بیت اللہ پر پہلی نظر پڑی تو وجود اپنی گہرائیوں تک سرشار ہوگیا، زائرین لوٹ کر آتے تو بتاتے تھے کہ کعبے کو دیکھ کر ہیبت طاری ہو جاتی ہے، میرا تجربہ بالکل مختلف تھا۔
یوں لگا جیسے رحمتوں نے مجھے اپنی آغوش میں لے لیا ہو، رب تعالیٰ کا جلال تو تھا مگر اس کی رحمت بھی عرش سے کسی بارش کی صورت اتر رہی تھی۔ اس کا باقاعدہ احساس ہو رہا تھا، جیسے آپ برسات میں کھڑے ہوں اور آپ پر مینہ برس رہا ہو۔ ایسے ہی میں کعبے کے سامنے کھڑا اپنے وجود کو رحمتوں میں بھیگا محسوس کر سکتا تھا۔
میں ایک طرف ہٹ کر کھڑا ہوگیا، سوچ کر گیا تھا اللہ کے گھر پر پہلی نظر پڑتے ہی کیا مانگنا ہے۔ ہوا مگر یہ کہ بیت اللہ پر نظر پڑی تو سب کچھ بھول گیا۔ یہاں دعائیں بھی رحمت کے ساتھ ہی اتریں، جو اللہ دل میں ڈالتا گیا کہ یہ مانگ لو، وہ مانگتا چلا گیا، اسی نے بلایا تھا اور گویا وہی اپنے بندے کو مانگنا سکھا رہا تھا۔
رش بالکل نہیں تھا، سعودی حکومت کے انتظامات بھی شاندار تھے جو زبان حال سے بتا رہے تھے کہ یہ واقعی خادم الحرمین ہیں۔ بیت اللہ سے چند فٹ کے فاصلے پر طواف کیا، عمرہ ادا ہوتے ہی ہوٹل چلا آیا۔ نیند بھی تھی، اور تھکاوٹ بھی، بستر پر گرتے ہی سوگیا۔
اگلے روز جمعۃ المبارک تھا، مطاف میں داخل ہوا تو وہ بھرا ہوا تھا۔ تل دھرنے کی جگہ نہیں تھی۔ ہجوم سے بہت گھبرا جاتا ہوں۔ دم گھٹنے لگتا ہے۔ بہت سے کام اس لیے ادھورے چھوڑ آتا ہوں کہ رش بہت تھا۔ اتنے زیادہ لوگ دیکھے تو رک گیا۔ شیخ حبیب صاحب سے کہا کہ آپ ادھر طواف کریں میں یہ ہمت نہیں کر سکوں گا، پیچھے کہیں بیٹھ کر تلاوت کر لیتا ہوں۔
شیخ صاحب کہنے لگے: آجائیں، کچھ نہیں ہوگا، میں ایک پل کو رکا کہ آگے جاؤں یا پیچھے ہٹوں۔ پھر بے اختیاری میں مطاف میں داخل ہو گیا اورطواف کرتی خلق خدا کا حصہ بن گیا۔ اب میں دانستہ طور پر آخری لائنوں میں طواف کررہا تھا۔ پاکستان سے چلتے ہی معلوم تھا کہ بیت اللہ کے غلاف یا حجر اسود تک نہ پہنچ سکتا ہوں نہ ہی میں نے یہ کوشش کرنی ہے، اس لیے اب دور کی لائنوں میں طواف کر رہا تھا تاکہ ہجوم اور دھکم پیل سے محفوظ رہتے ہوئے فرض ادا کر سکوں۔
تیسرے چکر میں یاسر ندیم صاحب نے کہا کعبے کے نزدیک ہونے کی کوشش کرتے ہیں، میں نے ان سے کہا مجھ میں تو یہ ہمت نہیں آپ دونوں کوشش کرکے دیکھ لیں۔ وہ مجھ سے الگ ہوئے تو میں نے احتیاطاً مزید دائیں جانب باہر کی طرف نکل کر طواف کرنا شروع کر دیا تاکہ کسی بھی امکانی دھکم پیل سے محفوظ رہ سکوں۔
میں نے کچھ خاص دعائیں یاد نہیں کی تھیں، دوستوں نے توجہ دلائی تھی تو میں نے کہا رب سے جو مانگنا ہے، اپنی پنجابی زبان میں مانگوں گا، اب طواف کے دوران اپنے رب سے پنجابی زبان میں باتیں کر رہا تھا۔ فلسطین ان دعاؤں میں میرے ساتھ تھا، خدا کے جلال اور رحمت کے سائے میں خیال آیا کہ میرے دامن میں تو کچھ بھی نہیں پر اے اللہ میں نے فلسطین کے مظلوموں کے لیے تھوڑی تھوڑی آواز اٹھائی تھی، یہ مظلوم تیرا ہی کنبہ ہیں۔
پھر وہ ہوا جس کا میں نے کبھی تصور بھی نہیں کیا تھا، اچانک طواف کرتی صفیں بے ترتیب ہوئیں، شاید کچھ لوگ حجر اسود سے پیچھے ہٹ رہے تھے اور ان کی ہٹنے کی وجہ سے طواف کی لائنیں بے ترتیب ہو گئیں، جیسے کسی نے بہتے پانی کا رخ بدل دیا ہو۔ اب میرے اختیار میں کچھ نہ تھا کہ دائیں بائیں ہو سکوں، میں پھنس چکا تھا، بندے سے بندہ اور کندھے سے کندھا لگا تھا۔ اب بہاؤ کے ساتھ بہتے جانے کے سوا کوئی راستہ نہیں تھا۔
یہ ایک لمحے کی بات تھی، سب کچھ آناً فاناً ہوگیا، میں جو دور کی صف میں طواف کر رہا تھا، اس بہاؤ نے مجھے بیت اللہ کے دروازے کےعین سامنے لا کر کھڑا کر دیا۔ یہ ایسے ہی تھا جیسے مجھے کسی نے اٹھا کر در کعبہ پر لا کھڑا کردیا ہو۔ اب میں ہاتھ بڑھاتا تو بیت اللہ کے دروازے کو چھو سکتا تھا، میں مالک کائنات کے در کی چوکھٹ پر پہنچ چکا تھا۔
میں نے غلاف کعبہ کو ہاتھوں سے چھوا، اس لمس کا احساس متاع جاں ہے، پھر وہاں ہونٹ رکھے، بوسے دیے، گال لگائے، لپٹا، دعائیں کیں اور اتنی دیر تک کیں کہ بیت اللہ سے لپٹنے کی حسرت پوری ہو گئی۔
خدا واقعی اپنے گناہگار بندوں پر مہربان ہوتا ہے۔ اس کے کرم کی کوئی حد ہی نہیں۔
ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
آصف محمود انگریزی ادب اور قانون کے طالب علم ہیں۔ پیشے سے وکیل ہیں اور قانون پڑھاتے بھی ہیں۔ انٹر نیشنل لا، بین الاقوامی امور، سیاست اور سماج پر ان کی متعدد کتب شائع ہوچکی ہیں۔
wenews آصف محمود بیت اللہ سے حجر اسود حرمین شریفین عمرہ وی نیوز.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: بیت اللہ سے حرمین شریفین وی نیوز بیت اللہ سے اللہ کے رہا تھا طواف کر
پڑھیں:
تحریک انصاف5 اگست کو کیا کرنے جا رہی ہے؟
پاکستان تحریک انصاف (PTI) کے بانی اور سابق وزیراعظم عمران خان کی اڈیالہ جیل میں قید کے 3 سال مکمل ہونے پر پارٹی 5 اگست کو احتجاجی پروگرام پر غور کر رہی ہے تاہم پارٹی ذرائع کے مطابق اس حوالے سے مرکزی قیادت کے اندر ابھی تک مکمل اتفاق رائے نہیں ہو سکا جس کے باعث حتمی احتجاجی کال جاری نہیں کی گئی۔
پارٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان اڈیالہ جیل کے باہر بھرپور احتجاج کی حامی ہیں۔ ان کے مؤقف کے مطابق پارٹی کے ارکان قومی و صوبائی اسمبلی، سینیٹرز اور کارکنوں کو جیل کے باہر جمع ہونا چاہیے تاکہ عمران خان کی قید کے خلاف مؤثر پیغام دیا جا سکے۔
دوسری جانب ذرائع کے مطابق پارٹی کے بعض سینیئر رہنما، جن میں چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان بھی شامل ہیں، لاہور میں احتجاج یا کسی متبادل پروگرام کے حق میں دکھائی دیتے ہیں۔
بڑی احتجاجی کال پر تحفظات
پارٹی ذرائع کے مطابق متعدد ارکان قومی و صوبائی اسمبلی نے قیادت کو آگاہ کیا ہے کہ مہنگائی، مقدمات کے خدشات اور مسلسل احتجاجی سرگرمیوں کے باعث عوام پہلے جیسی تعداد میں سڑکوں پر آنے کے لیے تیار نہیں۔
ذرائع کے مطابق بعض رہنماؤں کی رائے ہے کہ ہر رکن اپنے اپنے حلقے میں علامتی یا ٹوکن احتجاج کرے اور عوام کو یہ پیغام دے کہ عمران خان کی قید کو 3 سال مکمل ہو گئے ہیں۔
پارٹی کے ایک حلقے کی جانب سے یہ تجویز بھی سامنے آئی ہے کہ 5 اگست کو کسی بڑے احتجاجی پروگرام سے گریز کیا جائے تاکہ کارکنوں اور رہنماؤں کو مزید گرفتاریوں اور مقدمات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
ذرائع کے مطابق ابھی تک یہ طے نہیں ہو سکا کہ احتجاج، ریلی، جلسہ یا کسی اور شکل میں ہوگا۔ علیمہ خان کی اڈیالہ جیل کے باہر احتجاج کی تجویز پر بھی پارٹی کے بیشتر رہنما متفق نہیں جبکہ متعدد رہنما محدود یا علامتی احتجاج کے حق میں ہیں۔
9 مئی کے بعد بڑا احتجاج منظم نہ ہو سکا
پارٹی ذرائع کے مطابق 9 مئی 2023 کے واقعات کے بعد پی ٹی آئی بڑے پیمانے پر کوئی کامیاب احتجاجی تحریک منظم نہیں کر سکی۔
26 نومبر کو خیبر پختونخوا کے سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور اور بشریٰ بی بی کی قیادت میں عمران خان کی رہائی کے لیے اسلام آباد کی جانب مارچ کیا گیا تاہم یہ احتجاج کسی واضح نتیجے کے بغیر ختم ہو گیا۔
مزیدپڑھیں:بیوٹی انفلوئنسر کاسمیٹک سرجری کے دوران چل بسی
اس احتجاج کے بعد پارٹی کے متعدد کارکنوں اور رہنماؤں کی گرفتاریاں ہوئیں جس کے بعد پارٹی کسی بڑے احتجاجی منصوبے کا اعلان نہیں کر سکی۔ اس دوران مختلف مواقع پر ریلیاں اور مظاہرے بھی کیے گئے تاہم حکومتی اقدامات اور دیگر عوامل کے باعث وہ مطلوبہ نتائج حاصل نہ کر سکے۔
عمران خان کی قید کو 3 سال مکمل
عمران خان 5 اگست 2023 سے اڈیالہ جیل میں قید ہیں۔ اس عرصے کے دوران ان کے خلاف متعدد مقدمات درج کیے گئے جنہیں پاکستان تحریک انصاف سیاسی انتقام قرار دیتی ہے۔
پارٹی کی جانب سے مختلف مواقع پر عمران خان کی صحت، خصوصاً آنکھوں کے مسائل، اہلخانہ اور وکلا سے ملاقاتوں میں مبینہ رکاوٹوں اور عدالتی احکامات پر عمل درآمد سے متعلق تحفظات کا اظہار بھی کیا جاتا رہا ہے۔
5 اگست کی روایت برقرار رہے گی؟
گزشتہ برسوں میں پاکستان تحریک انصاف 5 اگست کو مختلف شہروں میں احتجاج، ریلیوں اور پرامن مظاہروں کے ذریعے عمران خان کی رہائی کے مطالبات اٹھاتی رہی ہے۔
ذرائع کے مطابق اس سال بھی ضلعی سطح پر مشاورت اور تیاریاں جاری ہیں تاہم مرکزی قیادت کی جانب سے ملک گیر احتجاج یا کسی بڑے پروگرام کے بارے میں حتمی فیصلہ ابھی سامنے نہیں آیا۔