امن سربراہ اجلاس؛ وزیرِاعظم کی عالمی رہنماؤں سے ملاقاتیں
اشاعت کی تاریخ: 13th, October 2025 GMT
سٹی 42 : وزیرِاعظم شہباز شریف کی شرم الشیخ میں منعقدہ امن سربراہ اجلاس کے موقع پر عالمی رہنماؤں سے ملاقاتیں ہوئیں، جس کے دوران خطے میں امن کے لئے اقدامات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
وزیرِ اعظم شہباز شریف کی آذربائیجان کے صدر الہام علیئیف سے ملاقات ہوئی، جس میں دونوں رہنماؤں نے غزہ میں جنگ بندی پر اطمینان کا اظہار کیا۔ اس موقع پر آرمینیاء کے وزیرِ اعظم نکول پاشنیان بھی ملاقات و گفتگو میں شریک ہوئے.
سیمنٹ سستاہوگیا
وزیرِ اعظم کی اردن کے مانروا شاہ عبداللہ دوئم، بحرین کے شاہ حمد بن عیسی الخلیفہ اور اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس سے بھی ملاقات ہوئی ۔ اس کے علاوہ وزیرِ اعظم شہباز شریف کی انڈونیشیاء کے صدر پربوو صوبیانتو، جرمن چانسلر فریڈرک مرز، اسپین کے وزیرِ اعظم پیڈرو سانچیز، اٹلی کی وزیرِ اعظم جیورجیا میلونی اور سعودی عرب کے وزیرِ خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان آلسعود سے بھی ملاقات ہوئی.
نادرا کی جانب سے شہریوں کیلئے نئی سہولت
ملاقاتوں میں خطے میں امن کیلئے اقدامات پر تبادلہ خیال کیا گیا. وزیرِ اعظم نے ملاقاتوں میں فلسطین کے عوام کے ساتھ پاکستان کی جانب سے یکجہتی اور انکی سفارتی و اخلاقی مدد جاری رکھنے کا اعادہ کیا۔
ذریعہ
ذریعہ: City 42
پڑھیں:
پی ٹی آئی کے اہم رہنما گلگت بلتستان سے نکال دیے گئے
گلگت: گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے کے ایک اہم واقعے نے سیاسی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی رہنماؤں کے خلاف ہونے والی اس کارروائی نے ملکی سیاست میں ایک نئی صورتحال پیدا کر دی ہے۔
ذرائع کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجہ، شوکت بسرا، نعیم پنجوتھہ اور ظہیر بابر کو دیامر پولیس نے گلگت بلتستان کی حدود سے باہر منتقل کر دیا۔ بتایا جاتا ہے کہ کارروائی کے بعد ان رہنماؤں کو خیبر پختونخوا کی حدود میں چھوڑ دیا گیا۔
تاحال پولیس یا ضلعی انتظامیہ کی جانب سے اس اقدام کی وجوہات کے حوالے سے کوئی باضابطہ وضاحت سامنے نہیں آئی۔ تاہم سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اس پیش رفت کے اثرات آنے والے دنوں میں مزید نمایاں ہو سکتے ہیں۔
گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے والے رہنماؤں کے حوالے سے مختلف سیاسی جماعتوں اور رہنماؤں کی جانب سے ردعمل کا سلسلہ بھی شروع ہو چکا ہے۔ بعض حلقے اس کارروائی کو سیاسی سرگرمیوں پر قدغن قرار دے رہے ہیں جبکہ دیگر اس کے پس منظر میں سکیورٹی یا انتظامی وجوہات کا امکان ظاہر کر رہے ہیں۔
ذرائع کے مطابق واقعے کے مزید حقائق سامنے آنے کے بعد صورتحال مزید واضح ہو سکے گی۔ اس دوران سیاسی کارکنوں اور عوامی حلقوں کی نظریں حکام کے ممکنہ مؤقف اور آئندہ پیش رفت پر مرکوز ہیں۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر اس معاملے پر تفصیلی وضاحت سامنے نہ آئی تو یہ معاملہ مزید سیاسی تنازع کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔