کراچی میں غیر قانونی طور پر مقیم افغانیوں کیخلاف آپریشن‘ 21 افغان باشندے زیر حراست
اشاعت کی تاریخ: 14th, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی (اسٹاف رپورٹر) کراچی میں غیر قانونی طور پر مقیم افغان شہریوں کے خلاف قانون نافذ کرنے والے اداروں کا مشترکہ آپریشن شروع کر دیا گیا ہے۔ پولیس کے مطابق کارروائی پاکستان رینجرز، سی ٹی ڈی اور سہراب گوٹھ پولیس کی مشترکہ ٹیم نے کی۔ترجمان پولیس کے مطابق آپریشن سہراب گوٹھ ڈویژن کے مختلف علاقوں میں کیا گیا، جہاں داخلی و خارجی راستوں کو سیل کر کے گھر گھر تلاشی لی گئی۔ کارروائی کے دوران 21 افغان باشندوں کو حراست میں لیا گیا جو بغیر قانونی دستاویزات کے پاکستان میں مقیم تھے۔پولیس حکام نے بتایا کہ زیرِ حراست افراد کو ابتدائی تفتیش کے بعد غیر قانونی مقیم افغانوں کے لیے قائم کردہ مرکز منتقل کیا جائے گا، جہاں سے انہیں افغانستان واپس بھیجنے کا عمل مکمل کیا جائے گا۔ڈی ایس پی سہراب گوٹھ کے مطابق غیر قانونی افغان باشندوں کے خلاف آپریشن کا سلسلہ جاری رہے گا، تاہم اس دوران کسی بھی شخص کو بلاجوازہراساں نہیں کیا جائے گا۔دوسری جانب وزیرِ داخلہ سندھ ضیا الحسن لنجار نے واضح کیا کہ ریاست کی پالیسی غیر قانونی طور پر مقیم افغان شہریوں کے بارے میں بالکل واضح ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ملک بھر میں غیر قانونی طور پر مقیم افغان باشندوں کو وطن واپس بھیجا جا رہا ہے، اور اس سلسلے میں پولیس و قانون نافذ کرنے والے اداروں کو واضح ہدایات جاری کی گئی ہیں۔وزیرِ داخلہ سندھ نے سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی جھوٹی خبروں کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ کراچی میں غیر قانونی طور پر مقیم افغانیوں کے لیے کوئی جگہ نہیں، ریاستی پالیسی پر مکمل عملدرآمد یقینی بنایا جا رہا ہے۔انہوں نے شہریوں سے اپیل کی کہ غیر قانونی مقیم افراد کی نشاندہی میں حکومت سے تعاون کریں ۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: میں غیر قانونی طور پر مقیم افغان
پڑھیں:
برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
برطانیہ کے 70 سے زائد ارکانِ پارلیمنٹ نے نئے وزیراعظم اینڈی برنہم سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ غزہ میں اسرائیلی کارروائیوں کے حوالے سے اقوامِ متحدہ کے آزاد تحقیقاتی کمیشن کے نتائج کو باضابطہ طور پر تسلیم کریں اور اسرائیل کے خلاف فوری اور مؤثر اقدامات کریں۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق خط میں نشاندہی کی گئی ہے کہ گزشتہ ماہ جاری ہونے والی اقوامِ متحدہ کی آزاد تحقیقاتی رپورٹ میں یہ نتیجہ اخذ کیا گیا تھا کہ غزہ میں اسرائیلی فوج کی کارروائیاں نسل کشی کے زمرے میں آتی ہیں اور رپورٹ میں خاص طور پر اسرائیلی حملوں میں بچوں کو دانستہ طور پر نشانہ بنانے کی تصدیق بھی تھی۔
ارکان پارلیمان نے کھلے خط میں نو منتخب وزیراعظم سے مطالبہ کیا کہ وہ بین الاقوامی عدالتِ انصاف کی جولائی 2024 کی مشاورتی رائے پر بھی عمل درآمد کو یقینی بنانے کے لیے عملی اقدامات کریں۔
برطانوی ارکانِ پارلیمنٹ کے بقول عالمی عدالت نے اسرائیل پر زور دیا تھا کہ وہ فوری طور پر مقبوضہ فلسطینی علاقوں سے اپنی موجودگی ختم کرے، تمام اسرائیلی بستیاں ختم کرے، متاثرہ فلسطینیوں کو معاوضہ ادا کرے اور بے گھر ہونے والے فلسطینیوں کی واپسی میں تعاون کرے۔
عدالت نے اپنی رائے میں یہ بھی کہا تھا کہ دنیا کے تمام ممالک پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ ایسے اقدامات سے گریز کریں جو اسرائیلی قبضے کو برقرار رکھنے یا اس میں معاونت کا سبب بنیں۔
خط میں برطانوی حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ اسرائیل پر مکمل اسلحہ پابندی عائد کی جائے، اسرائیلی حکام کے خلاف پابندیاں لگائی جائیں اور ایسی ہر قسم کی تجارت پر پابندی عائد کی جائے جو مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں قائم اسرائیلی بستیوں کو فائدہ پہنچاتی ہو۔
ارکانِ پارلیمنٹ کا کہنا ہے کہ برطانیہ کو بین الاقوامی قوانین اور انسانی حقوق سے متعلق اپنی ذمہ داریوں کو پورا کرتے ہوئے واضح اور مؤثر پالیسی اختیار کرنی چاہیے۔
I'm one of 80 MPs & Peers calling on the PM to:
- Recognise the UN’s findings on genocide & implement the ICJ ruling in full
- Impose sanctions including a full arms embargo
- Ban trade that supports Israel’s illegal settlements
End Britain’s complicity in genocide, now. pic.twitter.com/TjtJ0yj2Qq
فلسطین سالیڈیرٹی کمپین کے نائب ڈائریکٹر پیٹر لیری نے ارکانِ پارلیمنٹ کے خط کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا تھا کہ برطانوی حکومت نے طویل عرصے سے نسل کشی کنونشن اور بین الاقوامی عدالتِ انصاف کے مؤقف کو نظر انداز کیا ہے۔
انھوں نے الزام عائد کیا ہے کہ برطانیہ مسلسل ایسی پالیسیاں اپناتا رہا ہے جن سے فلسطینی عوام کے خلاف اسرائیلی کارروائیوں کو عملی یا سفارتی حمایت ملتی رہی۔
خیال رہے کہ اسرائیل غزہ میں نسل کشی کے الزامات کو مسترد کرتا ہے اور مؤقف اختیار کرتا آیا ہے کہ اس کی فوجی کارروائیاں حماس اور دیگر مسلح گروہوں کے خلاف ہیں جبکہ شہری ہلاکتوں سے بچنے کے لیے اقدامات کیے جاتے ہیں۔
واضح رہے کہ اقوامِ متحدہ اور متعدد بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیمیں اسرائیلی دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے غزہ میں بڑے پیمانے پر شہریوں، خصوصاً خواتین اور بچوں کے جانی نقصان پر مسلسل تشویش کا اظہار کر رہی ہیں۔