ہر عورت کو خوف و تشدد سے آزاد زندگی ملنی چاہیے، صدر مملکت کا پیغام
اشاعت کی تاریخ: 25th, November 2025 GMT
صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے خواتین پر تشدد کے خاتمے کے بین الاقوامی دن کے موقع پر اپنے پیغام میں کہا کہ ہر عورت کو خوف و تشدد سے پاک زندگی گزارنے کا حق حاصل ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ خواتین پر تشدد انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہے اور پاکستان عالمی برادری کی طرح دنیا بھر کی خواتین اور لڑکیوں کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتا ہے۔
صدر زرداری نے زور دیا کہ خواتین کو تعلیم، ہنرمندی اور معاشی خودمختاری کے ذریعے بااختیار بنانا نہایت ضروری ہے۔ ساتھ ہی مضبوط قانونی فریم ورک کے ساتھ معاشرتی اور ثقافتی رویوں میں تبدیلی بھی وقت کا اہم تقاضا ہے۔
اس برس کے موضوع، ’’تمام خواتین و لڑکیوں کے خلاف ڈیجیٹل تشدد کے خاتمے کے لیے متحد ہوں‘‘، پر بات کرتے ہوئے صدر نے کہا کہ ڈیجیٹل دنیا میں بڑھتے ہوئے تشدد کے واقعات فوری توجہ کے متقاضی ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ حکومتِ پاکستان نے خواتین کے تحفظ کے لیے اہم قوانین نافذ کیے ہیں، اور کم عمری کی شادی کے خاتمے کے حوالے سے سندھ، اسلام آباد اور پنجاب میں نمایاں پیش رفت ہوئی ہے۔ صدر نے صوبوں پر زور دیا کہ وہ بھی موثر قانون سازی کریں اور موجودہ قوانین پر سختی سے عمل کو یقینی بنائیں۔
صدر آصف علی زرداری نے متاثرہ خواتین، سماجی کارکنوں اور اداروں کی خدمات کو قابلِ تحسین قرار دیا اور خواتین کے حقوق کے تحفظ اور صنفی تشدد کے خلاف قومی یکجہتی کے عزم کا اعادہ کیا۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: تشدد کے
پڑھیں:
یورپی یونین کا گوگل پر 89 کروڑ یورو جرمانہ، سرچ انجن پر اجارہ داری کے غلط استعمال کا الزام
یورپی یونین نے سرچ انجن کے شعبے میں مبینہ اجارہ داری کا غلط استعمال کرنے پر گوگل کے خلاف بڑا اقدام کرتے ہوئے کمپنی پر 89 کروڑ یورو (تقریباً ایک ارب امریکی ڈالر)کا جرمانہ عائد کر دیا ہے۔ یورپی کمیشن کا کہنا ہے کہ گوگل نے اپنی بالادست پوزیشن کا فائدہ اٹھاتے ہوئے حریف کمپنیوں کے ساتھ غیر منصفانہ رویہ اختیار کیا اور اپنی مختلف سروسز کو ناجائز برتری فراہم کی۔
یورپی کمیشن کی جانب سے جاری بیان کے مطابق گوگل نے سرچ انجن میں اپنی مضبوط پوزیشن استعمال کرتے ہوئے شاپنگ، ٹریول، گیمز اور دیگر سروسز کو سرچ نتائج میں نمایاں جگہ دی، جبکہ حریف کمپنیوں کی سروسز کو نیچے دکھایا گیا، جس سے منصفانہ مسابقت متاثر ہوئی۔
کمیشن نے کہا کہ یہ طرزِ عمل ڈیجیٹل مارکیٹس ایکٹ (Digital Markets Act) کی خلاف ورزی ہے، جس کے تحت بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کو اپنی سروسز کے حق میں امتیازی یا جانبدارانہ رویہ اختیار کرنے کی اجازت نہیں۔
یورپی کمیشن نے گوگل پر یہ الزام بھی عائد کیا کہ کمپنی نے گوگل پلے اسٹور پر ایپ ڈویلپرز کو صارفین کو متبادل ادائیگی کے طریقوں سے آگاہ کرنے سے روکا، تاکہ گوگل کی سروس فیس برقرار رہے۔ کمیشن کے مطابق یہ عمل بھی ڈیجیٹل مارکیٹس ایکٹ کی خلاف ورزی کے زمرے میں آتا ہے، جس کا مقصد بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کی اجارہ داری کو روکنا ہے۔
کمیشن نے گوگل کو ہدایت کی ہے کہ وہ 60 دن کے اندر فیصلے پر عملدرآمد کرے، بصورت دیگر کمپنی کو مزید جرمانوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔دوسری جانب گوگل نے فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ یورپی کمیشن کے اس اقدام سے یورپی صارفین اور کاروباری اداروں کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔
یہ پہلا موقع نہیں کہ یورپی یونین نے گوگل کے خلاف کارروائی کی ہو۔ 2018 میں اینڈرائیڈ آپریٹنگ سسٹم میں اجارہ داری کے الزام پر گوگل پر 4.7 ارب ڈالر کا جرمانہ عائد کیا گیا تھا، جبکہ 2017 میں سرچ انجن کے شعبے میں مسابقتی قوانین کی خلاف ورزی پر کمپنی کو 2.8 ارب ڈالر جرمانے کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ بعد ازاں ان مقدمات میں گوگل کی اپیلیں بھی مسترد کر دی گئی تھیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ تازہ کارروائی سے یورپی یونین اور امریکا کے درمیان تجارتی کشیدگی میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے، کیونکہ امریکی انتظامیہ اس سے قبل یورپی یونین کی بعض تجارتی اور ڈیجیٹل پالیسیوں پر تحفظات کا اظہار کر چکی ہے۔