سعودی عرب کی پہلی خاتون سفیر، ریما بنتِ بندر بن سلطان، سعودی معاشرے میں سماجی و معاشی تبدیلی کی علامت
اشاعت کی تاریخ: 7th, October 2025 GMT
شہزادی ریما بنتِ بندر بن سلطان آل سعود سعودی تاریخ کی پہلی خاتون سفیر ہیں جنہیں 2019 میں، امریکا میں بطور سفیر تعینات کیا گیا۔ وہ سعودی معاشرے میں سماجی اور معاشی تبدیلی کی علامت بن کر سامنے آئی ہیں۔
اپنی تقرری کے 6 سال میں اُنہوں نے اپنے بے مثال فعالیت کے سبب نہ صرف سعودی عرب اور امریکا کے درمیان تعلقات کی بہتری میں اہم کردار ادا کیا بلکہ عالمی اور مشرقِ وسطٰی کے امن کے لیے کوششیں کیں۔
یہ بھی پڑھیے: سعودی ولی عہد کی ای اسپورٹس ورلڈ کپ 2025 کی اختتامی تقریب میں شرکت
غزہ کے معاملے پر اُن کی فعالیت بہت زیادہ نظر آئی۔ اس سال امریکی نشریاتی ادارے سی این این کو انٹرویو دیتے ہوئے اُنہوں نے غزہ میں جنگ بندی پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اگر یہ جنگ نہیں رکتی تو اِس سے پورا خطہ پتھر کے دور میں واپس جا سکتا ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ ہم اسرائیل کی اِس ضرورت کو تسلیم کرتے ہیں کہ وہ محفوظ محسوس کرے لیکن ایسا فلسطینیوں کی قربانیوں کو فراموش کر کے نہیں کیا جا سکتا۔
حالیہ عرصے میں انہوں نے دو ریاستی حل کو واحد مؤثر اور منصفانہ راستہ قرار دیا ہے اور یہ کہا ہے کہ یہی طویل المدتی امن و استحکام کا حل ہے۔
ریما بنتِ بندر بن سلطان کی ابتدائی زندگیشہزادی ریما، سعودی شاہی خاندان کے شہزادہ بندر بن سلطان کی صاحبزادی ہیں۔ شہزادہ بندر بن سلطان بن عبدالعزیز سعودی عرب کے ممتاز سفارتکار، انٹیلی جنس چیف، اور شاہی خاندان کے بااثر رکن تھے۔ وہ کئی دہائیوں تک سعودی خارجہ پالیسی کے اہم ستون سمجھے جاتے رہے۔
یہ بھی پڑھیے: سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان دورہِ پاکستان کے دوران کن معاہدوں پر دستخط کریں گے؟
شہزادی ریما، 1983 سے لے کر 2005 تک واشنگٹن ڈی سی میں اپنے والد کے ساتھ مقیم رہیں اور جارج ٹاؤن یونیورسٹی سے میوزیم اسٹڈیز کی تعلیم حاصل کی۔ اپنے پس منظر کی وجہ سے وہ مغربی معاشرے کو بہت قریب سے جانتی ہیں اور یہی وجہ ہے کہ بطور سفیر اپنے 6 سالہ دور میں اُنہوں نے خاطر خواہ کامیابیاں سمیٹی ہیں۔
ریما بنت بندر بن سلطان کا سفارتی کیرئرسعودی فرمانروا شاہ سلمان بن عبدالعزیز نے 23 فروری 2019 کو اُنہیں امریکا میں سفیر تعینات کیا اور 8 جولائی 2019 کو اُنہوں نے اپنی سفارتی اسناد صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو پیش کیں۔اُنہوں نے سعودی عرب اور امریکا کے تعلقات کو سخت سفارتی دور سے نکال کر مکالمے، اعتماد، اور عوامی سطح کے تعاون کی راہ پر لانے میں نمایاں کردار ادا کیا
وہ سعودی خارجہ پالیسی میں نئی نسل اور نئے طرزِ سفارتکاری کی علامت سمجھی جاتی ہیں۔انہوں نے امریکی میڈیا، تھنک ٹینکس، اور یونیورسٹیوں میں سعودی عرب کے ویژن 2030 کی وضاحت کی اور بتایا کہ ملک کس طرح خواتین کی تعلیم، روزگار، اور قیادت میں آگے بڑھ رہا ہے۔ اس سے امریکا میں سعودی عرب کا نرم اور ترقی پسند تاثر مضبوط ہوا۔
سفارتی اور سیکیورٹی تعلقات میں کردارانہوں نے دفاعی و سیکورٹی امور پر مذاکرات میں بھی کردار ادا کیا، خاص طور امریکا سعودی دفاعی تعاون اور توانائی تحفظ کے معاملات میں اپنا کردار ادا کیا۔
یہ بھی پڑھیے: پاکستان سعودیہ دفاعی معاہدے کے بعد ایک اور پیشرفت، اقتصادی روابط اور مذاکرات کے لیے اعلیٰ سطح کمیٹی قائم
واشنگٹن میں انہوں نے سعودی امن پالیسی خصوصاً یمن اور مشرقِ وسطٰی کے استحکام سے متعلق پر امریکی قانون سازوں کو بریفنگ دی۔
معاشی و ثقافتی تعاون میں کردارریما بنت بندر نے سرمایہ کاری، ٹیکنالوجی، اور تعلیم کے شعبوں میں امریکی اداروں سے روابط بڑھائے۔ وہ سعودی طلبا، کاروباری خواتین، اور اسٹارٹ اپس کے لیے امریکی اداروں کے ساتھ پل کا کردار ادا کر رہی ہیں۔انہوں نے مختلف امریکی فورمز میں سعودی عرب کو ایک ترقی پذیر، جدید اور شراکت دار ملک کے طور پر پیش کیا۔
سعودی عرب کا متنوع تاثر پیش کرنے میں کردارانہوں نے سعودی ایمبیسی کو صرف سیاسی مرکز نہیں بلکہ ثقافتی و سماجی مکالمے کی جگہ بنایا۔ واشنگٹن ڈی سی میں مختلف تقریبات، نمائشوں اور خواتین کے ایونٹس کے ذریعے سعودی معاشرے کی مثبت پہچان کو اجاگر کیا۔
شہزادی ریما نے حالیہ برسوں میں سعودی عرب اور امریکا کے تعلقات، عالمی پالیسی اور ویژن 2030 کے اہداف کے فروغ میں نمایاں کردار ادا کیا ہے۔ انہوں نے مارچ 2023 میں سعودی عرب کی جانب سے امریکا کی کمپنی بوئنگ کے ساتھ تقریباً 37 ارب ڈالر کا معاہدہ طے کروایا، جس کے تحت سعودی عرب امریکا طیارہ ساز کمپنی بوئنگ سے جدید ڈریم لائنر طیارے خرید جا رہے ہیں، اس سے دونوں ممالک میں ہزاروں روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے اور سعودی عرب کو عالمی لاجسٹک مرکز بننے میں مدد ملے گی۔
یہ بھی پڑھیے: صدر پیوٹن کا شہزادہ محمد بن سلمان کو فون، سعودی عرب کی امن کوششوں پر اظہارِ تشکر
انہوں نے ویژن 2030 کے تحت خواتین کو معاشی خودمختاری دلانے کے منصوبوں پر کام کیا۔ عالمی مالیاتی ادارے آئی ایم ایف نے انہیں مشاورتی کونسل برائے کاروبار و ترقی کا رکن مقرر کیا، جہاں وہ معاشی ترقی، نجی شعبے کے فروغ اور جدت کے منصوبوں پر مشاورت فراہم کر رہی ہیں۔ شہزادی ریما نے زور دیا ہے کہ سعودی عرب اور امریکا کی شراکت آج کے عالمی چیلنجوں جیسے سلامتی، ماحولیاتی تبدیلی اور معاشی تنوع کے پیش نظر نہایت اہم ہے۔
انہوں نے فلسطین کے مسئلے پر دو ریاستی حل کو واحد منصفانہ راستہ قرار دیا اور واضح کیا کہ جب تک غزہ میں فائر بندی اور فلسطینی حقوق کی ضمانت نہیں ہوتی، اس وقت تک اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کا سوال پیدا نہیں ہوتا۔ بین الاقوامی فورمز پر وہ سعودی عرب کی امن پسند خارجہ پالیسی کی ترجمان کے طور پر پیش ہوتی ہیں اور سرمایہ کاری، توانائی، ٹیکنالوجی اور ثقافت کے شعبوں میں عالمی شراکت داری کو فروغ دینے میں سرگرم کردار ادا کر رہی ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
reema bint bandar saudi embassador ریما بنت بندر بن سلطان سعودی سفیر سعودی شہزادی.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: سعودی سفیر سعودی عرب اور امریکا کردار ادا کیا سعودی عرب کی ا نہوں نے وہ سعودی انہوں نے کے ساتھ کے لیے
پڑھیں:
بلوچستان میں بیرونی فنڈنگ، بھارت کے مبینہ کردار اور انسانی حقوق کی رپورٹس پر سنگین سوالات
بلوچستان میں انسانی حقوق کی صورتحال اور لاپتا افراد سے متعلق جاری بحث ایک بار پھر شدت اختیار کر گئی ہے، جہاں بعض حلقوں کی جانب سے یہ مؤقف پیش کیا جا رہا ہے کہ حالیہ برسوں میں بلوچستان سے متعلق سرگرم بعض مبینہ انسانی حقوق اور میڈیا نیٹ ورکس کے پیچھے بھارت کے مبینہ اثر و رسوخ اور فنڈنگ کے الزامات سامنے آتے رہے ہیں۔ ان دعوؤں کے مطابق 2020 میں ’انڈین کرونیکلز‘ جیسے ناموں سے پاکستان اور خاص طور پر بلوچستان کے حوالے سے سرگرم بعض فرضی این جی اوز اور انسانی حقوق کے اداروں کے نیٹ ورک سامنے آئے، جنہیں بعض مبصرین بھارت کے بیانیہ سازی کے منصوبوں سے جوڑتے ہیں، تاہم یہ مؤقف ایک متنازع اور زیرِ بحث دعویٰ ہے جس پر مختلف آرا پائی جاتی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:کراچی بڑی تباہی سے بچ گیا، ماہرنگ بلوچ کا جھوٹ بے نقاب
اسی تناظر میں حال ہی میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ، جسے بعض حلقے ’ایچ آر سی بی‘ سے منسوب کر رہے ہیں، میں لاپتا افراد کے حوالے سے اعداد و شمار اور کیسز کا ذکر کیا گیا ہے، تاہم اس کی کریڈیبلٹی پر بھی سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ ان حلقوں کا دعویٰ ہے کہ رپورٹ میں شامل کئی نام اور فہرستیں ایسے نیٹ ورکس سے اخذ کی گئی ہیں جو سوشل میڈیا پر پہلے سے مخصوص دعوے کرتے ہیں، اور پھر انہی دعووں کو بغیر آزادانہ اور مکمل تصدیق کے رپورٹ کا حصہ بنا لیا جاتا ہے، جسے بعض لوگ ایک “ایکوسسٹم” یا “ایکو چیمبر” قرار دیتے ہیں۔
تنقید کرنے والے مؤقف کے مطابق اس طرزِ عمل میں ایک خاص طریقۂ کار دیکھا جاتا ہے، جس میں پہلے کسی شخص کو جبری گمشدہ قرار دینے کا دعویٰ سامنے آتا ہے، پھر سوشل میڈیا پر اس پر مہم چلتی ہے، اس کے بعد وہی معلومات رپورٹس میں شامل ہو جاتی ہیں، اور پھر بین الاقوامی سطح پر انہیں بطور حوالہ پیش کیا جاتا ہے۔ تاہم بعد ازاں بعض کیسز میں مختلف حقائق سامنے آنے کے دعوے بھی کیے جاتے ہیں، جنہیں ان رپورٹس کی ساکھ پر سوال کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:ماہرنگ اور بلوچ یکجہتی کمیٹی ایک بار پھر بے نقاب، دہشتگردوں کی پشت پناہی ثابت
اسی سلسلے میں بعض مثالوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا جاتا ہے کہ چند افراد کے کیسز میں بعد میں مختلف دعوے یا وضاحتیں سامنے آئیں، جنہیں ان رپورٹس کے طریقۂ کار پر تنقید کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔ ناقدین کے مطابق اگر رپورٹنگ کا انحصار غیر مصدقہ سوشل میڈیا دعوؤں پر ہو تو اس کی غیر جانبداری متاثر ہو سکتی ہے، خصوصاً جب اسے کسی مخصوص سیاسی یا نظریاتی بیانیے کے ساتھ جوڑا جائے۔
دوسری جانب یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ انسانی حقوق کی کسی بھی رپورٹ میں صرف ایک پہلو نہیں بلکہ تمام متاثرین کا احاطہ ہونا چاہیے، جن میں وہ شہری بھی شامل ہیں جو دہشتگردی کے واقعات میں متاثر ہوئے۔ اس ضمن میں چمن، مچ اور دیگر علاقوں میں پیش آنے والے حملوں کے متاثرین، مسافروں، اساتذہ اور مزدوروں کا ذکر کرتے ہوئے کہا جاتا ہے کہ اگر کسی رپورٹ میں ان واقعات اور متاثرین کو نظر انداز کیا جائے تو اس کی جامعیت اور غیر جانبداری پر سوال اٹھ سکتے ہیں۔
یوں بلوچستان سے متعلق انسانی حقوق کی رپورٹس، لاپتا افراد کے اعداد و شمار اور مبینہ بیرونی اثر و رسوخ کے الزامات ایک پیچیدہ اور متنازع بحث کی صورت اختیار کر چکے ہیں، جس میں مختلف فریقین اپنے اپنے مؤقف کے ساتھ موجود ہیں اور حتمی اتفاق رائے تاحال سامنے نہیں آ سکا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
انڈین کرونیکلز بھارت لاپتا افراد ماہرنگ بلوچ