Express News:
2026-07-24@06:46:34 GMT

یہ گل چھرے کیسے اڑاتے ہیں

اشاعت کی تاریخ: 11th, October 2025 GMT

ہم اردو لکھتے تو ہیں اور اکثر لوگوں کاماننا ہے کہ اچھی اردو لکھتے ہیں لیکن پھر بھی اہل زبان نہیںہیں ، اس لیے بعض اوقات بعض الفاظ ہمیں پریشان کر دیتے ہیں ۔خیر’’ اہل زبان‘‘ کالفظ بھی کچھ زیادہ صحیح نہیں ہے کیوں کہ اگر گہرائی میں جاکر سوچیں تو اردو کاکوئی بھی اہل زبان نہیں ہے کیوں کہ یہ زبان کسی کی بھی نہیں ہے کیوں کہ یہ سب کی یاہرکسی کی زبان ہے یایوں کہیے کہ سب کی ہے، اس لیے کسی کی بھی نہیں ہے،اسے اگر ہم کہنا چاہیں تو ایک مجمع البحرین کہہ سکتے ہیں کہ ہر بحر کاپانی اس میں موجود ہے۔

جو لوگ اہل زبان کہلاتے ہیں، وہ بھی اوپر کی پشتوں میں کسی اور زبان کے ہوا کرتے تھے مثلاً غالب ، میر ، خسرو، داغ، سب کے اجداد فارسی تھے۔ خیر تو ہم اپنی بات کرنا چاہتے ہیں کہ کبھی کچھ ایسے الفاظ بھی سامنے آجاتے ہیں کہ ہم انھیں لکھتے بھی ہیں لیکن ان کے معنی ہمیں معلوم نہیں ہوتے کیوں کہ ایسے الفاظ اپنے مجازی معنی میں اتنے مشہور ہوجاتے ہیں کہ ان کے اصل اوربنیادی معنی گم ہوجاتے ہیں ۔ ایسے الفاظ میں دوالفاظ اکثر ہمیں چونکاتے اورستاتے ہیں ، ایک ’’گل چھرے‘‘ اوردوسرا ’’رنگ رلیاں‘‘

انھیں ہم اکثر پڑھتے بھی ہیں اورلکھتے بھی ہیں۔لیکن یہ کبھی سمجھ میں نہیں آیا کہ گل چھرے کیاہوتے ہیں اوررنگ رلیاں کیسی ہوتی ہیں ، رنگ رلیوں کو بھی فی الحال چھوڑدیتے ہیں ، صرف گل چھروں کی بات کرتے ہیں جہاں تک ہمیں معلوم ہے ’’گل‘‘ تو فارسی سے آیا ہے اور پھول کو کہتے ہیں لیکن پھولوں کے ساتھ ’’چھرے‘‘ ؟ یہ تو صاف صاف اجتماع ضدین ہے ، کہاں پھول کہاں چھرے۔ کیوں کہ چھرے تو بندوق کے ہوتے ہیں اوراسی وجہ سے ایک خاص یعنی بارہ بور کے بندوق کوچھریدار کہتے ہیں۔چھریدار سے یاد آیا کہ ایک زمانے میں ہمارے گاؤں کاایک ڈاکٹر بھی ’’ڈاکٹر چھریدار‘‘ کے نام سے مشہور ہوا تھا جو لوگوں کو پڑیوں میں گول گول چھرے باندھ کر دیا کرتا تھا یہ چھرے شکر کے ہوتے تھے اورمختلف سائزوں کے ہوتے تھے وہ ان چھروں پر کوئی دوائی ڈال کر دیتا تھا چنانچہ لوگوں میں ڈاکٹر چھریدار مشہورہوگیا تھا۔

ہم اسے ’’گل چھرے ‘‘ سمجھ لیتے لیکن چھرے اوربندوق کے چھرے تو اس سے بھی پہلے موجود تھے پھر ان چھروں کے ساتھ ’’اڑانا‘‘ مستقل استعمال ہوتا ہے اوراسی اڑانے کے لفظ نے سارا معاملہ گڑ بڑ کردیا ہے۔ اگر پھولوں کو بندوق میں ڈال کر اڑایا جائے تو ایسا ہرگھر میں ممکن نہیں۔ کیوں کہ ایک تو تجربہ کار لوگوں کو پتہ ہے کہ بندوق کی نالی میں اگر ذرا بھی کوئی چیز ہوتو نالی پھٹ جاتی ہے اورپھول بھی چل جاتے ہیں ، مطلب یہ کہ کم سے کم یہ جو ’’اڑائے ‘‘جاتے ہیں یہ بندوق کے ذریعے تو نہیں اڑائے جاسکتے اورہم نے قدیم تحریروں میں دیکھا ہے کہ گل چھرے بندوق کی ایجاد سے پہلے بھی اڑائے جاتے تھے خاص طور پر بادشاہ ،ملیکائیں، شہزادے اور شہزادیاں اکثر گل چھرے اڑانے میں مصروف رہتے تھے ۔

اپنے ٹٹوئے تحقیق کو اس راہ پر ڈالتے ہی اچانک ہمیں گل چھرے اڑانے جیسا ایک تاریخی واقعہ مل گیا جس میں ’’چھرے ‘‘ اڑائے گئے تھے۔ عباسی خلیفہ منصورکی بیوی ملکہ ’’خیزران‘‘ سے یہ واقعہ منسوب ہے، ملکہ خیزران سے ایسے اوربھی کئی واقعات موجود ہیں کیوں کہ وہ اپنے دورکی ایک بے مثال ، لاثانی اور بے نظیر خاتون تھی، کچھ راویوں کاکہنا ہے کہ جنتر منتر اورچف تعویزوالی بھی تھی اورخلیفہ منصورکو اس نے اپنے اس منتر سے دبو لیا تھا ۔ایک ضعیف سی روایت یہ بھی ہے کہ وہ ’’بلارہ ‘‘ تھی، بلارہ بٹیربازوں کی اصطلاح میں یہ ایک خاص طریقے سے پالی ہوئی ’’بٹیرنی‘‘ ہوتی ، بٹیربازی کے موسم میں بٹیر باز اس کوکھیتوں میں بنے ہوئے مکان کے اندر رکھ لیتے ہیں اورچاروں طرف جال بچھا کر بلارے کو لٹکادیتے ہیں ،بٹیرنی ساری رات نعرہ لگاتی ہے اوربٹیر اس آواز کو سن کر آتے ہیں اورجال میں پھنستے ہیں ۔خیر تو ملکہ خیزران نے اپنے بیٹے امین کی شادی میں ایک خاص ندرت یہ کی کہ بارات میں چھوٹے کاغذ کے چھرے پھینکتی تھی بظاہر یہ کاغذکی گولیاں ہوتی تھیں لیکن کھولنے پر اس کے اندر ایک موتی ہوتا تھا اورکاغذ پر کوئی عہدہ کوئی جاگیر یاانعام بھی رکھا ہوتا جو پانے والے کو دے دیاجاتا ،ممکن ہے گل چھرے اڑانے کایہ سلسلہ وہیں سے شروع ہوا ہو۔

یقین سے نہیں کہاجاسکتا لیکن امکان ہے کہ ملکہ خیزران کی یہ ایجاد آگے بھی چلی ہو، عربی میں شاید اس کا نام بھی کچھ اورہو اور پھرکسی نے اس کا ترجمہ اردو میں گل چھرے کردیا ہو۔کیوں کہ گل چھرے میں بنیادی معنی وہی ہیں جو مال مفت دل بے رحم میں ہیں ۔

مطلب یہ کہ لفظ کہیں سے بھی آیا ہو کسی نے بھی بنایا ہو گل اورچھرے کاآپس میں جو بھی جائزیاناجائز تعلق ہولیکن یہ بات سو فی صد درست ہے کہ گل چھرے صرف وہی لوگ اڑاسکتے ہیں جن کے ہاتھوں کسی اورکامال لگا ہو ۔باقی آپ خود ہی دانابینا ہے اوروہ لوگ بھی سامنے ہیں جو گل چھرے اڑاتے تھے ۔اڑاتے ہیں اوراڑاتے رہیں گے

ہزاروں رنگ بدلے گا زمانہ

 نہ بدلے گا گل چھروں کااڑانا

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: جاتے ہیں اہل زبان ہیں لیکن نہیں ہے ہیں اور کیوں کہ ہیں کہ ہے اور

پڑھیں:

تحریک انصاف5 اگست کو کیا کرنے جا رہی ہے؟

پاکستان تحریک انصاف (PTI) کے بانی اور سابق وزیراعظم عمران خان کی اڈیالہ جیل میں قید کے 3 سال مکمل ہونے پر پارٹی 5 اگست کو احتجاجی پروگرام پر غور کر رہی ہے تاہم پارٹی ذرائع کے مطابق اس حوالے سے مرکزی قیادت کے اندر ابھی تک مکمل اتفاق رائے نہیں ہو سکا جس کے باعث حتمی احتجاجی کال جاری نہیں کی گئی۔

پارٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان اڈیالہ جیل کے باہر بھرپور احتجاج کی حامی ہیں۔ ان کے مؤقف کے مطابق پارٹی کے ارکان قومی و صوبائی اسمبلی، سینیٹرز اور کارکنوں کو جیل کے باہر جمع ہونا چاہیے تاکہ عمران خان کی قید کے خلاف مؤثر پیغام دیا جا سکے۔

دوسری جانب ذرائع کے مطابق پارٹی کے بعض سینیئر رہنما، جن میں چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان بھی شامل ہیں، لاہور میں احتجاج یا کسی متبادل پروگرام کے حق میں دکھائی دیتے ہیں۔

بڑی احتجاجی کال پر تحفظات

پارٹی ذرائع کے مطابق متعدد ارکان قومی و صوبائی اسمبلی نے قیادت کو آگاہ کیا ہے کہ مہنگائی، مقدمات کے خدشات اور مسلسل احتجاجی سرگرمیوں کے باعث عوام پہلے جیسی تعداد میں سڑکوں پر آنے کے لیے تیار نہیں۔

ذرائع کے مطابق بعض رہنماؤں کی رائے ہے کہ ہر رکن اپنے اپنے حلقے میں علامتی یا ٹوکن احتجاج کرے اور عوام کو یہ پیغام دے کہ عمران خان کی قید کو 3 سال مکمل ہو گئے ہیں۔

پارٹی کے ایک حلقے کی جانب سے یہ تجویز بھی سامنے آئی ہے کہ 5 اگست کو کسی بڑے احتجاجی پروگرام سے گریز کیا جائے تاکہ کارکنوں اور رہنماؤں کو مزید گرفتاریوں اور مقدمات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

ذرائع کے مطابق ابھی تک یہ طے نہیں ہو سکا کہ احتجاج، ریلی، جلسہ یا کسی اور شکل میں ہوگا۔ علیمہ خان کی اڈیالہ جیل کے باہر احتجاج کی تجویز پر بھی پارٹی کے بیشتر رہنما متفق نہیں جبکہ متعدد رہنما محدود یا علامتی احتجاج کے حق میں ہیں۔

9 مئی کے بعد بڑا احتجاج منظم نہ ہو سکا

پارٹی ذرائع کے مطابق 9 مئی 2023 کے واقعات کے بعد پی ٹی آئی بڑے پیمانے پر کوئی کامیاب احتجاجی تحریک منظم نہیں کر سکی۔

26 نومبر کو خیبر پختونخوا کے سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور اور بشریٰ بی بی کی قیادت میں عمران خان کی رہائی کے لیے اسلام آباد کی جانب مارچ کیا گیا تاہم یہ احتجاج کسی واضح نتیجے کے بغیر ختم ہو گیا۔

مزیدپڑھیں:بیوٹی انفلوئنسر کاسمیٹک سرجری کے دوران چل بسی

اس احتجاج کے بعد پارٹی کے متعدد کارکنوں اور رہنماؤں کی گرفتاریاں ہوئیں جس کے بعد پارٹی کسی بڑے احتجاجی منصوبے کا اعلان نہیں کر سکی۔ اس دوران مختلف مواقع پر ریلیاں اور مظاہرے بھی کیے گئے تاہم حکومتی اقدامات اور دیگر عوامل کے باعث وہ مطلوبہ نتائج حاصل نہ کر سکے۔

عمران خان کی قید کو 3 سال مکمل

عمران خان 5 اگست 2023 سے اڈیالہ جیل میں قید ہیں۔ اس عرصے کے دوران ان کے خلاف متعدد مقدمات درج کیے گئے جنہیں پاکستان تحریک انصاف سیاسی انتقام قرار دیتی ہے۔

پارٹی کی جانب سے مختلف مواقع پر عمران خان کی صحت، خصوصاً آنکھوں کے مسائل، اہلخانہ اور وکلا سے ملاقاتوں میں مبینہ رکاوٹوں اور عدالتی احکامات پر عمل درآمد سے متعلق تحفظات کا اظہار بھی کیا جاتا رہا ہے۔

5 اگست کی روایت برقرار رہے گی؟

گزشتہ برسوں میں پاکستان تحریک انصاف 5 اگست کو مختلف شہروں میں احتجاج، ریلیوں اور پرامن مظاہروں کے ذریعے عمران خان کی رہائی کے مطالبات اٹھاتی رہی ہے۔

ذرائع کے مطابق اس سال بھی ضلعی سطح پر مشاورت اور تیاریاں جاری ہیں تاہم مرکزی قیادت کی جانب سے ملک گیر احتجاج یا کسی بڑے پروگرام کے بارے میں حتمی فیصلہ ابھی سامنے نہیں آیا۔

متعلقہ مضامین

  • گوگل کا نیا سیکیورٹی فیچر، کیا اب پاس ورڈ کی ضرورت ہی نہیں رہے گی؟
  • بيزوس، مسک اور زکربرگ جیسے ارب پتی ہر سال ایک خفیہ سمر کیمپ میں کیوں اکٹھے ہوتے ہیں؟
  • چینی چڑیا گھر میں جانور گرمی کی شدید لہر سے کیسے محفوظ رہتے ہیں؟
  • نیٹ فلکس کی پہلی پاکستانی اوریجنل سیریز ’جو بچے ہیں سنگ سمیٹ لو‘ کب ریلیز ہو گی؟
  • ’ابھی ہو گیا، بس‘، سونو نگم نے نیٹ احتجاج پر تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا
  • تحریک انصاف5 اگست کو کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • قائداعظم کے بارے میں سازشی تھیوریز نہ گھڑیں
  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف