تھانہ گلبرگ نے منشیات مافیا کے عامر عرف کالا کو دھر لیا
اشاعت کی تاریخ: 24th, November 2025 GMT
عامر کالا اور دو ساتھیوں سے 135 گرام چرس برآمد، مزید تفتیش جاری
علاقہ مکین نے عامر کالا کے خلاف ڈی جی رینجرز کو درخواست دے رکھی تھی
(رپوٹ/ ایم جے کے )تھانہ گلبرگ نے منشیات مافیا کے عامر عرف کالا کو دھر لیا، عادی مجرم عامر کالا اور اسکے دو ساتھیوں سے 135 گرام چرس برآمد ہوئی، مزید تفتیش جاری، علاقہ مکین نے عامر عرف کالا کے خلاف ڈی جی رینجرز سندھ کو درخواست دے رکھی تھی، تفصیلات کے مطابق ڈسٹرکٹ سینٹرل تھانہ گلبرگ پولیس نے موسی کالونی کا رہائشی منشیات مافیا عامر عرف کالا ولد عبدالمتین کو دھر لیا، تھانہ گلبرگ کے مطابق عامر عرف کالا سے 55گرام چرس برآمد کی گئی ملزم کے خلاف FIR نمبر 556/2025 بجرم 9(1)3-A CNS درج کرکے مزید تفتیش شروع کردی گئی ہے ، ذرائع نے بتایا کہ کچھ دن قبل تھانہ گلبرگ ایس ایچ او کی تبدیلی کے بعد نئے ایس ایچ او کے آنے پر عامر عرف کالا اور دیگر منشیات فروشوں کے خلاف کاروائی کی گئی جس میں عامر عرف کالا اپنے دو منشیات فروشوں کے ہمراہ منشیات فروخت کرتے ہوئے پکڑا گیا اور ان سب کے پاس سے تقریبا 135 گرام چرس برآمد ہوئی تھانہ گلبرگ پولیس کے مطابق، اس سے قبل بھی عامر عرف کالا کے خلاف تھانہ گلبرگ میں کئی ایف آئی آر درج ہیں جس میں یہ ضمانت پر ہے اور سٹی کورٹ میں کیس زیر سماعت ہیں اس کے علاوہ کچھ دن قبل ایک ویڈیو بھی ادارہ جرأت کو موصول ہوئی جس میں موسی کالونی ریلوے پھاٹک کے پاس جہاں مرغی خانہ ہے وہاں پر منشیات مافیا کھلے عام آئس اور دیگر منشیات فروخت کر رہے ہیں جس کے حوالے سے متعلقہ اداروں کو آگاہ کیا گیا اور خبر بھی شائع کی گئی، ذرائع کا مزید کہنا تھا کہ علاقہ مکین موسی کالونی نے عامر عرف کالا کے خلاف ڈی جی رینجرز سندھ کو بھی درخواست دے رکھی تھی جس میں علاقہ مکین کا کہنا تھا کہ عامر عرف کالا گلبرگ تھانے کی حدود اور خاص کر موسی کالونی کے اعتراف میں اپنے کارندوں جن میں فائز، شاہ رخ، شہر یار اور باسط شامل ہیں انکے ذریعے کھلے عام منشیات فروخت کروا رہے ہیں جس میں چرس، آئس، پلزکینڈی اور گٹکا ماوا شامل ہیں، بتایا جاتا ہے کہ ان سب کے پیچھے سیاسی جماعت کی ایک شخصیت کے گھر کا کک کا ہاتھ اور دماغ ہے جس کی تفصیلات بھی بہت جلد شائع کی جائیں گی، تھانہ گلبرگ موسی کالونی کے علاقہ مکینوں کا کہنا ہے کہ اگر علاقے کا کوئی فرد ان منشیات فروشوں کے خلاف تھانے میں شکایت کرتے ہیں تو یہ تمام جرائم پیشہ افراد جن میں خاص کر شاکر بنگالی اور عامر عرف کالا جھنڈ کی صورت میں اس فرد کے گھر پر پہنچ کر اسے مارتے ہیں اور ساتھ ہی اس کے خلاف جھوٹی پٹیشن کے ذریعے جعلی مقدمہ درج کروا دیتے ہیں اور ان تمام کاموں میں تھانہ گلبرگ، تھانہ شریف آباد ان تمام منشیات فروشوں کا ساتھ دیتا ہے نہ کہ ان لوگوں کا جو ان منشیات فروشوں کی شکایت کرتے ہیں، اسی وجہ سے گلبرگ موسی کالونی علاقہ مکین نے محکمہ پولیس کراچی کے اعلی احکام اور ڈی جی رینجرز سندھ کو ان منشیات فروشوں کے خلاف درخواستیں جمع کروائی ہیں تاکہ علاقے میں نوجوان نسل منشیات کے استعمال اور منشیات فروشی سے محفوظ رہ سکیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Juraat
کلیدی لفظ: منشیات فروشوں کے عامر عرف کالا منشیات مافیا ڈی جی رینجرز تھانہ گلبرگ موسی کالونی علاقہ مکین
پڑھیں:
مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے بڑھتے ہوئے واقعات کے خلاف سخت اقدامات کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے جرائم میں ملوث افراد کو جلد انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیےفاسٹ ٹریک عدالتیںقائم کی جائیں گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ طلبہ کے مستقبل سے کھیلنے والوں کے ساتھ کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (X) پر جاری اپنے بیان میں وزیراعظم مودی نے کہا کہ نوجوانوں کا مستقبل حکومت کی اولین ترجیح ہے اور امتحانی نظام میں بدعنوانی یا پرچے لیک کرنے جیسے جرائم میں ملوث عناصر کو سخت اور فوری سزا دی جائے گی۔
یہ امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے معاملے پر وزیراعظم مودی کا پہلا عوامی بیان ہے۔ تاہم ان کے ردعمل کے بعد بھی ملک بھر میں جاری طلبہ احتجاج میں کمی نہیں آئی۔ متعدد طلبہ اور سماجی حلقوں نے سوال اٹھایا کہ حکومت نے اس حساس معاملے پر ردعمل دینے میں اتنی تاخیر کیوں کی۔
دوسری جانب لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے وزیراعظم کے بیان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے حکومت پر تعلیمی نظام کو کمزور کرنے کا الزام عائد کیا۔
راہل گاندھی نے ایکس پر اپنی پوسٹ میں لکھا کہ نوجوانوں کے مستقبل کو سب سے زیادہ نقصان موجودہ حکومت نے پہنچایا ہے۔ ان کے مطابق حکومت نے نہ صرف تعلیمی نظام کو تباہ ہونے دیا بلکہ ذمہ دار افراد کو بھی تحفظ فراہم کیا۔
انہوں نے کہا کہ احتجاج کرنے والے طلبہ کے تین بنیادی مطالبات ہیں، جن میں وزیر تعلیم دھرمندر پردھان کو عہدے سے ہٹانا، طلبہ سے باضابطہ معافی مانگنا اور احتجاج کے دوران طلبہ پر مبینہ تشدد میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی شامل ہے۔
واضح رہے کہ ملک میں تعلیمی اصلاحات اور امتحانی نظام میں شفافیت کے مطالبات کے حوالے سے احتجاجی تحریک جاری ہے۔ حالیہ دنوں میں طلبہ اور پولیس کے درمیان جھڑپوں کے بعد یہ معاملہ مزید شدت اختیار کر گیا ہے، جبکہ امتحانی پرچے لیک ہونے کے واقعات نے بھارت کے تعلیمی نظام پر سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔