اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 08 اکتوبر 2025ء) پاکستانی سکیورٹی حکام نے خبر رساں ادارے روئٹرز کو بتایا کہ یہ واقعہ شمال مغربی ضلع کرم میں پیش آیا۔ شدت پسندوں نے افغان سرحد کے قریب ایک پاکستانی فوجی قافلے پر گھات لگا کر حملہ کیا۔ انہوں نے بتایا کہ پہلے سڑک کے کنارے نصب بموں سے دھماکے کیے گئے اور پھر قافلے پر فائرنگ کی گئی۔

ایک بیان میں تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) نے تصدیق کی کہ ان کے جنگجوؤں نے قافلے پر حملہ کیا۔

پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) نے بدھ کو بتایا کہ خیبر پختونخوا کے ضلع اورکزئی میں انٹیلیجنس کی بنیاد پر کی جانے والی کارروائی کے دوران 11 فوجی اہلکار ہلاک ہو گئے، جن میں ایک لیفٹیننٹ کرنل اور ایک میجر بھی شامل ہیں۔

(جاری ہے)

آئی ایس پی آر کے بیان کے مطابق، سات اور 8 اکتوبر کی شب سکیورٹی فورسز نے اورکزئی ضلع میں ایک کارروائی کی، ''جہاں بھارتی پراکسی 'فتنہ الخوارج' سے تعلق رکھنے والے شر پسندوں کی موجودگی کی اطلاع تھی۔‘‘

بیان میں مزید کہا گیا کہ آپریشن کے دوران 11 فوجی اہلکار ہلاک ہوئے۔ اس میں مزید کہا گیا ہے کہ کارروائی کے دوران 19 شدت پسند بھی مارے گئے۔

دہشت گردوں کے حملوں میں تیزی

حالیہ مہینوں میں تحریکِ طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) نے، پاکستانی سکیورٹی فورسز پر حملے تیز کر دیے ہیں۔

اسلام آباد کا کہنا ہے کہ یہ شدت پسند، افغانستان میں تربیت اور حملوں کی منصوبہ بندی کرتے ہیں، لیکن کابل اس الزام کی تردید کرتا ہے۔

اسلام آباد کے تھنک ٹینک سینٹر فار ریسرچ اینڈ سکیورٹی اسٹڈیز کی پیر کو جاری کردہ ایک تازہ رپورٹ کے مطابق گزشتہ تین ماہ کے دوران پاکستان میں دہشت گرد حملوں اور فوجی آپریشنز میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے، جس میں 900 سے زائد افراد ہلاک ہوئے۔

رپورٹ میں کہا گیا کہ کم از کم 901 افراد ہلاک اور 599 زخمی ہوئے، یہ واقعات 329 پرتشدد کارروائیوں میں پیش آئے، جن میں شدت پسندوں کے حملے اور پاکستانی فوج کی کارروائیاں شامل ہیں۔ یہ تعداد پچھلے تین ماہ کے مقابلے میں 46 فیصد سے زائد اضافہ ظاہر کرتی ہے۔

رپورٹ کے مطابق اس سال اب تک پاکستان میں 2,414 ہلاکتیں ریکارڈ کی گئی ہیں، جو گزشتہ سال کی کل ہلاکتوں (2,546) کے قریب ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ ابھی 2025 کے تین ماہ باقی ہیں، اور اگر یہ رجحان جاری رہا تو یہ دہائی کے سب سے خونریز سالوں میں شمار ہو گا۔

ادارت: رابعہ بگٹی

.

ذریعہ

ذریعہ: UrduPoint

کلیدی لفظ: تلاش کیجئے کے دوران

پڑھیں:

بیوٹی انفلوئنسر کاسمیٹک سرجری کے دوران چل بسی

میکسیکو کی معروف بیوٹی انفلوئنسر اور سوشل میڈیا کانٹینٹ کریئٹر 30 سالہ ایڈریانا گارشیا (Adriana Garcia)کاسمیٹک سرجری کے دوران پیش آنے والی پیچیدگیوں کے باعث چل بسی۔

رپورٹس کے مطابق ایڈریانا گارشیا کا منگل کے روز ریاست سینالووا کے ایک نجی کلینک میں کاسمیٹک آپریشن کیا جا رہا تھا، جہاں دورانِ سرجری پیچیدگیاں پیدا ہونے کے بعد ان کی موت واقع ہوگئی،مقامی حکام نے تاحال موت کی سرکاری وجہ جاری نہیں کی، جبکہ واقعے کی تحقیقات جاری ہیں۔

مزیدپڑھیں:عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں بڑا اضافہ

واقعے کے بعد حکام نے سرجری کے دوران پیش آنے والے حالات اور ممکنہ طبی غفلت کے پہلوؤں کا جائزہ لینے کے لیے تحقیقات شروع کر دی ہیں۔ ایڈریانا گارشیا کے انسٹاگرام اور دیگر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر 90 ہزار سے زائد فالوورز تھے، ان کے انتقال کی تصدیق میکسیکو کی کمپنی نے بھی کی، جس کے ساتھ وہ بطور انفلوئنسر کام کرتی تھی۔

متعلقہ مضامین

  • بیوٹی انفلوئنسر کاسمیٹک سرجری کے دوران چل بسی
  • مسجد اقصیٰ کی حرمت پر کوئی سمجھوتہ نہیں، پاکستان سمیت 8 ممالک کے وزرائے خارجہ کا دوٹوک اعلان
  • کوہاٹ میں گاڑی پر فائرنگ سے کسٹم اہلکار شہید، ایک شخص زخمی
  • چیک ریپبلک میں فوجی ہیلی کاپٹر گر کر تباہ؛ ایک فوجی ہلاک اور 4 زخمی
  • امریکا کی 250 ویں سالگرہ 5 روزہ نمائش، آزادی کے تصور پر پاکستانی آرٹسٹس کے فن پارے توجہ کا مرکز
  • مستونگ میں فائرنگ،سیشن جج گن مین سمیت شہید،2 افراد زخمی
  • حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا
  • سیکیورٹی فورسز کی مستونگ میں کارروائی کے دوران فتنہ الہندوستان کے 6 دہشت گرد ہلاک
  • پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
  • پاکستانی پرچم بردار جہازوں کیخلاف کسی بھی قسم کی جارحانہ کارروائی کو قومی سلامتی کا خطرہ تصور کیا جائیگا: دفتر خارجہ