دھرنے ناقابل برداشت ،ریاست کافیصلہ ہے جتھوں سے بلیک میل نہیں ہونا،طلال چوہدری
اشاعت کی تاریخ: 14th, October 2025 GMT
وزیرمملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے کہاہے کہ ٹی ایل پی کے دھرنے ناقابل برداشت ہیں ،ریاست کافیصلہ ہے آگے بڑھناہے،جتھوں سے بلیک میل نہیں ہونا،
نجی ٹی وی سے گفتگو کرتےہوئے طلال چوہدری نے کہاکہ ہماری حکومت میں انہوں نے دوباراحتجاج کی کوشش کی،پہلی باران کے احتجاج کی ٹائمنگ پاک بھارت جنگ تھی،دوسری بار انہوں نے سیلاب اورپاک افغان جنگ کے دوران مارچ نکالا،افغانستان نے پاکستان پرحملہ کیاتوانہوں نے اپنادھرنا ختم نہیں کیا۔انہوں نے کہاکہ جتھوں کی بلیک میلنگ اب برداشت نہیں کی جائے گی ،احتجاج کرنے والوں کی قیادت کو بھگتناپڑےگا، جنہوں نے جرم کیااورجنہوں نے کرایاسب کو بھگتناپڑے گا۔ انہوں نے کہاکہ احتجاج کرنے والوں کی طرف سے جو ان ڈائریکٹ ڈیمانڈزآئیں ان میں فلسطین کاذکرہی نہیں تھا،ان کے مطالبات تھے کہ قتل اور سنگین جرائم میں گرفتاران کے لوگ رہاکئے جائیں۔
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: انہوں نے
پڑھیں:
کوزم پورا نہ ہونے پر قومی اسمبلی کا اجلاس ملتوی : سینٹ میں پی ٹی آئی کا احتجاج ؛ نعرے بازی
اسلام آباد (وقائع نگار) جمعہ کے روز قومی اسمبلی کا اجلاس سردار ایاز صادق کی سربراہی میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں اپوزیشن کے رکن صاحبزادہ محبوب سلطان نے نکتہ اعتراض مانگا تاہم سپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق نے واضح کیا کہ پہلے ایوان کا بزنس چلایا جائے گا، اس کے بعد نکتہ اعتراض دیا جائے گا۔ اسی دوران اپوزیشن رکن نے کورم کی نشاندہی کر دی۔ گنتی کے بعد ایوان میں صرف 53 اراکین موجود پائے گئے، جبکہ کورم پورا کرنے کے لیے 84 اراکین کی موجودگی ضروری ہے۔ حکومت ایوان میں مطلوبہ تعداد یقینی بنانے میں ناکام رہی، جس پر سپیکر قومی اسمبلی نے کورم پورا ہونے تک اجلاس کی کارروائی معطل کر دی۔ اجلاس دوبارہ ڈپٹی سپیکر سید غلام مصطفیٰ شاہ کی سربراہی میں شروع ہوا تو گنتی کرائی گئی لیکن کورم پورا نہ نکلا اور اجلاس پیر شام پانچ بجے تک ملتوی کر دیا گیا۔ دوسری طرف سینٹ اجلاس شہادت اعوان کی صدارت میں منعقد ہوا۔ پی ٹی آئی ارکان نے شدید احتجاج اور نعرے بازی کی۔ وقفہ سوالات میں پی پی کے سینیٹر طلحہ محمود نے کہاکہ چترال میں سیاحت اس وقت تک فروغ نہیں پاسکتی جب تک وہاں پر بنیادی سہولیات فراہم نہ کی جائیں۔ انہوں نے کہاکہ چترال میں نہ تو انٹرنیٹ سسٹم ہے اور نہ ہی سڑکوںکا نظام بہتر ہے جس پر وفاقی وزیر پارلیمانی امور ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے کہاکہ حکومت چترال میں سیاحت کے فروغ کیلئے اقدامات اٹھا رہی ہے تاہم 18ویں ترمیم کے بعد سیاحت کا شعبہ صوبوں کو منتقل ہوگیا تھا جس کی وجہ سے اب یہ صوبوں کی ذمہ داری ہے۔ سینیٹر جان محمد نے کہاکہ تربت سے فلائٹ سروس کینسل کردی گئی ہیں اور اب صرف دو فلائٹیں ہفتے میں چلتی ہیں اس کی کیا وجوہات ہیں۔ جس پر وفاقی وزیر پارلیمانی امور ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے کہاکہ تربت مکران ڈویژن کے علاقے میں ہے اور وہاں سے فلائٹس آپریٹ ہوتی تھی مگر وہاں پر اب ٹریولنگ لوڈ کے مطابق فلائیٹس چلتی ہیں اور اگر مزید ضرورت پڑی تو فلائٹس بڑھا دی جائیں گی۔ ایوان بالا نے جرنلسٹ پروٹیکشن بل منظوری کیلئے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس کو بھجوا دیا۔ نجکاری کمیشن ترمیمی بل پیش کردیا گیا جو کمیٹی کے سپرد کر دیا گیا۔