پاکستان سول ایوی ایشن اتھارٹی کی غفلت، سیرین ائیر لائن تباہی کے دہانے پر
اشاعت کی تاریخ: 25th, November 2025 GMT
پاکستان سول ایوی ایشن اتھارٹی کی نااہلی اور روایتی لاپرواہی کی وجہ سے سیرین ائیر لائن بحران کا شکار ہو گئی ہے۔
تفصیلات کے مطابق، اتھارٹی کی جانب سے لائسنس کی بروقت بحالی نہ ہونے کے باعث سیرین ائیر لائن کے 1,200 سے زائد ملازمین کو دو ماہ سے تنخواہیں نہیں ملی ہیں۔
سیرین ائیر لائن نے وزارت ہوا بازی سے درخواست کی ہے کہ اس کا ایئر آپریٹنگ سرٹیفکیٹ فوری طور پر بحال کیا جائے تاکہ آپریشنز دوبارہ شروع کیے جا سکیں اور ملازمین کی ایک ماہ کی تنخواہ آئندہ ماہ ادا کی جا سکے۔
انتظامیہ نے بتایا کہ لائسنس کی بحالی کے بعد چین میں موجود جہاز اور دیگر ممالک سے آرہے اسپئیر پارٹس کو متحرک کر کے فضائی آپریشن دوبارہ شروع کیا جائے گا۔
سول ایوی ایشن اتھارٹی نے دو ماہ قبل جہازوں کی تعداد کم ہونے اور مسافروں کو بروقت منزل تک نہ پہنچانے کی بنیاد پر لائسنس معطل کر دیا تھا، جس کے باعث اندرون اور بیرون ملک پروازیں بھی متاثر ہوئی ہیں۔ ذرائع کے مطابق، اگر اتھارٹی بروقت کارروائی کرتی تو آج سیرین ائیر لائن کا فضائی آپریشن معطل نہ ہوتا۔
دوسری جانب، سیرین ائیر لائن کے چیف آپریٹنگ آفیسر عبد الباسط کا کہنا ہے کہ لائسنس بحال ہوتے ہی آپریشنز بحال ہو جائیں گے اور ملازمین کی تنخواہوں کی ادائیگی بھی جلد شروع ہو جائے گی۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: سیرین ائیر لائن
پڑھیں:
سیٹلائٹ تصاویر نے کوٹلی ستیاں جنگلات میں لگنے والی بھیانک آگ کی تباہی کی تفصیلات ظاہر کر دیں
سیٹلائٹ تصاویر نے کوٹلی ستیاں کے جنگلات میں لگنے والی حالیہ بھیانک آگ کی تباہی کی تفصیلات ظاہر کر دیں۔
سپارکو کی جانب سے پر جاری کردہ سیٹلائٹ ڈیٹا کے مطابق گرمی کی حالیہ شدید لہر کے باعث جنگلات میں لگنے والی ہولناک آگ نے پنجاب کے ماحولیاتی لحاظ سے حساس علاقے 'کوٹلی ستیاں' کے 25 مقامات پر پھیلے ہوئے تقریباً 3,037 ہیکٹر (7,504.7 ایکڑ) پر مشتمل قدرتی جنگلات کو خاکستر کر دیا ہے۔
9 مئی سے 29 مئی 2026 تک کی سیٹلائٹ تصاویر کا موازنہ کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ آگ لگنے کے بعد 'چِیڑ' کے جنگلات کو شدید نقصان پہنچا ہے، جو کہ دریائے سندھ اور دریائے جہلم کے اہم ذیلی آبی ذخائر کے لیے انتہائی ضروری ہیں۔
ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اس کے ماحولیاتی اثرات صرف آگ سے جھلسنے والے فوری نقصانات تک محدود نہیں ہیں؛ بلکہ اس آفت نے مقامی پرندوں اور جنگلی حیات کی افزائشِ نسل کے عروج کے سیزن کو شدید متاثر کیا ہے۔
نئے اگنے والے پودوں اور پنیریوں کو تباہ کر دیا ہے، اور اس متاثرہ زمین پر ایسی جڑی بوٹیوں اور جھاڑیوں کے پھیلنے کی راہ ہموار کر دی ہے جو آگ کو برداشت کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔
اگرچہ مقامی آبادی اور محکمہ جنگلات کے عملے نے کئی علاقوں میں آگ پر کامیابی سے قابو پا لیا ہے، لیکن تیز اور گرم ہواؤں کے باعث ہمسایہ ڈھلوانوں پر اب بھی آگ پھیل رہی ہے، جس سے ماحول کو مزید نقصان پہنچنے کا خطرہ ہے۔