روس اور یوکرین کے ایک دوسرے پر حملے‘ 9افراد ہلاک
اشاعت کی تاریخ: 26th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
ماسکو ؍کیف (انٹرنیشنل ڈیسک) روس یوکرین جنگ بندی مذاکرات کے دوران دونوں ممالک میں ہونے والے نئے حملوں نے صورتحال مزید کشیدہ کر دی ۔ یوکرینی شہر کیف اور روسی علاقے روستوف میں ہونے والے تازہ حملوں میں مجموعی طور پر 9 افراد ہلاک ہوگئے۔ یوکرین کے صدر وولودیمیر زیلنسکی نے کہا ہے کہ کیف ایسا امن معاہدہ چاہتا ہے جو یوکرین کو مضبوط کرے۔ یوکرین کی ایمرجنسی سروس کا کہنا ہے کہ روس کی رات گئے کیف پر بمباری سے 6 افراد ہلاک ہوئے۔یوکرینی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے روس کے جنوبی علاقے کریسنودار میں ایک آئل ریفائنری اور بلیک سی کی بندرگاہ نووروسیسک میں آئل ٹرمینل کو نشانہ بنایا۔ اس کے علاوہ یوکرین نے روستوف کے شہر ٹاگانروگ میںاے 60 جاسوسی طیارے کو ٹارگٹ کرنے کا دعویٰ بھی کیا ہے۔ ادھر روسی حکام کے مطابق روستوف ریجن پر یوکرینی حملے میں 3 افراد مارے گئے جبکہ 10 زخمی ہوئے۔ روسی وزارت دفاع نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے رات کے دوران یوکرین کے تقریباً 250 ڈرون مار گرائے۔ ذرائع ابلاغ کے مطابق امریکا اور روس، یوکرین جنگ کے معاملے پر ابوظبی میں مذاکرات کر رہے ہیں۔ اس سلسلے میں امریکی آرمی سیکرٹری ڈان ڈرسکال نے ابوظبی میں روسی وفد سے ملاقات بھی کی۔وہ روسی حکام سے مزید ملاقاتیں کریں گے،جن میں یوکرینی ملٹری انٹیلی جنس کے سربراہ بھی شریک ہوں گے۔ ترجما ن وائٹ ہاؤس کیرولین لیوٹ کا کہنا ہے کہ صدر ٹرمپ پیوٹن اور زیلنسکی دونوں پر دباؤ ڈال رہے ہیں۔ امریکا اور یوکرین نے جنگ بندی کے ممکنہ معاہدے پر بات کی،جو کہ نتیجہ خیز رہی۔ جنگ بندی میں چند نکات پر اختلاف ہے، صدر ٹرمپ یوکرین میں جنگ بندی معاہدے کے لیے پر عزم ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ یہ درست نہیں کہ امریکی صدر ایک فریق کے مقابلے میں دوسرے کی حمایت کر رہے ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ ایران پر اب تک کے سب سے بڑے فوجی حملے کی منظوری دینے کے قریب ہیں۔
امریکی خبر رساں ادارے سے گفتگو میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ میں ایران پر ایک بہت بڑے حملے پر غور کر رہا ہوں جو پہلے ہونے والے تمام حملوں سے کہیں بڑا ہوگا۔
انھوں نے مزید کہا کہ اگرچہ ابھی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا۔ تمام عسکری آپشنز زیر غور ہیں۔ میں فیصلہ کرنے کے بہت قریب ہوں اور اس کی تمام تیاریاں بھی مکمل ہیں۔
امریکی صدر ٹرمپ نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ اگر وہ چاہیں تو اسرائیل دو منٹ میں اس کارروائی میں شامل ہو جائے گا تاہم ہمیں کسی کی ضرورت نہیں۔
قبل ازیں ایران کے حمایت یافتہ یمنی حوثیوں کے بحیرہ احمر میں دو سعودی آئل ٹینکروں پر حملے کے بعد امریکی صدر نے ایران اور حوثیوں دونوں کو بڑی فوجی سزا دینے کی دھمکی بھی دی تھی۔
صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر لکھا تھا کہ اگر حوثیوں نے دوبارہ ایسے حملے کیے تو امریکا انھیں ایران کی کارروائی تصور کرے گا کیونکہ حوثی اس کے حمایت یافتہ گروہ ہیں۔
دوسری جانب مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی منڈی میں برینٹ خام تیل کی قیمت ایک بار پھر 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرچکی ہے۔
بحیرہ احمر اور باب المندب میں جہاز رانی کو لاحق خطرات نے عالمی توانائی منڈی میں تشویش بڑھا دی ہے۔
ادھر اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے نے کہا کہ صورتحال قابو سے باہر ہوتی جا رہی ہے۔ خطہ مسلسل وسیع ہوتے تصادم کی لپیٹ میں آ رہا ہے۔ ایک بحران دوسرے بحران کو جنم دے رہا ہے اور ہر نئی کشیدگی اگلی کشیدگی کا سبب بن رہی ہے۔