سندھ ہائیکورٹ کا تین سال سے قید ملزمان کو جرمانہ ادا کر کے رہائی کا حکم
اشاعت کی تاریخ: 4th, October 2025 GMT
سندھ ہائیکورٹ نے 3 سال سے جیل میں قید ملزمان کی سزا کیخلاف اپیل پر صرف جرمانے کی ادائیگی کے بعد رہا کرنے کی ہدایت کردی۔ ہائیکورٹ میں 3 سال سے جیل میں قید ملزمان کی سزا کیخلاف اپیل کی سماعت ہوئی۔ ملزمان میں محمد وقاص اور بلال شامل ہیں۔ عدالت نے ملزمان کی استدعا کو منظور کرتے ہوئے سزا کم کردی۔ عدالت نے ریمارکس دیے کہ جتنے دن ملزمان نے جیل میں کاٹے ہیں اتنی ہی سزا تصور کی جائے۔ ملزمان کو صرف جرمانے کی ادائیگی کے بعد رہا کردیا جائے۔ ملزمان کو 16 سال قید اور ایک لاکھ روپے جرمانہ عائد کیا گیا تھا۔ ملزمان کی فائرنگ سے کوئی پولیس اہلکار یا عام شہری زخمی نہیں ہوا تھا۔ استغاثہ کے مطابق ملزمان کیخلاف اقدام قتل، پولیس پر حملہ کرنے کی دفعات کے تحت مقدمہ درج ہوا تھا۔ ملزمان کے قبضے سے غیر قانونی اسلحہ بھی برآمد ہوا تھا۔ ملزمان کیخلاف مقدمہ تھانہ بوٹ بیسن میں 2023 میں درج ہوا تھا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
پڑھیں:
وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم
وزیراعلی مراد علی شاہ نے تمام ڈپٹی کمشنرز، ضلعی انتظامیہ، بلدیاتی اداروں، آبپاشی حکام، محکمہ صحت، امدادی اداروں اور مقامی حکومت کے اداروں کو مکمل طور پر چوکس رہنے، ہنگامی ردعمل کی ٹیموں کو تیار رکھنے، نکاسی آب کے نظام کو فعال رکھنے اور انسانی جانوں اور املاک کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ سندھ کے وزیر اعلی سید مراد علی شاہ کی ہدایت پر صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) نے سندھ بھر کی ضلعی انتظامیہ کو ہائی الرٹ کر دیا ہے اور تمام متعلقہ محکموں کو احتیاطی اور ہنگامی ردعمل کے اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے، کیونکہ بحیرہ عرب سے آنے والے مون سون کے طاقتور ہوائی سلسلے صوبے کو متاثر کر رہے ہیں۔ پی ڈی ایم اے کی جانب سے جاری کردہ موسمیاتی ایڈوائزری کے مطابق، پاکستان محکمہ موسمیات (پی ایم ڈی) کی پیش گوئی کی بنیاد پر ملک میں داخل ہونے والے مون سون کے طاقتور ہوائی سلسلے، بالائی اور وسطی علاقوں کو متاثر کرنے والے مغربی موسمی نظام کے ساتھ مل کر، 23 جولائی سے 25 جولائی تک سندھ کے کئی اضلاع میں وسیع پیمانے پر بارش، گرج چمک اور بعض مقامات پر موسلا دھار بارش کا سبب بن سکتے ہیں۔
وزیراعلی مراد علی شاہ نے تمام ڈپٹی کمشنرز، ضلعی انتظامیہ، بلدیاتی اداروں، آبپاشی حکام، محکمہ صحت، امدادی اداروں اور مقامی حکومت کے اداروں کو مکمل طور پر چوکس رہنے، ہنگامی ردعمل کی ٹیموں کو تیار رکھنے، نکاسی آب کے نظام کو فعال رکھنے اور انسانی جانوں اور املاک کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے۔ وزیر اعلی نے ڈویژنل کمشنرز اور بلدیاتی اداروں کو مزید ہدایت کی کہ وہ نشیبی علاقوں، شہری مراکز اور حساس مقامات کی کڑی نگرانی کریں، امدادی سامان اور آلات کی دستیابی یقینی بنائیں اور موسمیاتی پیش گوئی کی مدت کے دوران تمام محکموں کے درمیان بلاتعطل رابطہ برقرار رکھیں۔