WE News:
2026-07-24@05:27:07 GMT

جین زی: گزشتہ سے پیوستہ

اشاعت کی تاریخ: 11th, October 2025 GMT

جین زی پر میرے پچھلے کالم کو آپ سب نے جس محبت اور توجہ سے سراہا، اس کے لیے دل کی گہرائیوں سے شکریہ۔

بہت سے احباب نے اس پر دلچسپ آرا اور تفصیلات شیئر کیں جن سے میرا زاویۂ نگاہ مزید وسیع اور گہرا ہوا۔

اور اس کالم کو ایک نئے زاویے سے لکھنے کی تحریک ملی۔

یہ بھی پڑھیں: جین زی (Gen Z) کی تنہائی اور بے چینی

میرا مقصد کسی نسل کے حوالے سے فیصلہ سنانا یا کوئی حتمی رائے مسلط کرنا نہیں بلکہ محض یہ کوشش ہے کہ ایک کھلا، مدلل اور بامقصد مکالمہ شروع ہو جو سوچ کے نئے در وا کرے۔

ہم سے پچھلی نسل کو بھی ہم سے یہی گِلہ تھا کہ ہم بگڑی ہوئی نسل ہیں۔

شاید اُن سے پہلے والوں نے بھی اُن کے بارے میں یہی رائے بنائی ہو۔

درحقیقت ہر گزرتا زمانہ اپنے بعد آنے والے زمانے سے خائف ہوتا ہے۔

میں نے گذشتہ کالم میں لکھا تھا کہ جین زی ایک بے چین، بے صبر، بے ترتیب نسل ہے۔ جذباتی گہرائی سے نابلد اور موازنہ کلچر کا شکار۔ لیکن ڈاکٹر حامد نے ایک جملہ کہا جس نے مجھے دوبارہ سوچنے پر مجبور کیا، انہوں نے کہا  کہ ’جیسے تمہاری نسل نے، تم سے پہلی نسل نے اپنا رستہ بنایا۔ یہ نسل بھی کچھ نقصان کر کے، کچھ کھو کر بالآخر اپنا رستہ بنالے گی۔ یہی قانون حیات ہے۔ مجھے راشد یاد آگئے۔

روشنی سے ڈرتے ہو؟ روشنی تو تم بھی ہو روشنی تو ہم بھی ہیں!

مزید پڑھیے: طلاق اور علیحدگی کے بدلتے اصول: ’گرے ڈائیورس‘ کا بڑھتا ہوا رجحان

سوچا روشنی سے ڈرتے نہیں — مکالمہ کرتے ہیں۔ جین زی کے پاس ٹیکنالوجی، معلومات، مصنوعی ذہانت کے بے پناہ ہتھیار ہیں۔ ہتھیار اگر عقل سلیم سے استعمال کیا جائے تو برتری آپ کی ورنہ نقصان بھی آپ کا۔ یہی حال ان ڈیجیٹل ہتھیاروں کا بھی ہے۔ ان کا حاکم بننا ہے یا  ان کا غلام ۔ یہ فیصلہ انہیں استعمال کرنے والے کے ہاتھ ہے۔

قدیم یونان میں ایک ’سوفیسٹ اسٹیج‘ ہوا کرتا تھا جہاں دانشور، ادیب، مناظِر اور مقرر آکر گفتگو کرتے تھے، لیکن چونکہ مقصد سچ کا پرچار نہیں بلکہ صرف تقریری مقابلہ جیتنا ہوتا تھا، اس لیے کوئی بھی فنکار اس سٹیج پر ناقص ترین دلیلیں دے کر اپنے حق میں تالیاں بھی بجوا لیتا اور انعام بھی حاصل کر لیتا تھا۔

اس کی فضول باتوں کے لوگ دیوانے ہوتے۔

بغیر مکمل استدلال اور حکمت کے ہر ٹرینڈنگ ’انفلوئنسر‘ وہی سوفیسٹ اسٹیج والا جذباتی مقررہی ہے،

جو اچھا فنکار تو ضرور ہے، مگر اس کی باتوں کا حاصل جمع صفر ہے۔

ہم کیوں ہر چمکتی آواز کو “انفلوئنسر” ماننے کے لیے تیار بیٹھے ہیں؟

جین زی!

تمہارا تو کمال ہی یہ ہے کہ تم سوال کرنا جانتے ہو۔

ہمارے وقت میں تو “کیوں” کو کفر سمجھا جاتا تھا،

اور تمہارے ہاں یہی ’کیوں؟‘ فیشن میں ہے۔

بس اسی تجسس، اسی سوال اور اسی پیمانے کو دلیلوں کی پرکھ کے لیے بھی قائم رکھو —

تمہیں ہم سے آگے جانا ہے۔

تمہیں اپنے لیے وہ بامعنی دنیا تراشنا ہے

جہاں صنفی اور طبقاتی امتیاز نہ ہو،

جہاں فہم و فراست، یعنی wisdom and understanding,

محض فنکاری اور لفاظی پر غالب ہوں۔

میرے پیارے جین زی!

کیا تم جانتے ہو کہ خاندان، دراصل ریاست کی چھوٹی سی اکائی ہوتا ہے؟

تم نے بہت اچھا کیا کہ طلاق کو اب معاشرتی  ‘Tabo’ نہیں رہنے دیا،

کیونکہ کوئی بھی زہریلا رشتہ برداشت کے لائق نہیں ہوتا۔

لیکن ایک بات ضرور سمجھنا—محبت وہ واحد جذبہ ہے جو فاتح عالم ہے۔

کسی بھی رشتے میں محبت سے بڑی کوئی زنجیر نہیں اور بدقسمتی سے محبت قربانی مانگتی ہے۔ ہاں!

 تم مت دینا قربانی!

  انفرادیت کا دور ہے۔ لیکن کبھی خودغرضی سے پاک محبت کا کمال مشاہدہ کرنا کہ وہ کیسے رشتوں اور تعلقات کو Glue کی طرح جوڑتی ہے۔

ذرا یہ بھی سوچو کہ دوستوں، رشتوں کے ساتھ بیٹھ کر سادہ کھانا کھانے میں،

کچھ دیر کے لیے موبائل چھوڑ دینے میں،

ایک دوسرے کی بات دھیان سے سننے میں،

مزید پڑھیں: مکالمہ دشمن میڈیا اور جنگ

سامنے بیٹھ کر مکالمہ کرنے — دل کی بات سننے اور دوسروں کے راز کی حفاظت کرنے ۔ یہ لوگوں کو سمجھنے کا عمل ہے ، اعتماد دینے اور حاصل کرنے کا عمل ہے جو  تمہارے وجود کو نئے معانی دے گا۔

تم مختلف ہو !

ہمارے عہد میں اطاعت فضیلت تھی

تمہارے عہد میں آگہی!

ہم نے نظریے بنائے

اور تم نے سارے نظریوں پر سوال اٹھادیئے!

ہم نے رشتوں میں برداشت کی بنیاد رکھی

تم نے ’سب سے پہلے میرا وجود‘ کانعرہ لگادیا!

تم اپنی سمت خود متعین کرو گے۔ تمہارا دور نئے تقاضے لا رہا ہے

تم ان کا حل تلاش کر لوگے

تمہیں کسی کے وعظ کی ضرورت نہیں۔

 بس تھپکی کی ضرورت ہے!

یہ بھی پڑھیے: قدرت ناراض ہے

تم خود ہی Digital temperance، Digital detox، Digital ethics اور Emotional Intelligence سیکھ لو گے۔

مجھے یقین ہے!

ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

قرۃ العین حیدر

پرانی نسل جنریشن زی جین زی نئی نسل.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: کے لیے

پڑھیں:

5 اگست کو پاکستان تحریک انصاف کیا کرنے جا رہی ہے؟

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی اور سابق وزیراعظم عمران خان کی اڈیالہ جیل میں قید کے 3 سال مکمل ہونے پر پارٹی 5 اگست کو احتجاجی پروگرام پر غور کر رہی ہے تاہم پارٹی ذرائع کے مطابق اس حوالے سے مرکزی قیادت کے اندر ابھی تک مکمل اتفاق رائے نہیں ہو سکا جس کے باعث حتمی احتجاجی کال جاری نہیں کی گئی۔

یہ بھی پڑھیں: 5 اگست کے احتجاج پر پی ٹی آئی کی واضح حکمت عملی اب تک سامنے نہ آسکی

پارٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان اڈیالہ جیل کے باہر بھرپور احتجاج کی حامی ہیں۔ ان کے مؤقف کے مطابق پارٹی کے ارکان قومی و صوبائی اسمبلی، سینیٹرز اور کارکنوں کو جیل کے باہر جمع ہونا چاہیے تاکہ عمران خان کی قید کے خلاف مؤثر پیغام دیا جا سکے۔

دوسری جانب ذرائع کے مطابق پارٹی کے بعض سینیئر رہنما، جن میں چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان بھی شامل ہیں، لاہور میں احتجاج یا کسی متبادل پروگرام کے حق میں دکھائی دیتے ہیں۔

بڑی احتجاجی کال پر تحفظات

پارٹی ذرائع کے مطابق متعدد ارکان قومی و صوبائی اسمبلی نے قیادت کو آگاہ کیا ہے کہ مہنگائی، مقدمات کے خدشات اور مسلسل احتجاجی سرگرمیوں کے باعث عوام پہلے جیسی تعداد میں سڑکوں پر آنے کے لیے تیار نہیں۔

ذرائع کے مطابق بعض رہنماؤں کی رائے ہے کہ ہر رکن اپنے اپنے حلقے میں علامتی یا ٹوکن احتجاج کرے اور عوام کو یہ پیغام دے کہ عمران خان کی قید کو 3 سال مکمل ہو گئے ہیں۔

مزید پڑھیے: اڈیالہ جیل کے باہر ہنگامہ آرائی، پی ٹی آئی میں انتشار کھل کر سامنے آگیا، جماعت کے سیاسی کلچر پر سنگین سوالات

پارٹی کے ایک حلقے کی جانب سے یہ تجویز بھی سامنے آئی ہے کہ 5 اگست کو کسی بڑے احتجاجی پروگرام سے گریز کیا جائے تاکہ کارکنوں اور رہنماؤں کو مزید گرفتاریوں اور مقدمات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

ذرائع کے مطابق ابھی تک یہ طے نہیں ہو سکا کہ احتجاج، ریلی، جلسہ یا کسی اور شکل میں ہوگا۔ علیمہ خان کی اڈیالہ جیل کے باہر احتجاج کی تجویز پر بھی پارٹی کے بیشتر رہنما متفق نہیں جبکہ متعدد رہنما محدود یا علامتی احتجاج کے حق میں ہیں۔

9 مئی کے بعد بڑا احتجاج منظم نہ ہو سکا

پارٹی ذرائع کے مطابق 9 مئی 2023 کے واقعات کے بعد پی ٹی آئی بڑے پیمانے پر کوئی کامیاب احتجاجی تحریک منظم نہیں کر سکی۔

26 نومبر کو خیبر پختونخوا کے سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور اور بشریٰ بی بی کی قیادت میں عمران خان کی رہائی کے لیے اسلام آباد کی جانب مارچ کیا گیا تاہم یہ احتجاج کسی واضح نتیجے کے بغیر ختم ہو گیا۔

مزید پڑھیں: پی ٹی آئی کا علیمہ خان اور بشریٰ بی بی کو ایکسپوز کرنے کا فیصلہ، اقبال آفریدی سے عہدہ واپس

اس احتجاج کے بعد پارٹی کے متعدد کارکنوں اور رہنماؤں کی گرفتاریاں ہوئیں جس کے بعد پارٹی کسی بڑے احتجاجی منصوبے کا اعلان نہیں کر سکی۔ اس دوران مختلف مواقع پر ریلیاں اور مظاہرے بھی کیے گئے تاہم حکومتی اقدامات اور دیگر عوامل کے باعث وہ مطلوبہ نتائج حاصل نہ کر سکے۔

عمران خان کی قید کو 3 سال مکمل

عمران خان 5 اگست 2023 سے اڈیالہ جیل میں قید ہیں۔ اس عرصے کے دوران ان کے خلاف متعدد مقدمات درج کیے گئے جنہیں پاکستان تحریک انصاف سیاسی انتقام قرار دیتی ہے۔

پارٹی کی جانب سے مختلف مواقع پر عمران خان کی صحت، خصوصاً آنکھوں کے مسائل، اہلخانہ اور وکلا سے ملاقاتوں میں مبینہ رکاوٹوں اور عدالتی احکامات پر عمل درآمد سے متعلق تحفظات کا اظہار بھی کیا جاتا رہا ہے۔

5 اگست کی روایت برقرار رہے گی؟

گزشتہ برسوں میں پاکستان تحریک انصاف 5 اگست کو مختلف شہروں میں احتجاج، ریلیوں اور پرامن مظاہروں کے ذریعے عمران خان کی رہائی کے مطالبات اٹھاتی رہی ہے۔

یہ بھی پڑھیے: خیبرپختونخوا میں پی ٹی آئی کے بڑھتے اندرونی اختلافات سے پشاور کے عوام پریشان

ذرائع کے مطابق اس سال بھی ضلعی سطح پر مشاورت اور تیاریاں جاری ہیں تاہم مرکزی قیادت کی جانب سے ملک گیر احتجاج یا کسی بڑے پروگرام کے بارے میں حتمی فیصلہ ابھی سامنے نہیں آیا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

اڈیالہ جیل بشریٰ بی بی پاکستان تحریک انصاف پی ٹی آئی پی ٹی آئی کا 5 اگست کو احتجاج علی امین گنڈاپور عمران خان کے قید میں 3 برس

متعلقہ مضامین

  • سپریم کورٹ کو نیب کیسز سننے کا اختیار نہیں، عدالت عظمیٰ کا بڑا فیصلہ
  • سپریم کورٹ کو نیب کیسز سننے کا اختیار نہیں،  عدالت عظمیٰ کا بڑا فیصلہ
  • سلامتی کونسل میں پاکستان نے بھارت کو لاجواب کر دیا
  • تحریک انصاف5 اگست کو کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • بھارت امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ، پاکستان
  • 5 اگست کو پاکستان تحریک انصاف کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • قائداعظم کے بارے میں سازشی تھیوریز نہ گھڑیں
  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف