WE News:
2026-06-02@23:08:28 GMT

بیت اللہ سے

اشاعت کی تاریخ: 8th, October 2025 GMT

بیت اللہ پر پہلی نظر پڑی تو وجود اپنی گہرائیوں تک سرشار ہوگیا، زائرین لوٹ کر آتے تو بتاتے تھے کہ کعبے کو دیکھ کر ہیبت طاری ہو جاتی ہے، میرا تجربہ بالکل مختلف تھا۔

یوں لگا جیسے رحمتوں نے مجھے اپنی آغوش میں لے لیا ہو، رب تعالیٰ کا جلال تو تھا مگر اس کی رحمت بھی عرش سے کسی بارش کی صورت اتر رہی تھی۔ اس کا باقاعدہ احساس ہو رہا تھا، جیسے آپ برسات میں کھڑے ہوں اور آپ پر مینہ برس رہا ہو۔ ایسے ہی میں کعبے کے سامنے کھڑا اپنے وجود کو رحمتوں میں بھیگا محسوس کر سکتا تھا۔

میں ایک طرف ہٹ کر کھڑا ہوگیا، سوچ کر گیا تھا اللہ کے گھر پر پہلی نظر پڑتے ہی کیا مانگنا ہے۔ ہوا مگر یہ کہ بیت اللہ پر نظر پڑی تو سب کچھ بھول گیا۔ یہاں دعائیں بھی رحمت کے ساتھ ہی اتریں، جو اللہ دل میں ڈالتا گیا کہ یہ مانگ لو، وہ مانگتا چلا گیا، اسی نے بلایا تھا اور گویا وہی اپنے بندے کو مانگنا سکھا رہا تھا۔

رش بالکل نہیں تھا، سعودی حکومت کے انتظامات بھی شاندار تھے جو زبان حال سے بتا رہے تھے کہ یہ واقعی خادم الحرمین ہیں۔ بیت اللہ سے چند فٹ کے فاصلے پر طواف کیا، عمرہ ادا ہوتے ہی ہوٹل چلا آیا۔ نیند بھی تھی، اور تھکاوٹ بھی، بستر پر گرتے ہی سوگیا۔

اگلے روز جمعۃ المبارک تھا، مطاف میں داخل ہوا تو وہ بھرا ہوا تھا۔ تل دھرنے کی جگہ نہیں تھی۔ ہجوم سے بہت گھبرا جاتا ہوں۔ دم گھٹنے لگتا ہے۔ بہت سے کام اس لیے ادھورے چھوڑ آتا ہوں کہ رش بہت تھا۔ اتنے زیادہ لوگ دیکھے تو رک گیا۔ شیخ حبیب صاحب سے کہا کہ آپ ادھر طواف کریں میں یہ ہمت نہیں کر سکوں گا، پیچھے کہیں بیٹھ کر تلاوت کر لیتا ہوں۔

شیخ صاحب کہنے لگے: آجائیں، کچھ نہیں ہوگا، میں ایک پل کو رکا کہ آگے جاؤں یا پیچھے ہٹوں۔ پھر بے اختیاری میں مطاف میں داخل ہو گیا اورطواف کرتی خلق خدا کا حصہ بن گیا۔ اب میں دانستہ طور پر آخری لائنوں میں طواف کررہا تھا۔ پاکستان سے چلتے ہی معلوم تھا کہ بیت اللہ کے غلاف یا حجر اسود تک نہ پہنچ سکتا ہوں نہ ہی میں نے یہ کوشش کرنی ہے، اس لیے اب دور کی لائنوں میں طواف کر رہا تھا تاکہ ہجوم اور دھکم پیل سے محفوظ رہتے ہوئے فرض ادا کر سکوں۔

تیسرے چکر میں یاسر ندیم صاحب نے کہا کعبے کے نزدیک ہونے کی کوشش کرتے ہیں، میں نے ان سے کہا مجھ میں تو یہ ہمت نہیں آپ دونوں کوشش کرکے دیکھ لیں۔ وہ مجھ سے الگ ہوئے تو میں نے احتیاطاً مزید دائیں جانب باہر کی طرف نکل کر طواف کرنا شروع کر دیا تاکہ کسی بھی امکانی دھکم پیل سے محفوظ رہ سکوں۔

میں نے کچھ خاص دعائیں یاد نہیں کی تھیں، دوستوں نے توجہ دلائی تھی تو میں نے کہا رب سے جو مانگنا ہے، اپنی پنجابی زبان میں مانگوں گا، اب طواف کے دوران اپنے رب سے پنجابی زبان میں باتیں کر رہا تھا۔ فلسطین ان دعاؤں میں میرے ساتھ تھا، خدا کے جلال اور رحمت کے سائے میں خیال آیا کہ میرے دامن میں تو کچھ بھی نہیں پر اے اللہ میں نے فلسطین کے مظلوموں کے لیے تھوڑی تھوڑی آواز اٹھائی تھی، یہ مظلوم تیرا ہی کنبہ ہیں۔

پھر وہ ہوا جس کا میں نے کبھی تصور بھی نہیں کیا تھا، اچانک طواف کرتی صفیں بے ترتیب ہوئیں، شاید کچھ لوگ حجر اسود سے پیچھے ہٹ رہے تھے اور ان کی ہٹنے کی وجہ سے طواف کی لائنیں بے ترتیب ہو گئیں، جیسے کسی نے بہتے پانی کا رخ بدل دیا ہو۔ اب میرے اختیار میں کچھ نہ تھا کہ دائیں بائیں ہو سکوں، میں پھنس چکا تھا، بندے سے بندہ اور کندھے سے کندھا لگا تھا۔ اب بہاؤ کے ساتھ بہتے جانے کے سوا کوئی راستہ نہیں تھا۔

یہ ایک لمحے کی بات تھی، سب کچھ آناً فاناً ہوگیا، میں جو دور کی صف میں طواف کر رہا تھا، اس بہاؤ نے مجھے بیت اللہ کے دروازے کےعین سامنے لا کر کھڑا کر دیا۔ یہ ایسے ہی تھا جیسے مجھے کسی نے اٹھا کر در کعبہ پر لا کھڑا کردیا ہو۔ اب میں ہاتھ بڑھاتا تو بیت اللہ کے دروازے کو چھو سکتا تھا، میں مالک کائنات کے در کی چوکھٹ پر پہنچ چکا تھا۔

میں نے غلاف کعبہ کو ہاتھوں سے چھوا، اس لمس کا احساس متاع جاں ہے، پھر وہاں ہونٹ رکھے، بوسے دیے، گال لگائے، لپٹا، دعائیں کیں اور اتنی دیر تک کیں کہ بیت اللہ سے لپٹنے کی حسرت پوری ہو گئی۔

خدا واقعی اپنے گناہگار بندوں پر مہربان ہوتا ہے۔ اس کے کرم کی کوئی حد ہی نہیں۔

ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

آصف محمود

آصف محمود انگریزی ادب اور قانون کے طالب علم ہیں۔ پیشے سے وکیل ہیں اور قانون پڑھاتے بھی ہیں۔ انٹر نیشنل لا، بین الاقوامی امور، سیاست اور سماج پر ان کی متعدد کتب شائع ہوچکی ہیں۔

wenews آصف محمود بیت اللہ سے حجر اسود حرمین شریفین عمرہ وی نیوز.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: بیت اللہ سے حرمین شریفین وی نیوز بیت اللہ سے اللہ کے رہا تھا طواف کر

پڑھیں:

مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی؟ حقیقت سامنے آگئی

سوشل میڈیا پر یہ دعویٰ وائرل ہورہا تھا کہ پنجاب کے سیاحتی مقام مری میں 31 مئی تک غیر شادی شدہ مردوں (بیچلرز) کے داخلے پر سرکاری پابندی عائد کردی گئی ہے، تاہم فیکٹ چیک کے بعد یہ واضح ہوا ہے کہ یہ دعویٰ گمراہ کن ہے اور مکمل طور پر درست نہیں۔

فیس بک سمیت مختلف پلیٹ فارمز پر شیئر کی جانے والی پوسٹس میں کہا جا رہا تھا کہ عید سے قبل مری میں دفعہ 144 نافذ کرتے ہوئے بیچلرز کے داخلے پر پابندی لگا دی گئی ہے اور صرف فیملیز کو ہی شہر میں جانے کی اجازت ہوگی۔ ان دعوؤں میں یہ تاثر دیا گیا کہ مبینہ پابندی پورے مری شہر پر لاگو ہے۔

حقیقت اس کے برعکس ہے۔ حکام کے مطابق مری میں غیر شادی شدہ مردوں کے داخلے پر کوئی مکمل پابندی عائد نہیں کی گئی۔ صرف مخصوص ہدایت کے تحت مال روڈ پر ایک تبدیلی کی گئی ہے، جہاں اکیلے آنے والے مردوں یا بیچلرز گروپس کو داخلے کی اجازت نہیں ہوگی، جبکہ فیملیز بدستور وہاں جا سکتی ہیں۔

ضلع مری کے ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (جنرل) کامران صغیر کے مطابق 31 مئی تک دفعہ 144 نافذ تھی، جس کا اطلاق صرف مال روڈ تک محدود تھا۔ ان کے مطابق مری شہر میں بیچلرز کے داخلے پر کوئی پابندی نہیں، البتہ مال روڈ پر صرف فیملیز کو جانے کی اجازت دی گئی ہے تاکہ سیاحتی نظم و ضبط بہتر بنایا جا سکے۔

انہوں نے مزید وضاحت کی کہ ’’مال روڈ کے اوپر اکیلے مردوں کو اجازت نہیں، صرف فیملیز جا سکتی ہیں، پورا مری بند نہیں ہے، بیچلرز کی انٹری پر مکمل پابندی نہیں ہے۔‘‘

ڈپٹی کمشنر مری کے سرکاری فیس بک اکاؤنٹ سے بھی 20 مئی کو جاری نوٹیفکیشن شیئر کیا گیا تھا، جس میں کہا گیا تھا کہ پولیس کی سفارش پر مال روڈ پر صرف فیملیز کو داخلے کی اجازت دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے تاکہ سیاحوں کو بہتر سہولت فراہم کی جا سکے۔

یہ دعویٰ کہ مری میں بیچلرز کے داخلے پر مکمل پابندی عائد ہے، غلط ثابت ہوا۔ حقیقت یہ ہے کہ پابندی صرف مال روڈ کے مخصوص حصے تک محدود ہے، جبکہ مری شہر بدستور تمام سیاحوں کے لیے کھلا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • سرمایہ کاری نہیں قرضے ترجیح کب تک
  • ناتمام (آخری قسط)
  • جو زہر ہم ہوا میں بو رہے ہیں
  • جنگ امن اور معیشت کی کہانی
  • ایران کے شہید سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی تدفین مشہد میں ہوگی، تیاریاں شروع
  • شہید آیت اللہ خامنہ ای کی تدفین کی تیاریاں، 3 روزہ تقریبات کا اعلان
  • ٹرمپ کی خام خیالی تھی وہ ہمیں مذاکرات میں لگاکر حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے، ایرانی سفیر
  • وفاقی بجٹ 5 جون کو پیش نہیں کیا جائیگا
  • وفاقی بجٹ5جون کو پیش نہیں کیا جائے گا
  • مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی؟ حقیقت سامنے آگئی