data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

پاکستان ترقی کی راہ پر گامزن ہے اور یہ ہمارے لیے نہایت خوش آئند بات ہے کہ آج پوری دنیاپاکستان کو عزت و احترام کی نگاہ سے دیکھتی ہے۔ یہ بات پرتگال میں تعنیات پاکستان کے سفیرڈاکٹر محمد خالد اعجازنے جدہ میں معروف بزنس مین ملک شہزاد اور ملک محسن رضا کی رہائش گاہ پراپنے اعزازمیں دیئے گئے ایک پرتکلف عشائیہ میں پاکستانی صحافیوں اور بزنس کمیونٹی سے خصوصی ملاقات کے دوران کہی۔ انھوں نے کہا کہ پرتگال میں نمایاں تبدیلیاں رونما ہو رہی ہیں۔ پہلے ہر سال تقریباً 200 پاکستانی طلبہ اعلیٰ تعلیم کے لیے پرتگال آتے تھے، مگر اب یہ تعداد بڑھ کر 600 طلبہ سالانہ تک پہنچ چکی ہے۔ سفارت خانہ مختلف یونیورسٹیوں کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے تاکہ مزید اسکالرشپ کے مواقع پیدا کیے جا سکیں اور زیادہ سے زیادہ پاکستانی طلبہ کو تعلیم کے مواقع فراہم ہوں۔ انہوں نے بتایا کہ جی سی سی ممالک (خلیجی ریاستوں) میں کام کرنے والے پاکستانیوں کے بچے اعلیٰ تعلیم کے لیے پرتگال کا رخ کر رہے ہیں، اور اکثر اوقات ان کی فیملیز بھی ایجوکیشن ویزا پر وہاں منتقل ہوتی ہیں۔ اس تناظر میں، سفارت خانے نے خواتین اور خاندانوں کے تحفظ کے لیے ایک خصوصی پلیٹ فارم قائم کیا ہے تاکہ انہیں ہر ممکن مدد اور سہولت فراہم کی جا سکے۔ پاکستانی سفیر نے مزید کہا کہ اس وقت پرتگال میں مزدوروں کی شدید کمی (لیبر شارٹیج) کا سامنا ہے، جسے پورا کرنے کے لیے پاکستان سے ماہرانہ و ہنر مند افرادی قوت بھجوائی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ یہ اقدام دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی تعلقات کو مزید مضبوط کرے گا اور پاکستانی ہنرمندوں کے لیے روزگار کے نئے دروازے کھولے گا۔ ملاقات میں عاصم علی ورک فہیم اسلم ,چوہدری علی ,میاں عمران ,چوہدری ناصر ,چوہدری امجد گجر انجم اقبال وڑائچ انصر اقبال محمد یاسر احسان مغل یونائیٹڈ جرنلسٹس فورم کے چیئرمین جہانگیر خان، عاطف علی وٹو،عدیل ریاض اور پاک اوورسیزمیڈیا فورم کے صدر راجہ شعیب الطاف سمیت دیگر صحافیوں نے شرکت کی۔ شرکاء نے پاکستان کےمثبت امیج اور عالمی سطح پر اس کی بڑھتی ہوئی اہمیت پر تبادلۂ خیال کیا۔ سفیر پاکستان نے ایک سوال کے جواب میں بتایا کہ سعودی عرب سے پرتگال منتقل ہونے والے معروف کاروباری اور سماجی شخصیت ملک شہزاد نے انتہائی کم وقت میں ان کا شمار پرتگال میں کامیاب بزنس مین اور کمیونٹی لیڈرز میں ہوتا ہے، جنہوں نے پاکستان اور پرتگال کے درمیان تعلقات کو مضبوط بنانے میں نمایاں کردار ادا کیا ہے۔ آخر میں تمام شرکاء نے اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ پاکستان کے بہتر تشخص کو عالمی سطح پر اجاگر کرنے کے لیے اپنا بھرپور کردار ادا کرتے رہیں گے، جبکہ وطنِ عزیز کی ترقی، استحکام اور خوشحالی کے لیے خصوصی دعا بھی کی گئی۔ اس موقع پر تقریب کے میزبان ملک محسن رضانے سفیر پاکستان کےکو عمرے کی مبارکباد بھی دی۔

 

مسرت خلیل گلزار.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: پرتگال میں پاکستان کے کے لیے

پڑھیں:

کلچر کب تہذیب بنتا ہے

سماجی و کلچرل ارتقا ایک جامع اصطلاح ہے جو کلچرل ارتقاCultural Evolutionاور سماجی ارتقاSocial evolution کے مختلف نظریات پر مشتمل ہے۔یہ نظریات اس بات کی وضاحت کرتے ہیں کہ کلچرز اور معاشرے وقت کے ساتھ کس طرح بدلتے اور ترقی کرتے ہیں۔سماجی و کلچرل ارتقا کو ایک ایسے عمل کے طور پر بیان کیا جا سکتا ہے جس میں وقت گزرنے کے ساتھ معاشرے کی ساخت اور تنظیم میں تبدیلی آتی ہے اور معاشرہ ایک ایسی شکل اختیار کر لیتا ہے جو اپنی ابتدائی شکل سے معیار،خصوصیات اور ساخت کے لحاظ سے نمایاں طور پر مختلف ہوتا ہے۔

ماہرینِ بشریات یعنی اینتھروپالوجسٹ اور ماہرینِ عمرانیات عام طور پر یہ سمجھتے ہیں کہ انسان فطری طور پر سماجی رجحانات رکھتا ہے اور اس کے بہت سے سماجی رویوں کی وجوہات جینیاتی یعنی وراثتی نہیں ہوتیں بلکہ ان کے پیچھے سماجی عوامل اور مختلف حالات کارفرما ہوتے ہیں۔معاشرے ایک پیچیدہ سماجی ماحول میں وجود پذیر ہوتے ہیں اور خود کو اس ماحول کے مطابق ڈھالتے رہتے ہیں۔اسی لیے یہ ایک لازمی حقیقت ہے کہ تمام معاشرے وقت کے ساتھ تبدیلی سے گزرتے رہتے ہیں۔

سماجی و کلچرل ارتقا کے نظریات پیش کرنے والوں میںAuguste Comte،ہربرٹ  سر اور لیوس مورگن نمایاں تھے۔ان کا خیال تھا کہ معاشرے ابتدا میں ایک ابتدائی حالت میں ہوتے ہیں اور وقت گزرنے کے ساتھ آہستہ آہستہ زیادہ مہذب اورترقی یافتہ بنتے جاتے ہیں۔ان نظریات سے بھی بہت پہلے چودھویں صدی عیسوی کے عظیم مسلمان تاریخ دان اور مفکر ابنِ خلدون نے یہ نتیجہ اخذکیا تھا کہ معاشرے زندہ جانداروںLiving organizms کی مانند ہوتے ہیں۔وہ قدرتی اور آفاقی اسباب کے تحت ایک چکرCycleسے گزرتے ہیں یعنی ان کی پیدائش،نشوونما،بلوغت اور آخرکار ان کے لیے موت ناگزیر ہو جاتی ہے۔جرمن فلسفی ہیگلHegel کا خیال تھا کہ معاشرے ابتدا میں ایک قدیم ابتدائی حالت میں ہوتے ہیں۔

شاید اس وقت وہ حالتِ فطرت میں ہوتے ہیں اور پھر ترقی کرتے ہوئے صنعتی یورپ جیسے معاشرے کی شکل اختیار کر لیتے ہیں۔اسی طرح ایڈم فرگوسن،جان ملر اور ایڈم اسمتھ کا موقف تھا کہ تمام معاشرے ترقی کے چار بنیادی مراحل سے گزرتے ہیں پہلا مرحلہ شکار اور خوراک جمع کرنے کا دور،دوسرا مویشی پالنے اور خانہ بدوشی کا دور،تیسرا مرحلہ زرعی دور اور چوتھا تجارت اور صنعت کا دور۔اگر بغور جائزہ لیا جائے تو یہ تمام ماہرین ابنِ خلدون کے خوشہ چین نظر آتے ہیں۔

تہذیب ،سویلائزیشن کی اصطلاح بنیادی طور پر انسانی کلچر کے اس مادی اور عملی پہلو کے لیے استعمال ہوتی ہے جو ٹیکنالوجی،سائنس اور محنت کی تقسیم یعنیDivision of Labourکے لحاظ سے بہت ترقی یافتہ اور پیچیدہ ہو۔قدیم زمانے میں مہذب لوگوں کی اصطلاح اس لیے استعمال کی جاتی تھی تاکہ انھیں وحشی اور ابتدائی Primitiveسے الگ ظاہر کیا جا سکے۔آج کے دور میں مہذب معاشروں کا تقابل اکثر مقامی یا قبائلی معاشروں سے کیا جاتا ہے۔یہ امر بھی بہت افسوس ناک ہے کہ بظاہر تہذیب یافتہ اقوام نے وسائل پر قبضے کے لیے بظاہر وحشیوں پر بہت مظالم ڈھائے۔تاہم آج کل اس اصطلاح کو پہلے کی نسبت زیادہ وسیع معنی میں استعمال کیا جاتا ہے جہاں تہذیب اور کلچر کو تقریباً ایک ہی مفہوم میں لیا جاتا ہے۔اس وسیع مفہوم کے مطابق تہذیب سے مراد کوئی بھی اہم نمایاں اور واضح طور پر منظم انسانی معاشرہ ہو سکتا ہے۔

ایک اینتھروپالوجسٹ کے مطابق کلچر اس وقت تہذیب میں ڈھل جاتا ہے جب خاندان،گروہ یا سوسائٹی جسمانی،ذہنی یا مالی طور پر معذور فرد کی نگہداشت شروع کر دیتی اور اس کے لیے اسپتال اور ادارے وجود میں آجاتے ہیں۔انھیں معذور ہونے کی بنا پر مرنے کے لیے نہیں چھوڑ دیا جاتا۔اس نے کہا کہ کھدائیوں کے دوران اگر کسی ڈھانچے کی ٹوٹی ہوئی ہڈی جڑی ہوئی ملے تو سمجھ جانا چاہیے کہ اس معاشرے نے معذور افراد کی دیکھ بھال کے نظام کو عملی طور پر اپنا رکھا تھا ورنہ وہ فرد خود کسی قابل نہ ہونے کی وجہ سے ایڑیاں رگڑ رگڑ کر بھوک اور پیاس سے مر جاتا۔

 تہذیب انسانی معاشرے کی ترقی کی وہ بظاہر اعلیٰ ترین منزل ہے جہاں لوگ صرف اپنی بنیادی ضروریات پوری کرنے تک محدود نہیں رہتے بلکہ self actualizationکی طرف قدم بڑھاتے،منظم سیاسی،معاشی،سماجی،علمی،مذہبی اور کلچرل ادارے تشکیل دیتے ہیں۔تہذیب دراصل انسانی زندگی کے اس منظم اور ترقی یافتہ نظام کا نام ہے جس میں علم،فن، قانون، ریاست، عدالت، تجارت، شہروں کا بسایا جانا،نمایندہ عمارتوں کی تعمیر،روزافزوں ترقی کرتی ٹیکنالوجی اور اعلیٰ اخلاقی اقدار سب ایک دوسرے سے مل کر ایک مستحکم معاشرہ وجود میں لاتے ہیں۔لفظ سویلائزیشن لاطینی لفظ Civisیعنی شہری سے نکلا ہے۔اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ تہذیب کا شہری زندگی،منظم حکومت اور اجتماعی اداروں سے گہرا تعلق ہے۔تہذیب کلچر کا منظم،ترقی یافتہ اور ادارہ جاتی Institutionalizedروپ ہے جس میں حکومت،قانون،عدالت،شہروں کی منصوبہ بندی،تجارت،سائنس اور ٹیکنالوجی شامل ہو جاتے ہیں۔

آرنلڈ ٹائن بی کے مطابق Civilization rise where societies successfully respond to challenges..ماہرین کا کہنا ہے کہ ہر کلچر تہذیب میں نہیں ڈھلتا لیکن جب اس کے اندر یہ عناصر جیسے خانہ بدوشی کے بجائے مستقل آبادیاں قائم ہو جائیں،زراعت فوڈ سیکیورٹی کی ضامن بن جائے،منظم حکومت ،معاشی نظام ہو،سماجی ادارے بن جائیں،سائنس اور ٹیکنالوجی،فنونِ لطیفہ،مذہب، فلسفہ اور محنت کی تقسیم ہو تو کلچر، تہذیب کہلا سکتا ہے۔

تہذیبوں کے زوال کے عمومی اسباب کا جائزہ لیں تو یہ سامنے آتا ہے کہ یہ عظیم تہذیبیں جب اخلاقی انحطاط کا شکار ہوئیں،سیاسی بدعنوانی حد کو چھونے لگی،معاشی بحران نے جنم لے لیا،بیرونی حملے روکے نہ جا سکے،باہم اختلافات بہت بری صورت اختیار کر گئے،علمی و فکری جمود طاری ہوا اورماحولیاتی تبدیلیوں کے نتیجے میں پیدا ہونے والے چیلنجز سے نبرد آزما ہونے کے قابل نہ رہیں تو یہ تہذیبیں زوال آشنا ہو کر مٹ گئیں۔

متعلقہ مضامین

  • پاکستانی سفیر کی جانب سے پاکستان اور میانمار کی ممتاز کاروباری شخصیات کے اعزاز میں عشائیہ
  • ازبکستان میں پاکستان کے سفیر مدثر ٹیپو نے سفارتی اسناد ازبک وزیر خارجہ کو پیش کردیں
  • کلچر کب تہذیب بنتا ہے
  • نواز شریف کل میرپور میں انتخابی جلسے سے خطاب کریں گے
  • امریکا کی 250 ویں سالگرہ 5 روزہ نمائش، آزادی کے تصور پر پاکستانی آرٹسٹس کے فن پارے توجہ کا مرکز
  • 25 جولائی کو گریٹر اقبال پارک میں پیپلز پارٹی کے جلسہ ؛ بلاول بھٹو ویڈیو لنک سے خطاب کریں گے ؛فیصل میر
  • جامعہ کراچی میں سالانہ یومِ حسینؑ، شیعہ سنی علماء کا خطاب، اساتذہ و طلباء کی شرکت
  • حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا
  • پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
  • پاکستانی پرچم بردار جہازوں کیخلاف کسی بھی قسم کی جارحانہ کارروائی کو قومی سلامتی کا خطرہ تصور کیا جائیگا: دفتر خارجہ