data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

تہران: ایران نے اعلان کیا ہے کہ وہ مصر کے شہر شرم الشیخ میں منعقد ہونے والی غزہ امن سربراہی کانفرنس میں شرکت نہیں کرے گا۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے واضح کیا ہے کہ ایران اُن ممالک کے ساتھ ایک میز پر بیٹھنے کو تیار نہیں جو ایرانی عوام پر حملے اور دھمکیاں دے چکے ہیں۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس (X) پر جاری بیان میں عباس عراقچی نے کہا کہ اگرچہ ایران کو اس اجلاس میں شرکت کی دعوت دی گئی تھی، تاہم صدر اور وزیر خارجہ دونوں نے اجلاس میں شریک نہ ہونے کا فیصلہ کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا، “ہم ان قوتوں کے ساتھ بات چیت نہیں کر سکتے جنہوں نے ایرانی عوام پر حملے کیے اور پابندیوں و دھمکیوں کا نشانہ بنایا۔”

واضح رہے کہ رواں سال جون میں اسرائیل کی جانب سے ایران کے میزائل ذخائر اور لانچنگ سائٹس پر حملے کیے گئے تھے، جس کے جواب میں ایران نے وسطی اسرائیل پر میزائل اور ڈرون حملے کیے، جبکہ امریکا نے بھی ایرانی جوہری تنصیبات کو نشانہ بنایا تھا۔

غزہ میں جاری جنگ بندی کے حوالے سے عباس عراقچی نے کہا کہ ایران ہر اس کوشش کی حمایت کرتا ہے جو اسرائیلی جارحیت کے خاتمے اور غزہ سے قابض افواج کے انخلا کا سبب بنے۔

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ایران خطے میں امن کے قیام کے لیے ایک مؤثر اور اہم طاقت ہے — اور یہ کردار ہمیشہ برقرار رہے گا۔

ویب ڈیسک مقصود بھٹی.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: عباس عراقچی

پڑھیں:

علی الزیدی کا ایران کا اہم دورہ، دوطرفہ تعلقات بڑھانے پر اتفاق

ایرانی صدر سے ملاقات میں عراقی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ عراق اور ایران کی سلامتی ایک دوسرے سے جڑی ہوئی ہے اور عراق اپنی سرزمین ایران کے خلاف کسی بھی کارروائی کے لیے استعمال نہیں ہونے دے گا۔ اسلام ٹائمز۔ امریکا کے دورے کے بعد عراقی وزیراعظم علی الزیدی نے ایران کا اہم دورہ کیا، جہاں انہوں نے ایرانی صدر مسعود پزشکیان اور اعلیٰ ایرانی قیادت سے ملاقاتیں کیں۔خبر ایجنسی کے مطابق ایرانی صدر مسعود پزشکیان اور عراقی وزیراعظم کے درمیان ہونے والے مذاکرات میں دوطرفہ تعلقات، اقتصادی تعاون، توانائی، تجارت اور علاقائی سلامتی سمیت مختلف امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ دونوں ممالک نے اقتصادی تعاون اور مشترکہ سرمایہ کاری کو فروغ دینے پر اتفاق کیا، جبکہ نقل و حمل اور شہری تعاون سے متعلق نئے معاہدے بھی طے پائے۔
عراقی وزیراعظم علی الزیدی نے اس موقع پر کہا کہ عراق اور ایران کی سلامتی ایک دوسرے سے جڑی ہوئی ہے اور عراق اپنی سرزمین ایران کے خلاف کسی بھی کارروائی کے لیے استعمال نہیں ہونے دے گا۔ ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا کہ ایران اور عراق کے درمیان تاریخی، مذہبی اور ثقافتی رشتے نہایت مضبوط ہیں، جبکہ خطے کا استحکام دونوں ممالک کی ترقی اور خوشحالی کے لیے ناگزیر ہے۔ خبر ایجنسی کے مطابق دورے کے اختتام پر منعقدہ دستخطی تقریب میں ایرانی اور عراقی وزراء نے مختلف تعاون کے معاہدوں کا تبادلہ بھی کیا۔

متعلقہ مضامین

  • ایرانی اثاثے ضبط کرنے کی ٹرمپ کی دھمکی خطرناک نظیر ہے، عباس عراقچی کا سخت ردعمل
  • امریکا کے ایران پر مسلسل 13ویں شب بھی حملے، ٹرمپ نے مزید بڑی کارروائی کا عندیہ دے دیا، تہران کا سخت ردعمل
  • جارحیت کی قیمت واشنگٹن کو بہت مہنگی پڑے گی، عباس عراقچی
  • مانجھی خیل چیک پوسٹ حملہ، گورنر خیبرپختونخوا نے رپورٹ طلب کر لی
  • انفرااسٹرکچر پر امریکی حملوں کا جواب شدید اور وسیع ہوگا، ایران
  • ایران نے فوجی اڈوں کے استعمال پر برطانیہ کو سخت وارننگ دے دی
  • ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
  • علی الزیدی کا ایران کا اہم دورہ، دوطرفہ تعلقات بڑھانے پر اتفاق
  • مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
  • حملہ ہوا تو خلیج میں امریکہ سے منسلک پلوں اور بجلی گھروں کو نشانہ بنائیں گے، ایران