غزہ امن معاہدہ طے پا جانے کے بعد تحریک لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) کی جانب سے لاہور سے احتجاج شروع ہوتے ہی پرتشدد ہو گیا لیکن ٹی ایل پی اور ان کے حامیوں کی جانب سے اس احتجاج کو مسلسل پُرامن قرار دیا جا رہا تھا۔

سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے مختلف تصاویر اور ویڈیوز شیئر کی گئیں جس میں ٹی ایل پی کے کارکنان کو ہاتھوں میں ڈنڈے اٹھائے اور املاک کو نقصان پہنچاتے ہوئے دیکھا گیا۔ صارفین کا کہنا تھا کہ سڑکوں پر اُن کے کارکنوں کا طرزِ عمل کچھ اور کہانی سناتا ہے۔ یہ سب انتشار کے زمرے میں آتا ہے اور معاشرے کو ایسے رویوں سے نقصان ہی پہنچتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: احتجاج میں پرتشدد واقعات، ’ٹی ایل پی کو فوری کالعدم قرار دیا جائے‘

ایک صارف کا کہنا تھا کہ فورسز پر فائرنگ کرنے والے، پولیس اہلکاروں پر حملے کرنے والے، سرکاری و نجی املاک کو نقصان پہنچانے اور لوٹ مار کرنے والے ٹی ایل پی کے انتہا پسند ہیں۔

انہوں نے سوال کیا کہ کیا انہیں احتجاج کے نام پر سب کچھ کرنے کی کھلی چھوٹ ہے؟ اور پھر جب ریاست اپنی رٹ قائم کرتی ہے تو یہ خود کو مظلوم ظاہر کرنے لگتے ہیں لیکن ریاست پر حملہ کرنے والے کبھی مظلوم نہیں ہو سکتے۔

فورسز پر فائرنگ کرنے والے، پولیس اہلکاروں پر حملے کرنے والے، سرکاری و نجی املاک کو نقصان پہنچانے اور لوٹ مار کرنے والے ٹی ایل پی کے انتہا پسند — کیا انہیں احتجاج کے نام پر سب کچھ کرنے کی کھلی چھوٹ ہے؟
پھر جب ریاست اپنی رٹ قائم کرتی ہے تو یہ خود کو مظلوم ظاہر کرنے لگتے ہیں۔
ریاست… pic.

twitter.com/FOBqSYQnpS

— Iram (Summan) Dar ♌ (@summandar01) October 13, 2025

 واضح رہے کہ ٹی ایل پی نے 10 اکتوبر کو راولپنڈی سے اسلام آباد میں واقع امریکی سفارتخانے تک مارچ کا اعلان کر رکھا تھا۔ تاہم رُکاوٹوں کے سبب یہ مارچ اسلام آباد نہیں پہنچ سکا اور انھوں نے لاہور سے مارچ شروع کرنے کا اعلان کیا تھا۔ اس احتحاجی مارچ کے شرکا نے مریدکے میں قیام کیا ہوا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: ٹی ایل پی کے امریکی سفارتخانے کی طرف مارچ، ’یہ ایک پرتشدد جماعت ہے‘

پولیس حکام کا کہنا تھا کہ برسوں سے تحریک لبیک کے انتشاری احتجاج کے دوران مختلف مقامات پر پولیس سے اسلحہ چھینتے رہے ہیں۔ اور پولیس کے ریکارڈ کے مطابق  یہ عناصر اب تک تقریباً 400 پولیس اہلکاروں کی بندوقیں لے جا چکے ہیں، اور وہ یہی اسلحہ بعد میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کے خلاف استعمال کرتے ہیں۔

حالیہ چند دنوں کے احتجاج میں بھی انہوں نے 4 پولیس کی گشت کرنے والی گاڑیاں اغوا کی ہیں، جن کے ساتھ پولیس اہلکاروں اور ان کے ہتھیار بھی لے لیے گئے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

اسلام آباد راولپنڈی راستے انٹرنیٹ سروس ٹی ایل پی ٹی ایل پی کالعدم سعد رضوی

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: اسلام ا باد راولپنڈی راستے انٹرنیٹ سروس ٹی ایل پی ٹی ایل پی کالعدم سعد رضوی پولیس اہلکاروں ٹی ایل پی کے کرنے والے

پڑھیں:

کراچی: 6 سالہ بچی سے مبینہ زیادتی کرنے والا ملزم پولیس مقابلے میں مارا گیا

فائل فوٹو 

کراچی میں جیکسن کے علاقے میں بچی سے مبینہ زیادتی کرنے والا ملزم پولیس مقابلے میں مارا گیا۔

ڈپٹی انسپکٹر جنرل (ڈی آئی جی) ساؤتھ اسد رضا کے مطابق 6 سالہ بچی کی لاش آج دوپہر کو جیکسن کے علاقے سے ملی تھی، ملزم کی گرفتاری کے لیے جیسے ہی پولیس پہنچی، اُس نے پولیس پر فائرنگ کردی۔

ڈی آئی جی کا کہنا ہے کہ پولیس کے ساتھ فائرنگ کے تبادلے میں ملزم ہلاک ہوگیا، جس کے پاس سے اسلحہ برآمد ہوا۔

پولیس کا کہنا ہے کہ بچی کل دوپہر کو لاپتا ہوئی تھی، آج اس کی لاش ملی،  ابتدائی پوسٹ مارٹم میں بھی بچی کے ساتھ زیادتی کی تصدیق ہوگئی تھی۔

متعلقہ مضامین

  • ’ابھی ہو گیا، بس‘، سونو نگم نے نیٹ احتجاج پر تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا
  • ’چاہیں تو گھر سے کھانا بھجوا دوں‘، سلمان خان کی سونم وانگچک سے بھوک ہڑتال ختم کرنے کی اپیل
  • اسکردو: سیلفی بناتے کچورا جھیل میں گرے موبائل کو نکالتے ہوئے نوجوان گر کر جاں بحق
  • تحریک انصاف5 اگست کو کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • کراچی، رینجرز اور ایس آئی یولیس کے ساتھ مقابلے میں 3 بھتہ خور ہلاک، ایک زخمی گرفتار
  • 5 اگست کو پاکستان تحریک انصاف کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • جاپان نے شدید گرمی سے بچاؤ کے لیے ‘انسانی ریفریجریٹر’ تیار کرلیا
  • حملہ ہوا تو خلیج میں امریکہ سے منسلک پلوں اور بجلی گھروں کو نشانہ بنائیں گے، ایران
  • دہشتگردی کے خاتمے تک فتنۃ الخوارج و فتنۃ الہندوستان کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی، فیلڈ مارشل
  • کراچی: 6 سالہ بچی سے مبینہ زیادتی کرنے والا ملزم پولیس مقابلے میں مارا گیا