گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی کا اورکزئی میں شہید ہونے والے سکیورٹی فورسز کے افسران و اہلکاروں کو خراج عقیدت
اشاعت کی تاریخ: 8th, October 2025 GMT
پشاور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 08 اکتوبر2025ء) گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے ضلع اورکزئی میں فائرنگ کے تبادلے میں شہید ہونے والے لیفٹیننٹ کرنل اور میجر سمیت سکیورٹی فورسز کے 11 کو خراج عقیدت پیش کیا ہے۔گورنر ہائوس پشاور تر جمان کے مطابق گورنر فیصل کریم کنڈی نے سکیورٹی فورسز کے شہید افسرا ن اور جوانوں کے لواحقین سے تعزیت و دلی ہمدردی کا اظہار اور شہدا کے درجات کی بلندی اور پسماندگان کے لیے صبر جمیل کی دعا کی ۔
(جاری ہے)
گورنر نے کہا کہ سکیورٹی فورسز کےافسران اور جوانوں نے بہادری سے مقابلہ کرتے ہوئے اپنی جانیں ملک و قوم کیلئے قربان کر دیں۔ بہادر سکیورٹی فورسز کے شہدا کی عظیم قربانی کو سلام پیش کرتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ دہشتگردی کیخلاف سکیورٹی فورسز کی بہادری اور پختہ عزم قابل تحسین ہے، ہمارے شہدا کی قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی۔انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا سمیت ملک بھر کے عوام دہشتگردی کیخلاف جنگ میں اپنی مسلح افواج کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں۔.
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے سکیورٹی فورسز کے
پڑھیں:
کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن
الیکشن کمیشن نے خیبر پختونخوا اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم قرار دے دیا۔
اسلام آباد سے الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی کی جانب سے کی جانے والی ترمیم آئین اور قانون سے متصادم ہے۔
الیکشن کمیشن آف پاکستان کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل چوہدری ندیم قاسم کی جانب سے چیف سیکریٹری خیبر پختونخوا کو تحریر کیے گئے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی نے بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل 6 جولائی کو منظور کیا۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق گورنر کے پی نے بلدیاتی حکومت کے نئے ترمیمی بل کی توثیق کر دی ہے، ترمیم کے مطابق ضلع میں ویلیج اور نیبر ہڈ کونسل کی آبادی 30 سے 40 ہزار کے درمیان ہوگی، ترمیم کے مطابق الیکشن کمیشن حکومت سے مشاورت سے کوئی تبدیلی کر سکے گا۔
خط کے مطابق الیکشن ایکٹ اور آئین کے مطابق بلدیاتی حکومتوں کے الیکشن کے لیے حلقہ بندی کرنا الیکشن کمیشن کا اختیار ہے، حلقہ بندی کے معاملے پر حکومت سے مشاورت بھی آئین کی روح کے خلاف ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق الیکشن کمیشن کے لیے اس ترمیم کے تحت 30 سے 40 ہزار کی آبادی کے لیے حلقہ بندی کرنا قابل عمل نہیں۔
خط کے متن کے مطابق آئین کے تحت کوئی قانون الیکشن کمیشن کے اختیارات نہیں لے سکتا، اتنی تاخیر سے یہ ترمیم کرنا بظاہر بلدیاتی انتخابات میں تاخیر کا حربہ ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا حکومت اس معاملے پر معاونت کرے تاکہ بلدیاتی انتخابات کا انعقاد کیا جا سکے۔