غزہ: شہباز شریف کی امن معاہدے پر دستخط کی تقریب میں شرکت
اشاعت کی تاریخ: 13th, October 2025 GMT
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 13 اکتوبر 2025ء) پاکستان کے وزیر اعظم کے دفتر سے پیر کو جاری بیان میں کہا گیا کہ شہباز شریف امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور مصری صدر عبدالفتاح السیسی کی خصوصی دعوت پر شرم الشیخ کا دورہ کر رہے ہیں۔
بیان میں کہا گیا کہ ''وزیراعظم پاکستان، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ، مصری صدر عبدالفتاح السیسی، امیر قطر شیخ تمیم بن حمد آل ثانی، ترکی کے صدر رجب طیب ایردوآن اور دیگر عالمی رہنماؤں کی موجودگی میں غزہ امن معاہدے پر دستخط کی تقریب میں خصوصی شرکت کریں گے۔
‘‘نائب وزیراعظم و وزیرخارجہ محمد اسحاق ڈار اور وزیر اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ بھی وزیر اعظم شہباز شریف کے ہمراہ وفد میں شریک ہیں۔
غزہ معاہدے سے پاکستان کو امیدیںبیان میں کہا گیا ہے، ''وزیرِ اعظم کی شرم الشیخ امن سربراہی اجلاس میں شرکت پاکستان کے فلسطینیوں کے حقوق کے لیے آواز اٹھانے اور انہیں ہر قسم کی سیاسی و سفارتی مدد کی فراہمی کی عکاسی کرتا ہے۔
(جاری ہے)
‘‘اس میں مزید کہا گیا ہے، ''پاکستان یہ توقع کرتا ہے کہ اس امن سربراہی اجلاس اور اس میں دستخط شدہ معاہدے کے بعد غزہ میں جاری مظالم کا سلسلہ رکے گا، غزہ سے اسرائیلی افواج کا انخلا ہو گا، فلسطینیوں کی اپنے گھروں کو واپسی ہو گی، ان کی حفاظت یقینی بنائی جائے گی، قیدیوں کی رہائی ہو گی اور امن کے ساتھ ساتھ غزہ کی تعمیر نو ممکن ہو سکے گی۔
‘‘وزیراعظم ہاؤس سے جاری بیان میں کہا گیا کہ پاکستان پر امید ہے کہ ایسے اقدامات سے نہ صرف مشرق وسطیٰ میں دیر پا امن کا دیرینہ خواب شرمندہ تعبیر ہو گا بلکہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق اور فلسطینیوں کی امنگوں کی ترجمانی کرتی ہوئی ایک آزاد و خود مختار فلسطینی ریاست کا قیام عمل میں آئے گا۔
قبل ازیں اتوار کو مصری وزارت خارجہ نے کہا کہ غزہ کی پٹی میں جنگ ختم کرنے سے متعلق ایک دستاویز اس تاریخی اجلاس کے دوران دستخط کے لیے تیار ہے۔
امریکی صدر ٹرمپ کا بیانامریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے شرم الشیخ کے لیے اتوار کے روز روانہ ہونے سے قبل اعلان کیا کہ ''غزہ میں جنگ ختم ہو چکی ہے‘‘۔
امریکی صدر پہلے اسرائیل جائیں گے۔ ان کے پہنچنے کا وقت حماس کی جانب سے یرغمالیوں کی متوقع رہائی کے فوراً بعد رکھا گیا ہے۔ وہ اسرائیلی پارلیمان سے خطاب کریں گے اور اس کے بعد مصر جائیں گے۔
جب ایئر فورس ون کے طیارے میں صحافیوں نے ان سے پوچھا کہ کیا وہ پُراعتماد ہیں کہ اسرائیل اور فلسطینی مزاحمتی تنظیم حماس کے درمیان جنگ ختم ہو چکی ہے، تو انہوں نے کہا،''جنگ ختم ہو چکی ہے۔ ٹھیک ہے؟ آپ سمجھ رہے ہیں نا؟‘‘
اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انٹونیو گوٹریش نے اپنی شرکت کی تصدیق کی ہے جبکہ برطانوی وزیر اعظم کیئر اسٹارمر، اطالوی وزیرِاعظم جورجیا میلونی اور اسپین کے پیڈرو سانچیز بھی تقریب میں شریک ہوں گے۔
فرانسیسی صدر ایمانوئل ماکروں اور ترک صدر رجب طیب ایردوآن بھی شرم الشیخ اجلاس میں ہوں گے۔ اردن کے شاہ عبداللہ دوم کی شرکت کی بھی متوقع ہے۔
یورپی کونسل کے صدر انٹونیو کوسٹا اجلاس میں یورپی یونین کی نمائندگی کریں گے۔
بھارت کی نمائندگی وزیر مملکت برائے امورِ خارجہ کرتی وردھن سنگھ کریں گے، کیونکہ وزیراعظم نریندر مودی نے کم وقت میں دعوت نامہ موصول ہونے کی وجہ سے مصر کی دعوت قبول نہیں کی۔
حماس نے واضح کیا ہے کہ وہ اس کانفرنس شامل نہیں ہو گی۔ اسی طرح اسرائیل بھی کل اس سمٹ میں غیر حاضر رہے گا۔
ادارت: صلاح الدین زین
.
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے میں کہا گیا امریکی صدر شرم الشیخ کریں گے
پڑھیں:
پاکستان اور اٹلی کے درمیان سفارتی پاسپورٹ پر ویزے کی شرط ختم
روم: پاکستان اور اٹلی کے درمیان سفارتی پاسپورٹ پر ویزے کی شرط ختم کر دی گئی۔پاکستان کے سفیر علی جاوید اور اٹلی کی وزارتِ خارجہ کے سیکرٹری جنرل، عزت مآب سفیر ریکارڈو گوارِیلیا نے حال ہی میں ایک ایسے معاہدے پر دستخط کئے ہیں. جس کے تحت سفارتی پاسپورٹ رکھنے والے افراد کیلئے ویزا کی شرط ختم کر دی گئی ہے. معاہدے پر دستخط کی پُروقار تقریب اٹلی کی وزارتِ خارجہ میں روم میں منعقد ہوئی۔تقریب سے قبل دونوں اعلیٰ حکام کے درمیان ون آن ون ملاقات ہوئی. دونوں فریقوں نے پاکستان اور اٹلی کے درمیان تزویراتی تعاون کی مضبوطی، وسعت اور مسلسل ترقی پر اطمینان کا اظہار کیا۔اس موقع پر دونوں ممالک کے درمیان روایتی طور پر دوستانہ اور تعمیری دوطرفہ تعلقات کا جامع جائزہ لیا گیا، جبکہ اقوامِ متحدہ اور یورپی یونین سمیت مختلف بین الاقوامی فورمز پر جاری تعاون پر بھی تبادلۂ خیال کیا گیا۔دونوں جانب سے اس معاہدے کو باہمی اعتماد اور دوستی کی عکاسی قرار دیا گیا اور اسے موجودہ دوطرفہ تعاون کے نظام میں ایک اہم اضافہ قرار دیا گیا. معاہدے سے سفارتی وفود کے تبادلوں میں آسانی پیدا ہوگی اور دونوں ممالک کے درمیان روابط مزید مستحکم ہوں گے۔پاکستان اور اٹلی کے درمیان اس وقت متعدد نئے معاہدوں پر غور جاری ہے. اس کے علاوہ دونوں ممالک کی جامعات اور تحقیقی اداروں کے درمیان 21 مفاہمتی یادداشتیں (MoUs) موجود ہیں، جبکہ سیاحت، ثقافت، سائنس و ٹیکنالوجی، کھیل، اعلیٰ دفاعی مطالعات اور منشیات کی سمگلنگ کے خلاف تعاون سمیت مختلف شعبوں میں دونوں حکومتوں کے درمیان 15 معاہدے طے پا چکے ہیں۔دفاعی تعاون کا معاہدہ 2009 میں طے پایا، جبکہ 2013 میں دونوں ممالک کے وزرائے خارجہ کے درمیان سٹریٹجک انگیجمنٹ پلان قائم کیا گیا، اسی طرح مشترکہ اقتصادی کمیشن 2005 میں تشکیل دیا گیا، سرمایہ کاری کے تحفظ کا معاہدہ 1997 میں طے پایا، دوہری شہریت کا معاہدہ 1983 میں جبکہ حوالگیِ ملزمان (Extradition) کا معاہدہ 1972 میں دستخط کیا گیا تھا۔اس سے قبل 7 مئی 2025 کو اسلام آباد میں پاکستان اور اٹلی کے درمیان ’’لیبر موبیلٹی اینڈ مائیگریشن‘‘ کے موضوع پر ایک مفاہمتی یادداشت پر دستخط ہوئے تھے، جو کسی یورپی ملک کے ساتھ پاکستان کا پہلا باقاعدہ لیبر معاہدہ ہے، اس معاہدے کے تحت پاکستانی افرادی قوت کو اٹلی میں پاکستانی شہریوں کیلئے مختص 10,500 ملازمتوں کے کوٹے سے فائدہ اٹھانے کا موقع حاصل ہوگا۔پاکستانی سفیر نے سیکرٹری خارجہ کی جانب سے سیکرٹری جنرل کو ساتویں دورِ دوطرفہ سیاسی مشاورت میں شرکت کیلئے پاکستان کے دورے کی دعوت بھی دی، انہوں نے 2026 کی آخری سہ ماہی میں اس اجلاس کے انعقاد کیلئے پاکستان کی آمادگی سے آگاہ کیا اور اسلام آباد میں اٹلی کے نئے سفارت خانے کے افتتاح کی خواہش کا اظہار کیا، جو اٹلی کا بیرونِ ملک سب سے بڑا سفارتی مشن ہوگا. اس موقع پر دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کی اہمیت کو بھی اجاگر کیا گیا۔