پولیو کے خاتمے کی جانب بڑا قدم، کل سے ملک گیر مہم کا آغاز
اشاعت کی تاریخ: 12th, October 2025 GMT
نیشنل ایمرجنسی آپریشنز سینٹر (ای او سی) نے بتایا ہے کہ قومی پولیو مہم کل سے ملک بھر کے 159 اضلاع میں شروع ہوگی۔نیشنل ایمرجنسی آپریشنز سینٹر کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ قومی پولیو مہم 13 سے 19 اکتوبر تک ملک بھر میں منعقد ہوگی. ہفتہ وار پولیو مہم کے دوران 4 کروڑ 54 لاکھ بچوں کو پولیو کے قطرے پلائے جائیں گے۔بیان میں کہا گیا کہ ہفتہ وار پولیو مہم کے دوران بچوں کو پولیو ویکسین کے ساتھ وٹامن اے کی اضافی خوراک بھی دی جائے گی جب کہ 4 لاکھ سے زائد ہیلتھ ورکرز گھر گھر جا کر بچوں کو پولیو سے بچائیں گے۔نیشنل ایمرجنسی آپریشنز سینٹر کے مطابق جنوبی خیبرپختونخوا میں پولیو مہم 20 تا 23 اکتوبر تک منعقد کی جائے گی۔نیشنل ایمرجنسی آپریشنز سینٹر کی جانب سے تمام والدین سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ 5 سال تک کے تمام بچوں کو پولیو کے قطرے لازمی پلَوائیں۔بیان میں مزید کہا گیا کہ تمام والدین پیدائش سے 15 ماہ تک کے تمام بچوں کا حفاظتی ٹیکوں کا کورس بروقت مکمل کروائیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: نیشنل ایمرجنسی آپریشنز سینٹر بچوں کو پولیو پولیو مہم
پڑھیں:
ایران کا بحرین میں ایمیزون کے ڈیٹا سینٹر کو نشانہ بنانے کا بڑا دعویٰ
تہران / منامہ: ایران کی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے بحرین میں امریکی ٹیکنالوجی کمپنی ایمیزون کے ایک ڈیٹا سینٹر کو نشانہ بنایا ہے۔ ایرانی حکام کے مطابق یہ کارروائی امریکا کے خلاف جاری جوابی اقدامات کا حصہ ہے۔
ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق پاسدارانِ انقلاب نے ایک بیان میں کہا کہ حملے کا ہدف امریکی کمپنی ایمیزون کی وہ ڈیٹا تنصیب تھی جو ان کے بقول امریکی فوج کو معلوماتی معاونت فراہم کرنے میں کردار ادا کر رہی تھی۔
بیان میں دعویٰ کیا گیا کہ مذکورہ ڈیٹا سینٹر کو نشانہ بنا کر تباہ کر دیا گیا تاہم ایرانی حکام نے اس دعوے کے حق میں فوری طور پر کوئی شواہد یا مزید تفصیلات پیش نہیں کیں۔
دوسری جانب خبر شائع ہونے تک امریکی کمپنی ایمیزون، بحرین کی حکومت یا امریکی حکام کی جانب سے ایران کے اس دعوے پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا، جبکہ آزاد ذرائع سے بھی اس حملے یا اس کے ممکنہ نقصانات کی تصدیق نہیں ہو سکی۔
ایران نے ایک بار پھر اپنے مؤقف کا اعادہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں وہ تمام فوجی اڈے یا تنصیبات جو امریکا ایران کے خلاف کارروائیوں کے لیے استعمال کرتا ہے، ایران کی نظر میں جوابی حملوں کے لیے جائز ہدف ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق اگر ایران کے دعوے درست ثابت ہوتے ہیں تو یہ پہلی بار ہوگا کہ کسی بڑی عالمی ٹیکنالوجی کمپنی کی تنصیب کو ایران نے براہِ راست اپنی فوجی کارروائی کا ہدف قرار دیا ہے۔ تاہم اس معاملے کی آزادانہ تصدیق کا انتظار کیا جا رہا ہے۔