وزیراعظم شہباز شریف سے حکومتی مذاکراتی کمیٹی کی ملاقات، کشمیر میں کامیاب مذاکراتی عمل پر اظہارِ اطمینان
اشاعت کی تاریخ: 8th, October 2025 GMT
وزیراعظم محمد شہباز شریف سے آزاد کشمیر میں مذاکراتی عمل کی کامیابی کے بعد حکومتی مذاکراتی کمیٹی نے اسلام آباد میں ملاقات کی۔
ملاقات میں راجا پرویز اشرف، مشیرِ وزیراعظم رانا ثنا اللہ، وفاقی وزرا احسن اقبال، محمد اورنگزیب، سردار محمد یوسف، ڈاکٹر طارق فضل چوہدری، احد خان چیمہ اور چیئرمین یوتھ پروگرام رانا مشہود احمد خان شریک تھے۔
مزید پڑھیں: جموں کشمیر جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے متحرک رہنما شوکت نواز میر کون ہیں؟
وزیراعظم نے مذاکراتی کمیٹی کے اراکین کی کوششوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ کمیٹی نے کشمیر میں معاملات کو احسن انداز میں حل کیا۔
انہوں نے کہا کہ جوائنٹ ایکشن کمیٹی نے بھی کشمیری عوام کی ترقی و خوشحالی کے لیے معاملہ فہمی اور ذمہ داری کا مظاہرہ کیا، جو قابلِ تحسین ہے۔
وزیرِ اعظم شہباز شریف سے آزاد کشمیر میں مذاکرتی عمل کی کامیابی کے بعد حکومتی مذاکراتی کمیٹی کی ملاقات۔ راجا پرویز اشرف، رانا ثنا اللہ، احسن اقبال، محمد اورنگزیب، سردار محمد یوسف، ڈاکٹر طارق فضل چوہدری، احد خان چیمہ اور رانا مشہود احمد خان شریک تھے۔@pmln_org @AzmaBokhariPMLN pic.
— Media Talk (@mediatalk922) October 8, 2025
وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ کشمیر کے تمام معاملات خوش اسلوبی سے حل ہو گئے ہیں اور کشمیری عوام کے تمام تحفظات کو دور کیا جائے گا۔
انہوں نے یقین دلایا کہ حکومت اپنے کشمیری بھائیوں کے مسائل کے حل کے لیے اقدامات جاری رکھے گی۔ عوامی مفاد اور امن ہماری اولین ترجیح ہے، ہم آزاد کشمیر کے عوام کی خدمت کرتے رہیں گے۔
مزید پڑھیں: ’ہم پاکستانی ہیں اور پاکستان ہمارا ہے‘ آزاد کشمیر جوائنٹ ایکشن کمیٹی کا پُرتشدد واقعات سے اظہار لاتعلقی
انہوں نے مزید کہا کہ ماضی میں بھی کشمیری عوام کے حقوق کے محافظ تھے اور آئندہ بھی ان کے حقوق کا تحفظ جاری رکھیں گے۔
وزیراعظم نے اس عزم کا اظہار کیا کہ حکومت کشمیری عوام کی امنگوں کے مطابق ان کی ترقی و خوشحالی کے لیے عملی اقدامات اٹھاتی رہے گی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
آزاد کشمیر جوائنٹ ایکشن کمیٹی حکومتی مذاکراتی کمیٹی وزیراعظم محمد شہباز شریف
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: جوائنٹ ایکشن کمیٹی حکومتی مذاکراتی کمیٹی وزیراعظم محمد شہباز شریف حکومتی مذاکراتی کمیٹی جوائنٹ ایکشن کمیٹی کشمیری عوام شہباز شریف کے لیے کہا کہ
پڑھیں:
آزاد کشمیر میں 47 روز بعد میرپور میں انٹرنیٹ سروس جزوی بحال، دیگر علاقوں میں بحالی کا انتظار
آزاد جموں و کشمیر کے شہر میرپور اور اس سے ملحقہ علاقوں میں گزشتہ 47 روز سے معطل انٹرنیٹ سروس جزوی طور پر بحال ہونا شروع ہو گئی ہے۔ اطلاعات کے مطابق ابتدائی مرحلے میں صرف موبائل انٹرنیٹ بحال کیا گیا ہے، جبکہ وائی فائی انٹرنیٹ سروس بلنگ کا عمل مکمل ہونے کے بعد بحال کی جائے گی۔
یاد رہے کہ آزاد کشمیر میں 5 جون 2026 کو انٹرنیٹ سروسز معطل کر دی گئی تھیں۔ یہ اقدام اس وقت کیا گیا تھا جب جموں و کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی (جیک) نے اپنے مطالبات کے حق میں احتجاجی تحریک شروع کرتے ہوئے 9 جون کو مظفرآباد کی جانب لانگ مارچ کا اعلان کیا تھا۔
بعد ازاں 5 جون کو ایکشن کمیٹی کے ایک مرکزی رکن پر مبینہ حملے اور مظاہرین و سکیورٹی فورسز کے درمیان جھڑپوں کے بعد حکومت نے کمیٹی کو کالعدم قرار دے دیا تھا، جبکہ اسی روز پورے آزاد کشمیر میں بغیر پیشگی اطلاع انٹرنیٹ سروس بھی معطل کر دی گئی تھی۔
اس سے قبل پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری اپنے بیان میں پیپلز پارٹی آزاد کشمیر اور الیکشن کمیشن کی جانب سے انٹرنیٹ بحالی کے لیے کی جانے والی کوششوں کو سراہتے ہوئے امید ظاہر کی تھی کہ میرپور میں سروس جلد بحال ہو جائے گی۔ انہوں نے یہ توقع بھی ظاہر کی کہ مظفرآباد اور دیگر علاقوں میں بھی انٹرنیٹ سروس جلد بحال کر دی جائے گی۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب آزاد کشمیر میں قانون ساز اسمبلی کے انتخابات قریب ہیں۔ الیکشن کمیشن پہلے ہی سکیورٹی اور انتخابی انتظامات کو مؤثر بنانے کے لیے انتخابات تین مراحل میں کرانے کا اعلان کر چکا ہے۔
شیڈول کے مطابق پہلے مرحلے میں 27 جولائی کو میرپور ڈویژن، دوسرے مرحلے میں 2 اگست کو مظفرآباد ڈویژن اور مہاجرین کی نشستوں، جبکہ تیسرے اور آخری مرحلے میں 10 اگست کو پونچھ ڈویژن میں پولنگ ہوگی۔دوسری جانب کالعدم ایکشن کمیٹی کا راولاکوٹ میں احتجاج تاحال جاری ہے۔ کمیٹی کے اہم مطالبات میں مہاجرینِ مقبوضہ کشمیر کے لیے آزاد کشمیر اسمبلی میں مختص 12 نشستوں کے خاتمے سمیت دیگر آئینی اور انتظامی امور شامل ہیں۔