فاقی دارالحکومت میں تعلیمی ادارے اور دفاتر کل معمول کے مطابق کھلیں گے
اشاعت کی تاریخ: 13th, October 2025 GMT
سٹی42: وفاقی دارالحکومت میں تمام تعلیمی ادارے اور دفاتر کل منگل کے روز معمول کے مطابق کھلیں گے۔
اسلام آباد کیپیٹل ٹیریٹوری آئی سی ٹی انتظامیہ نے آج پیر کی شب بتایا ہے کہ کل منگل کی صبح تمام اسکول، کالج اور سرکاری دفاتر معمول کے مطابق کھلیں گے۔ اس ضمن میں پھیلائی جا رہی افواہیں بے بنیاد ہیں۔
وفاقی دارالحکومت کی انتظامیہ نے بتایا کہ بعض عناصر سوشل پلیت فارمز پر وفاقی دارالحکومت میں تعلیمی اداروں کی بندش کی افواہیں پھیلا رہے ہیں۔ یہ غیر ذمہ دارانہ حرکت عوام مین کنفیوژن پھیلانے کے لئے کی جا رہی ہے۔ وفاقی دارالحکومت اور نواحی علاقوں میں کسی بھی سرکاری تعطیل یا تعلیمی اداروں کی بندش کی افواہیں بالکل غلط اور بے بنیاد ہیں، آئی سی ٹی انتظامیہ نے عوام سے کہا کہ وہ سوشل میڈیا پر ایسی گمراہ کن فیک نیوز کو نظر انداز کریں اور اپنے بچوں کو معمول کے مطابق سکولوں کالجوں میں بھیجیں۔
سیمنٹ سستاہوگیا
اس طرح کی غلط معلومات/ فیک نیوز کو آگے پھیلانے سے بھی اجتناب کریں ۔
براہ کرم معلومات کی تصدیق صرف سرکاری ذرائع سے کنفرم کریں۔
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: وفاقی دارالحکومت معمول کے مطابق
پڑھیں:
بارشوں کے پانی نے لاہور انتظامیہ کی پول کھول دی‘ اقبال ٹاﺅن اور جوہر ٹاﺅن میں مرکزی شاہراﺅں پر شگاف پڑگئے
لاہور(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔23 جولائی ۔2026 ) صوبائی دارالحکومت لاہور میں علامہ اقبال ٹاﺅن مین بلیوارڈکی سروس روڈپربھیکے وال کے نزدیک 10فٹ گہرا شگاف پڑگیا ہے‘اسی طرح جوہر ٹاﺅن مصروف ترین شاہراہ خیابان فردوسی پر ایک اورگڑھا پڑ گیاہے گزشتہ تین روز کے دوران مذکورہ سڑک پریہ دوسرا گڑھا پڑا. بارش کے بعد مرکزی شاہراہ پر گڑھنے پڑنے سے حادثات کا خدشہ بڑھ گیا حکام کے مطابق سڑک کی مرمت کا کام شروع ہوگیا گڑھا پڑنے سے ٹریفک کی روانی جزوی طور پر متا ثر ہوئی دوسری جانب اقبال ٹاﺅن میں بھیکے والے موڑ جانب فاروق ہسپتال سروس روڈ پر 10 فٹ گہرا شگاف پڑ گیا.(جاری ہے)
سڑک کے درمیان پڑنے والے گہرے شگاف کے باعث ٹریفک کی روانی متاثر ہو رہی ہے شگاف پڑنے سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا، متعلقہ افسران اور واسا کی ٹیمیں موجود ہیں ٹریفک پولیس کا کہنا ہے کہ متعلقہ محکموں نے سروس روڈ پر شگاف پر کرنے کیلئے کام شروع کردیا. واضح رہے کہ 17جولائی کو ہونے والی بارش سے فیروزپور روڈ پرنشتر کالونی کے قریب سروس روڈ کا ایک حصہ بیٹھ گیا تھا جس کے نتیجے میں وہاں کھڑی تین موٹر سائیکلیں گڑھے میں جا گریں تھیں. شہریوں کا کہنا ہے کہ پورے شہر کے اندر یہی حال ہے بارشوں میںمتوسط آبادیوںکے اندر سڑکوں کے بیٹھ جانے کے واقعات زیادہ ہوتے ہیں مگر انہیں کوریج نہیں ملتی‘نجی یونیورسٹی کے لیکچرار معاذالاسلام سول انجینئرنگ پڑھاتے ہیں ان کا کہنا ہے کہ بدقسمتی سے پاکستان میں سب سے زیادہ بدعنوانی اس شعبے میں ہے ناقص میٹریل اور زمین کی کمپریشن عالمی لیول کی نہیں کی جاتی . ان کا کہنا ہے کہ ٹھیکے دار اب کئی دن مٹی کو کمپریس کرنے میں نہیں لگا اور نہ ہی میٹریل ڈالنے کے بعد ٹھیک طریقے سے اسے کمپریس کیا جاتا ہے ‘مٹی نرم ہونے سے اگر پانی راستہ بنالے تو چند ہفتوں میں ہی اس ایریا کے نیچے زمین کھوکھلی ہوجاتی ہے اور بارشوں کے دوران شگاف پڑنے لگتے ہیں. انہوں نے بتایا کہ لاہور فیصل آباد موٹر وے کو جب تجرباتی طور پرچھوٹی گاڑیوں کے لیے کھولا گیا تھا تو لاہور سے فیصل آباد کے سفر کے دوران انہوں نے نوٹ کیا تھا کہ کئی سو ارب کی لاگت سے بنی اس سڑک میں لیول کا بھی خیال نہیں رکھا تھا اور یہ موٹروے مکمل طور پر ناہموار تھا جس پر انہوں نے کچھ دیگر انجینئرز کے ساتھ مل کر ایک تجزیاتی رپورٹ این ایچ اے اور پنجاب حکومت کو ارسال کی تھی تاہم آج تک ہمیں اس پر کوئی جواب نہیں ملا.