میرپور ماتھیلو میں صحافی محمد طفیل ہیدرانی قتل دیرینہ دشمنی کا شاخسانہ قرار
اشاعت کی تاریخ: 8th, October 2025 GMT
ضلع گھوٹکی کے علاقے میرپور ماتھیلو میں مقامی صحافی محمد طفیل ہیدرانی کو فائرنگ کرکے قتل کردیا گیا۔ یہ واقعہ جروار لنک روڈ کے قریب کلہوڑا پھاٹک، نوری پمپ کے نزدیک پیش آیا جس کی اطلاع فوری طور پر پولیس کو دی گئی۔
پولیس کے مطابق 34 سے 35 سالہ محمد طفیل ہیدرانی ولد حافظ لعل بخش ساکن ہیدرانی گوٹھ، عدالت میں اپنے مقدمے کی پیشی کے لیے جارہے تھے کہ گھات لگائے مسلح افراد نے ان پر فائرنگ کردی۔ گولی سر میں لگنے سے وہ موقع پر ہی جاں بحق ہوگئے۔
ابتدائی تحقیقات میں واقعہ دیرینہ دشمنی کا نتیجہ قرار دیا گیا ہے۔ پولیس ذرائع کے مطابق مقتول کے خاندان اور مخالف گروپ خالد ہیدرانی کے گروہ کے درمیان کئی سالوں سے تنازع جاری تھا۔
واضح رہے کہ 2019 میں طفیل ہیدرانی کے گروپ پر عامر ہیدرانی کے قتل کا الزام تھا جبکہ 2024 میں خالد ہیدرانی کے گروپ نے مبینہ طور پر طفیل کے کزن قیوم ہیدرانی کو قتل کیا تھا۔
دونوں خاندانوں کے افراد جیل میں ہیں جبکہ بعض ملزمان تاحال مفرور بتائے جاتے ہیں۔ ان مقدمات پر عدالت میں سماعتیں جاری تھیں۔
واقعے کی اطلاع ربنواز ولد رحیم علی ساکن ہیدرانی نے پولیس کو دی، جس کے بعد لاش کو سول اسپتال میرپور ماتھیلو منتقل کیا گیا جہاں پوسٹ مارٹم کیا گیا۔
تھانہ میرپور ماتھیلو کے ایس ایچ او بدرالدین برو کے مطابق واقعے کی تفتیش جاری ہے اور پولیس خالد ہیدرانی گروپ کے مبینہ حملہ آوروں کی تلاش میں چھاپے مار رہی ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: میرپور ماتھیلو طفیل ہیدرانی ہیدرانی کے
پڑھیں:
اٹلی میں چار پاکستانی زرعی مزدوروں کا قتل، دو پاکستانی شہری گرفتار
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 02 جون 2026ء) اخبار کے مطابق جلی ہوئی گاڑی امینڈولارا نامی گاؤں کے قریب ایک پٹرول پمپ پر ملی، جو کالابریا کے وسیع زرعی علاقے میں واقع ہے۔
اخبار کے مطابق پٹرول پمپ کے سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج میں دو افراد کو منی وین کے دروازے باہر سے بند کرتے اور اس کے اندر آتش گیر مائع پھینکتے ہوئے دیکھا گیا۔
رپورٹ کے مطابق اس کے بعد گاڑی میں آگ بھڑک اٹھی اور دونوں مشتبہ افراد موقع سے فرار ہو گئے۔
فائر بریگیڈ نے آگ بجھانے کے بعد گاڑی کے اندر سے چار لاشیں برآمد کیں۔
مقامی پولیس چیف نے اس اطالوی اخبار سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ’’یہ یقینی طور پر قتل کا واقعہ ہے، اب ہمیں صرف اس کی تفصیلات معلوم کرنا ہیں۔
(جاری ہے)
‘‘
اخبار نے مزید لکھا کہ گزشتہ چند مہینوں کے دوران اس علاقے میں پاکستانیوں کی گاڑیوں اور منی وینز کے نذر آتش کیے جانے کے 14 واقعات پیش آ چکے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق علاقے میں تارکین وطن کے مختلف گروہوں کے درمیان زرعی کام کی تقسیم، رہائشی دستاویزات (ریذیڈنسی پیپرز)، اور رہائش کے مسائل پر کشیدگی پائی جاتی ہے، جسے ممکنہ طور پر اس واقعے کے پس منظر سے جوڑا جا رہا ہے۔
اطالوی حکام اس واقعے کی تحقیقات جاری رکھے ہوئے ہیں تاکہ اکٹھے چار افراد کے اس قتل کے محرکات اور اس کے ذمہ دار افراد کے اس جرم میں کردار کی مکمل طور پر وضاحت ہو سکے۔
ادارت: مقبول ملک