امریکا نے پاکستان کو ائیر ٹو ائیر میزائل کے خریداروں میں شامل کرلیا
اشاعت کی تاریخ: 7th, October 2025 GMT
امریکا نے پاکستان کو ائیر ٹو ائیر میزائل کے خریداروں میں شامل کرلیا۔ پاکستان کو اے آئی ایم 120 سی ایٹ میزائل کا اپ گریڈ ورژن بھی ملے گا۔ پاکستان اور ترکیہ سمیت کئی اتحادی ممالک کو میزائل فروخت ہونگے۔
امریکا نے پاکستان کو فضا سے فضا میں مار کرنے والے جدید میزائلوں کی فروخت کی منظوری دے دی ، میزائلوں کی تیاری کیلئے رے تھیون کمپنی کو 2.
یہ میزائل دشمن کے طیاروں اور آنے والے میزائلوں کے خلاف بصری حد سے باہر کارروائیوں کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔ دفاعی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ میزائل پاکستان کے موجودہ ایف 16 بیڑے کی آپریشنل رینج اور درستگی کو کافی حد تک بڑھا دے گا، جس سے یہ فضائی خطرات کا جواب دینے کے لیے بہتر طور پر لیس ہوگا۔
مبینہ طور پر یہ فیصلہ جولائی 2025 میں ہونے والی اعلیٰ سطحی ملاقاتوں کے سلسلے کے بعد کیا گیا، جب پاکستان ایئر فورس کے سربراہ ایئر مارشل ظہیر احمد بابر سدھو نے واشنگٹن میں سینئر امریکی فوجی اور سیاسی رہنماؤں سے ملاقات کی۔
پاکستان کے آرمی چیف جنرل عاصم منیر نے بھی حال ہی میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اعلیٰ دفاعی حکام سے کئی ملاقاتیں کیں، جو اس بات کا اشارہ ہے کہ پاکستان اور امریکا کے فوجی تعلقات ایک بار پھر عملی تعاون کے مرحلے میں داخل ہوگئے۔
دوسری جانب غیرملکی جریدے بلومبرگ کو انٹرویو میں ڈی جی آئی ایس پی آرلیفٹیننٹ جنرل احمد شریف نے کہ کہا ہماری فوجی ترقیاتی حکمت عملی ہمیشہ موثر اور کارگر پلیٹ فارمز اور اندرونی پاکستانی ٹیکنالوجی کو شامل کرنا رہی ہے۔ ہم ہرقسم کی ٹیکنالوجی چاہے وہ خود ساختہ ہو، مشرقی یا مغربی ہو، کے حصول کے لیے تیار رہتے ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: پاکستان کو
پڑھیں:
خطے میں تنازعات کے پُرامن حل کیلئے کوششیں جاری رکھیں گے: اسحاق ڈار
اسحاق ڈار---فائل فوٹونائب وزیرِ اعظم اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ امریکا ایران تنازع میں پاکستان کی ثالثی کوششوں کو یورپی یونین کی جانب سے سراہا گیا ہے، پاکستان خطے میں امن، سفارت کاری اور تنازعات کے پُرامن حل کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گا۔
یورپی یونین کی رہنما کایا کالاس کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس میں انہوں نے کہا کہ آخری یورپی یونین وزٹ 7 سال پہلے ہوا تھا، ہم پچھلے سال بھارت پاکستان جنگ اور ایران امریکا تنازع کے دوران قریبی رابطے میں رہے، آج ہم نے مشترکہ طور پر اسٹریٹیجیک مذاکرات کی صدارت کی، ہم نے پچھلے سال نومبر میں مشترکہ اسٹریٹیجیک مذاکرات کیے تھے، امریکا ایران تنازع کے دوران یورپی یونین کے تعاون کا مشکور ہوں۔
اسحاق ڈار نے کہا کہ ہم نے سیکیورٹی ایشوز اور دہشت گردی کے امور پر بھی بات کی، فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کی افغانستان میں موجودگی پر بھی بات کی، پاکستان اور یورپی یونین کے تعلقات میں مثبت پیشرفت جاری ہے، کایا کالاس کا دورہ اس کا واضح ثبوت ہے۔
یورپی یونین کی خارجہ امور اور سیکیورٹی پالیسی کی سربراہ نے امریکا ایران تنازع کے حل کے لیے پاکستان کےثالثی اقدامات کی تعریف کر دی۔
ان کا کہنا ہے کہ پاکستان اور یورپی یونین کے درمیان آٹھواں اسٹریٹجک ڈائیلاگ اعلیٰ ترین ادارہ جاتی مکالمہ ہے، پاکستان اور یورپی یونین کے درمیان تجارت، سرمایہ کاری اور ترقیاتی تعاون کے فروغ پر اتفاق ہوا، جی ایس پی پلس فریم ورک کے تحت پاکستان اور یورپی یونین کا تجارتی تعاون دونوں فریقوں کے لیے فائدہ مند ہے، اسلام آباد میں پاکستان یورپی یونین بزنس فورم کا انعقاد دو طرفہ اقتصادی تعلقات کے فروغ میں اہم پیش رفت ہے۔
نائب وزیرِ اعظم نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر تنازع کا حل کشمیری عوام کی خواہشات اور اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کے مطابق ہونا چاہیے، انڈس واٹرز معاہدہ برقرار ہے، حالیہ عدالتی فیصلے نے پاکستان کے مؤقف کی تائید کی ہے، افغان سر زمین سے دہشت گرد عناصر کی پاکستان میں کارروائیاں بدستور ہماری بڑی تشویش ہیں، پاکستان اور یورپی یونین نے دو طرفہ تعلقات کو جامع اور باہمی مفاد پر مبنی شراکت داری میں تبدیل کرنے کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔