چین کا امریکی جہازوں سے خصوصی بندرگاہ فیس وصول کرنے کا اعلان
اشاعت کی تاریخ: 14th, October 2025 GMT
چین کا امریکی جہازوں سے خصوصی بندرگاہ فیس وصول کرنے کا اعلان WhatsAppFacebookTwitter 0 14 October, 2025 سب نیوز
بیجنگ : چینی وزارتِ ٹرانسپورٹ نے امریکی جہازوں سے مخصوص بندرگاہ فیس وصول کرنے کے اقدامات جاری کئے ۔
یہ اقدامات دس دفعات پر مشتمل ہیں اور ان کا نفاذ 14اکتوبر سے ہوگا۔منگل کے روز چینی میڈیا کے مطابق 17 اپریل 2025 کو، امریکہ کے تجارتی نمائندے کے دفتر نے چین کی بحری، لاجسٹکس اور جہاز سازی کی صنعتوں کے بارے میں 301 تحقیقاتی اقدامات جاری کیے، جس کے مطابق 14 اکتوبر 2025 سے چینی کمپنیوں کے زیر ملکیت یا چلنے والے جہازوں، چین ساختہ جہازوں، اور چینی قومیت کے بحری جہازوں کے لیے بندرگاہ کی سروس فیس وصول کی جائے گی ۔
امریکہ کا یہ اقدام ڈبلیو ٹی او کے قوانین اور چین-امریکہ سمندری نقل و حمل کے معاہدے کی سنگین خلاف ورزی کرتا ہے، اور اس نے چین اور امریکہ کے درمیان سمندری تجارت کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔
بین الاقوامی جہاز رانی سے متعلق عوامی جمہوریہ چین کے ضوابط کے مطابق، چینی ریاستی کونسل کی منظوری کے ساتھ، وزارت ٹرانسپورٹ نے مذکورہ اقدامات اُٹھائے ہیں، جس میں 14 اکتوبر سے امریکہ کے بحری جہازوں سے خصوصی پورٹ فیس وصول کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ یہ چین کی صنعتوں اور کاروباری اداروں کے قانونی حقوق اور بین الاقوامی بحری نقل و حمل کے منصفانہ مقابلے کے ماحول کی حفاظت کے لیے ایک جائز اقدام ہے۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرمذہبی جماعت کا احتجاج: سعد رضوی سمیت 3500 سے زائد کارکنان کے خلاف دہشتگردی اور قتل کا مقدمہ درج حماس کا بڑا اقدام، 20 یرغمالیوں کے بعد 4 مغویوں کی لاشیں بھی اسرائیل کے حوالے خواتین کی ہمہ جہت ترقی کیلئے’’چینی حل‘‘نیا راستہ فراہم کرتا ہے، چینی میڈیا امریکا، مصر، ترکیہ اور قطر کے سربراہان نے غزہ امن معاہدے پر دستخط کردیے صدر ٹرمپ مصر پہنچ گئے، غزہ امن مذاکرات کے دوسرے مرحلے کا اعلان ٹرمپ اور ثالث یقینی بنائیں کہ اسرائیل دوبارہ فوجی کارروائیاں شروع نہ کرے، حماس کا مطالبہ غزہ معاہدہ، آج صرف جنگ کا نہیں دہشت گردی و انتہا پسندی کا بھی خاتمہ ہوا، ٹرمپ کا اسرائیلی پارلیمنٹ سے خطابCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: فیس وصول کرنے جہازوں سے
پڑھیں:
ایران کے جوہری پروگرام پر انتہائی ٹیکنیکل مذاکرات میں مہینے لگ سکتے ہیں، امریکی وزیرخارجہ
امریکی وزیرخارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ ایران کے جوہری پروگرام پر مذاکرات انتہائی ٹیکنیکل اور کئی مہینے لگ سکتے ہیں جبکہ آبنائے ہرمز کی بحالی کی صورت میں امریکا کی جانب سے پابندیوں میں نرمی کی کوئی پیش کش نہیں کی گئی ہے۔
امریکی سینیٹ کی خارجہ کمیٹی کو مارکو روبیو نے بتایا کہ دوسرا مرحلہ یہ ہے کہ ایران اس بات پر تفصیلی اور واضح مذاکرات کے لیے آمادہ ہو کہ گہرے پہاڑی مقام میں محفوظ انتہائی افزودہ یورینیم کے ذخیرے کا مستقبل میں کیا تصرف کیا جائے گا۔
ایران کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ انہیں اپنے ملک میں افزودگی کی سرگرمیوں کو طویل مدت تک محدود یا ختم کرنے کے حوالے سے مذاکرات پر اتفاق کرنا ہوگا۔
مارکو روبیو نے کہا کہ یہ انتہائی ٹیکنیکل معاملات ہیں اس لیے میں نہیں سمجھتا کہ اس کو 5 دنوں کے اندر حل کرسکتے ہیں، اس کے لیے ماہرین کی ٹیم درکار ہوگی جو 30، 60 یا 90 روز کی مدت میں کام کرے اور تفصیلات اخذ کرے لیکن انہیں ایسا کرنے کے لیے سنجیدہ ہونا پڑے گا۔
انہوں نے اشارہ دیا کہ تہران نے اپنے جوہری پروگرام کے پہلوؤں پر مذاکرات کے لیے اتفاق کیا ہے لیکن اس حوالے سے تفصیلات فراہم نہیں کی کہ کون سے امور ہیں اور واضح کیا کہ مذاکرات اس بات کی ضمانت نہیں ہیں کہ حتمی طور پر ایسے معاہدے کا باعث ہوں گے جو سینیٹ یا امریکی عوام کے لیے قابل قبول ہوں۔
ان کا کہنا تھا کہ ایران کو پہلے بغیر کسی ٹول کے آبنائے ہرمز کی بحالی کا اعلان کرنا ہوگا، وہ مائنز ہٹائیں گے اور جہازوں پر فائرنگ نہیں کریں گے۔
مارکو روبیو نے کہا کہ امریکا نے ایران کو آبنائے ہرمز کی بحالی پر پابندیوں میں نرمی کی پیش کش نہیں کی ہے اور پابندیوں کا خاتمہ شرائط کی بنیاد پر ہوگا۔
ایرانی سپریم لیڈر زندہ ہیں اور سرگرمیوں میں حصہ لیتے ہیں، روبیو
امریکی وزیر خارجہ نے سینیٹ کمیٹی کو بتایا کہ میرے خیال میں ایران کے نئے سپریم لیڈڑ آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای زندہ ہیں اور سرگرمیوں میں زیادہ حصہ لے رہے ہیں اور اس کے اشارے مل رہے ہیں۔
خیال رہے کہ ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نیا منصب سنبھالنے کے بعد عوامی سطح پر نظر نہیں آئے ہیں تاہم وہ ایرانی حکام کو بدستور ہدایات دے رہے ہیں اور رپورٹ بھی کیا گیا تھا کہ ایرانی اعلیٰ حکام ان سے ملاقات اور مشاورت کرچکے ہیں۔
امریکی میڈیا نے دعویٰ کیا تھا کہ مجتبیٰ خامنہ حملے میں زخمی ہیں جبکہ ایک رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ امریکی انٹیلی جینس کا تجزیہ ہے کہ مجتبیٰ خامنہ ای جنگی حکمت عملی میں ایران کے سینئر عہدیداروں کے ساتھ انتہائی اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔