سوڈان: الفاشر پناہ گزین کیمپ حملے میں 17 بچے ہلاک، یونیسف کی مذمت
اشاعت کی تاریخ: 13th, October 2025 GMT
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ UN اردو۔ 13 اکتوبر 2025ء) سوڈان کی ریاست شمالی ڈارفر کے دارالحکومت الفاشر میں پناہ گزینوں کے مرکز پر حملے میں کم از کم 17 بچوں سمیت 60 افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔ اقوام متحدہ کے ادارہ برائے اطفال (یونیسف) نے اس واقعے کی مذمت کرتے ہوئے پناہ گاہوں پر حملوں کو ناقابل قبول قرار دیا ہے۔
یونیسف کو موصولہ اطلاعات کے مطابق یہ حملہ ڈارفر سے نقل مکانی کرنے والے لوگوں کی پناہ گاہ 'دارالارقم' پر کیا گیا جس میں 21 بچے زخمی بھی ہوئے ہیں۔
سوڈان کی مسلح افواج کے خلاف برسرپیکار ریپڈ سپورٹ فورسز (آر ایس ایف) کو اس حملے کا زمہ دار قرار دیا جا رہا ہے۔ Tweet URLفریقین میں اپریل 2023 سے لڑائی جاری ہے جس کے نتیجے میں سنگین انسانی بحران نے جنم لیا ہے اور کروڑوں لوگ بھوک، افلاس اور بے گھری کا شکار ہیں۔
(جاری ہے)
یونیسف کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر کیتھرین رسل نے اس واقعے پر شدید افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے بچوں اور خاندانوں پر حملہ ایک ہولناک المیہ ہے جو پہلے ہی پناہ کی تلاش میں تھے۔ بچوں کا قتل اور انہیں زخمی کرنا ان کے بنیادی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہے۔
محاصرہ، بمباری اور قحط'آر ایس ایف' نے الفاشر شہر کو گزشتہ 500 روز سے محاصرے میں لے رکھا ہے جہاں شہریوں کی نقل و حرکت، خوراک، پانی اور طبی سہولیات تک رسائی پر سخت پابندیاں عائد ہیں۔
بڑی تعداد میں بچے شدید حالات میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں اور شہر کو بارہا بمباری کا سامنا کرنا پڑا ہے جس سے ان کے حالات زندگی مزید ابتر ہو گئے ہیں۔شمالی ڈارفر کے کئی علاقوں میں قحط کی کیفیت ہے جہاں غذائی تحفظ اور بچوں کی صحت کی صورتحال تشویشناک حد تک بگڑ چکی ہے۔ لوگ نہایت قلیل خوراک پر گزارا کر رہے ہیں اور بچوں میں غذائی قلت تیزی سے بڑھ رہی ہے۔
طبی حکام کے مطابق، بھوک اور بیماریوں کے باعث قابل انسداد اموات میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔امدادی قافلوں کی لوٹ مار، راستے بند ہونے اور انسانی امداد کی فراہمی میں رکاوٹوں کے باعث مستقل بنیاد پر مدد پہنچانے کی کوششیں انتہائی مشکل ہو گئی ہیں۔ یونیسف نے الفاشر میں فوری جنگ بندی، شہر کا محاصرہ ختم کرنے اور نقل مکانی کرنے والے شہریوں کے لیے محفوظ راستوں کی فراہمی، انسانی امداد کی بلا رکاوٹ رسائی کو یقینی بنانے اور شہریوں پر حملے کرنے والوں کو انصاف کے کٹہرے میں لانے کا مطالبہ کیا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے
پڑھیں:
ٹیسلا نے بچوں کے لیے نئی بیلنس بائیک متعارف کرا دی، قیمت کتنی ہے؟
اسلام آباد: معروف امریکی الیکٹرک گاڑیاں بنانے والی کمپنی ٹیسلا نے 2 سے 5 سال عمر کے بچوں کے لیے نئی بیلنس بائیک متعارف کرا دی ہے، جسے جدید ڈیزائن اور ہلکے وزن کے ساتھ تیار کیا گیا ہے۔
کمپنی کے مطابق یہ ٹیسلا بچوں کی بیلنس بائیک مضبوط مگر ہلکے میگنیشیم فریم پر مشتمل ہے، جبکہ اس میں بچوں کی سہولت کے لیے ایڈجسٹ ہونے والی نشست بھی دی گئی ہے۔ بائیک کے سائیڈ پر ٹیسلا کا نام اور سامنے نمایاں T لوگو بھی موجود ہے۔
یہ بائیک روایتی سائیکل سے مختلف ہے کیونکہ اس میں نہ پیڈل موجود ہیں، نہ موٹر اور نہ ہی بریک۔ بچے اپنے پیروں کی مدد سے اسے چلاتے ہیں، جس سے ان میں توازن برقرار رکھنے اور سائیکل چلانے کی بنیادی مہارت پیدا کرنے میں مدد ملتی ہے۔
کمپنی نے اس منفرد بائیک کی قیمت 225 امریکی ڈالر مقرر کی ہے، جو عام بیلنس بائیکس کے مقابلے میں زیادہ ہے، کیونکہ مارکیٹ میں ایسی بیشتر بائیکس تقریباً 100 ڈالر میں دستیاب ہوتی ہیں۔
قیمت نسبتاً زیادہ ہونے کے باوجود یہ بائیک فروخت کے آغاز کے فوراً بعد آؤٹ آف اسٹاک ہو گئی، جس سے صارفین کی غیر معمولی دلچسپی ظاہر ہوتی ہے۔
ٹیسلا کے مطابق نئی کھیپ کے لیے 31 جولائی سے پری آرڈر دوبارہ شروع کیے جائیں گے۔
کمپنی کا کہنا ہے کہ یہ بائیک 2 سے 5 سال عمر کے بچوں کے لیے موزوں ہے۔ اس کے استعمال کے لیے بچے کی ٹانگ کی کم از کم لمبائی 13.7 انچ (35 سینٹی میٹر) ہونی چاہیے، جبکہ تجویز کردہ زیادہ سے زیادہ وزن 30 کلوگرام اور قابل برداشت زیادہ سے زیادہ وزن 35 کلوگرام رکھا گیا ہے۔
ٹیسلا نے یہ بھی بتایا کہ بائیک کی اسمبلنگ کے لیے درکار تمام ضروری اوزار پیکج میں شامل ہوں گے، جبکہ صارفین کو مکمل ہدایات پر مشتمل استعمال کا کتابچہ بھی فراہم کیا جائے گا۔
ماہرین کے مطابق بچوں کی مصنوعات کی مارکیٹ میں ٹیسلا کی یہ نئی پیشکش کمپنی کی برانڈ توسیع کی حکمت عملی کا حصہ ہے، جس کے ذریعے وہ گاڑیوں کے علاوہ دیگر صارفین کی مصنوعات میں بھی اپنی موجودگی مضبوط بنا رہی ہے۔