پبلک پروائیوٹ پارٹنرشپ سے ترقی کے سفر کی ابتدا ہوگی، شعیب نوشیروانی
اشاعت کی تاریخ: 13th, October 2025 GMT
کوئٹہ میں منعقدہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے صوبائی وزیر شیعب نوشیروانی نے کہا کہ پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت مختلف منصوبوں کی شروعات سے عوام کو زندگی کے بہتر سہولیات میسر ہونگے اور صوبے میں پائیدار ترقی کے سفر کی ابتدا ہوگی۔ اسلام ٹائمز۔ بلوچستان کے وزیر خزانہ و معدنیات شعیب نوشیروانی نے کہا ہے کہ صوبے میں برقی گاڑیوں اور بسوں کے استعمال سے عوام کو سہولیات ملیں گی، جبکہ ماحول بھی بہتر ہوگا۔ یہ بات انہوں نے پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ بورڈ کے ساتویں اجلاس کے موقع پر شرکاء سے گفتگو کرتے ہوئے کہی۔ اجلاس میں ایڈیشنل چیف سیکرٹری منصوبہ بندی و ترقیات زاہد سلیم، سیکرٹری خزانہ عمران زرکون، سکریٹری جنگلات عبدالفتح بھنگر، سیکرٹری ٹرانسپورٹ حیات کاکڑ سمیت متعلقہ محکموں کے افیسران نے شرکت کی۔ اجلاس میں پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت مختلف ترقیاتی منصوبوں کے آغاز پر غور کیا گیا، جن میں جنگلات کی بہتری، جھینگے فارمنگ کے فروغ اور مینگروو پلانٹیشن کے لیے اقدامات شامل تھے۔
صوبائی وزیر خزانہ نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت مختلف منصوبوں کی شروعات سے عوام کو زندگی کے بہتر سہولیات میسر ہوں گے اور صوبے میں پائیدار ترقی کے سفر کی ابتدا ہوگی، جو ماحول کے تحفظ اور معیشت کی مضبوطی کے لیے اہم کردار ادا کریں گے۔ اس کے علاوہ اجلاس کو برقی گاڑیوں، شمسی توانائی کے حوالے سے بھی بریفننگ دی گئی۔ اس موقع پر صوبائی وزیر خزانہ نے کہا کہ برقی گاڑیوں و بسوں کے چلنے سے عوام کو بہتر سفری سہولیات فراہم ہوں گی اور اسکے ساتھ ساتھ شہر میں ٹرانسپورٹ کے مسائل میں کمی آئی گی۔ صوبائی وزیر شعیب نوشیروانی نے کہا کہ حکومت بلوچستان ماحول دوست، جدید اور پائیدار منصوبہ بندی کے ذریعے صوبے کے عوام کو سہولیات فراہم کرنے کے لیے پرعزم ہے اور ان عوام دوست منصوبوں کو عملی شکل میں لانے کے لیے اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ سے عوام کو کہا کہ کے لیے نے کہا
پڑھیں:
ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدہ ابراہیمی معاہدہ میں شمولیت سے مشروط کر دیا
امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ مجوزہ سول جوہری معاہدے کومعاہدہ ابراہیمی (Abraham Accords) میں سعودی شمولیت سے مشروط کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ معاہدے کے تحت سعودی عرب کو کسی بھی صورت یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر جاری بیان میں کہا کہ امریکا کے محکمہ توانائی اور سعودی عرب کے درمیان زیر غور سول جوہری معاہدہ صرف پرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ یہ پروگرام ایران، متحدہ عرب امارات اور دیگر ممالک کے سول جوہری پروگراموں کی طرز پر ہوگا، تاہم اس میں یورینیم افزودگی کی اجازت شامل نہیں ہوگی۔
امریکی صدر نے کہا کہ معاہدے کی منظوری ضرور دی جائے گی، لیکن اس کی بنیادی شرط یہ ہوگی کہ سعودی عرب باعزت اور باہمی احترام پر مبنی معاہدہ ابراہیمی میں شامل ہو۔ ان کے مطابق امریکا کو ایسے سول جوہری مراکز پر کوئی اعتراض نہیں جو مکمل طور پر پرامن مقاصد کے لیے قائم کیے جائیں اور جن میں یورینیم افزودہ نہ کیا جائے۔
دوسری جانب اسرائیلی وزیراعظم کے دفتر نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ اگر سعودی عرب معاہدہ ابراہیمی میں شامل ہوتا ہے تو یہ مشرق وسطیٰ میں امن کے لیے ایک تاریخی پیش رفت ہوگی۔ بیان میں کہا گیا کہ حالیہ علاقائی پیش رفت کے بعد خطے میں امن کے دائرے کو مزید وسعت دینے کا موقع پیدا ہوا ہے، تاہم اسرائیلی حکومت نے امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے پر براہ راست کوئی تبصرہ نہیں کیا۔
ادھر امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل کی ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ صدر ٹرمپ سعودی عرب کے ساتھ 30 سالہ سول جوہری معاہدے کی اصولی منظوری دے چکے ہیں، جسے اب کانگریس کی منظوری درکار ہوگی۔ رپورٹ کے مطابق اس معاہدے کی مالیت کئی ارب ڈالر ہو سکتی ہے اور اس کے ذریعے سعودی عرب کو جوہری توانائی کی جدید ٹیکنالوجی تک رسائی حاصل ہوگی۔
تاہم اسرائیل میں اس مجوزہ معاہدے پر تحفظات بھی سامنے آئے ہیں۔ سابق اسرائیلی وزیر دفاع اویگدور لائبرمین نے اسے اسرائیل کے لیے اسٹریٹیجک خطرہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ہر فوجی جوہری پروگرام کی ابتدا سول جوہری پروگرام سے ہوتی ہے اور اگر سعودی عرب کو اپنی سرزمین پر یورینیم افزودگی کی اجازت دی گئی تو اس سے مشرق وسطیٰ میں جوہری ہتھیاروں کی نئی دوڑ شروع ہونے کا خدشہ پیدا ہو سکتا ہے۔
واضح رہے کہ معاہدہ ابراہیمی کا آغاز 2020 میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پہلے دورِ صدارت میں ہوا تھا، جس کا مقصد اسرائیل اور مختلف عرب و مسلم ممالک کے درمیان سفارتی، اقتصادی اور سکیورٹی تعلقات کو فروغ دینا تھا۔ اس معاہدے کے تحت متحدہ عرب امارات، بحرین، مراکش اور سوڈان اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لا چکے ہیں، جبکہ سعودی عرب کی ممکنہ شمولیت کو خطے کی سفارتی تاریخ میں ایک اہم پیش رفت تصور کیا جا رہا ہے۔