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (X) پر جاری اپنے بیان میں وزیراعظم مودی نے کہا کہ نوجوانوں کا مستقبل حکومت کی اولین ترجیح ہے اور امتحانی نظام میں بدعنوانی یا پرچے لیک کرنے جیسے جرائم میں ملوث عناصر کو سخت اور فوری سزا دی جائے گی۔

یہ امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے معاملے پر وزیراعظم مودی کا پہلا عوامی بیان ہے۔ تاہم ان کے ردعمل کے بعد بھی ملک بھر میں جاری طلبہ احتجاج میں کمی نہیں آئی۔ متعدد طلبہ اور سماجی حلقوں نے سوال اٹھایا کہ حکومت نے اس حساس معاملے پر ردعمل دینے میں اتنی تاخیر کیوں کی۔

دوسری جانب لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے وزیراعظم کے بیان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے حکومت پر تعلیمی نظام کو کمزور کرنے کا الزام عائد کیا۔

راہل گاندھی نے ایکس پر اپنی پوسٹ میں لکھا کہ نوجوانوں کے مستقبل کو سب سے زیادہ نقصان موجودہ حکومت نے پہنچایا ہے۔ ان کے مطابق حکومت نے نہ صرف تعلیمی نظام کو تباہ ہونے دیا بلکہ ذمہ دار افراد کو بھی تحفظ فراہم کیا۔

انہوں نے کہا کہ احتجاج کرنے والے طلبہ کے تین بنیادی مطالبات ہیں، جن میں وزیر تعلیم دھرمندر پردھان کو عہدے سے ہٹانا، طلبہ سے باضابطہ معافی مانگنا اور احتجاج کے دوران طلبہ پر مبینہ تشدد میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی شامل ہے۔

واضح رہے کہ ملک میں تعلیمی اصلاحات اور امتحانی نظام میں شفافیت کے مطالبات کے حوالے سے احتجاجی تحریک جاری ہے۔ حالیہ دنوں میں طلبہ اور پولیس کے درمیان جھڑپوں کے بعد یہ معاملہ مزید شدت اختیار کر گیا ہے، جبکہ امتحانی پرچے لیک ہونے کے واقعات نے بھارت کے تعلیمی نظام پر سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • پیپلز پارٹی کا فارم 47 پر حالیہ بیانیہ پی ٹی آئی بیانیے سے مطابقت رکھتا ہے، علی ظفر
  • لاہور ڈی ایچ اے میں بارش کے بعد پانی بھرگیا، رابی پیرزادہ کا مریم نواز سے شکوہ
  • 25 جولائی کو گریٹر اقبال پارک میں پیپلز پارٹی کے جلسہ ؛ بلاول بھٹو ویڈیو لنک سے خطاب کریں گے ؛فیصل میر
  • مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
  • اہم ٹیلیفونک رابطہ، پاکستان سعودی عرب کے ساتھ کھڑا، سہیل آفریدی پر الزام، مریم نواز اور بلاول کے ایک دوسرے پر تابڑ توڑ حملے
  • عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
  • حکومت مساجد و مدارس کی رجسٹریشن کے پروسس کو آسان بنائے، شاہ عبدالحق قادری
  • مریم نواز کا اربن فلڈنگ اور سیلاب سے نمٹنے کے لیے وسائل بروئے کار لانے کا حکم
  • بلاول کے پنجاب کے شہروں کی صورتحال پر سوالات، مریم اورنگزیب نے ویڈیو جاری کرکے جواب دیدیا
  • سندھ کابینہ نے صوبے کے سرکاری ملازمین کے کنوینس الاؤنس میں اضافہ کر دیا ہے، شرجیل میمن