ملک بھر میں سردموسم اور بارشوں سے متعلق بڑی پیشگوئی
اشاعت کی تاریخ: 14th, October 2025 GMT
محکمہ موسمیات نے ملک بھر میں موسم کی تازہ ترین صورتحال اور آئندہ ہفتوں کے لیے اہم پیشگوئی جاری کر دی ہے۔ رپورٹ کے مطابق آنے والے دنوں میں ملک کے بیشتر علاقے خشک اور قدرے سرد موسم کی لپیٹ میں رہیں گے، جبکہ پہاڑی علاقوں میں رات اور صبح کے وقت سردی میں نمایاں اضافہ متوقع ہے۔ محکمہ موسمیات کا کہنا ہے کہ آئندہ اڑھائی ماہ، یعنی دسمبر کے اختتام تک ملک کے بیشتر حصوں میں معمول سے کم بارشوں کا امکان ہے۔ خطۂ پوٹھوہار، شمالی پنجاب، بالائی خیبر پختونخوا اور گلگت بلتستان میں بارشیں معمول سے کم رہیں گی جس سے خشک سردی کا زور بڑھے گا۔ دوسری جانب، جنوبی علاقے خصوصاً سندھ اور بلوچستان کے بعض حصوں میں معمول سے قدرے زیادہ بارشیں ہونے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔ ماہ نومبر اور دسمبر کے لیے پیشگوئی میں بتایا گیا ہے کہ ان دونوں مہینوں میں ملک کے زیادہ تر حصوں میں موسم خشک اور بارشوں کی شرح معمول سے کم رہے گی۔ تاہم بعض ساحلی اور جنوبی علاقوں میں ہلکی بارشوں کے وقفے وقفے سے امکانات موجود رہیں گے۔ محکمہ کے مطابق بالائی علاقوں سے مغربی خطوں تک درجہ حرارت میں واضح فرق دیکھا جائے گا۔ خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان، شمالی پنجاب، بلوچستان اور کشمیر میں درجہ حرارت معمول کے مطابق یا معمول سے قدرے زیادہ رہنے کی پیشگوئی ہے، جبکہ وسطی و جنوبی پنجاب اور سندھ میں درجہ حرارت معمول سے کم رہنے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔ ادارے نے یہ بھی کہا کہ دسمبر میں دن کے اوقات میں درجہ حرارت معمول سے کچھ زیادہ رہنے کی توقع ہے، جس کے باعث موسم کی شدت کم محسوس ہوگی، تاہم راتوں میں ٹھنڈ کی شدت میں اضافہ ہوگا۔ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ملک کے بیشتر علاقوں میں موسم خشک رہا، جبکہ شمالی پہاڑی علاقوں میں ہلکی سردی نے اپنی موجودگی کا احساس دلایا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: معمول سے کم علاقوں میں ملک کے
پڑھیں:
ماہرینِ صحت کی دوپہر کے کھانے میں غذائیت سے بھرپور سلاد کو معمول کا حصہ بنانے کی سفارش
کراچی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 24 جولائی2026ء) ماہرینِ صحت نے دوپہر کے کھانے میں غذائیت سے بھرپور سلاد کو معمول کا حصہ بنانے کی سفارش کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ عادت نہ صرف متوازن غذا کی جانب اہم قدم ہے بلکہ بھوک پر قابو پانے، توانائی برقرار رکھنے اور مجموعی صحت کو بہتر بنانے میں بھی مؤثر کردار ادا کر سکتی ہے۔ماہرین کے مطابق صحت مند طرزِ زندگی کا مقصد صرف تیزی سے وزن کم کرنا نہیں بلکہ ایسی پائیدار غذائی عادات اپنانا ہے جن پر طویل عرصے تک آسانی سے عمل کیا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ دوپہر کے کھانے میں متوازن سلاد شامل کرنے سے جسم کو فائبر، وٹامنز، منرلز اور دیگر ضروری غذائی اجزا بیک وقت حاصل ہوتے ہیں، جو بہتر صحت کے لیے نہایت اہم ہیں۔انہوں نے بتایا کہ ایک مکمل اور متوازن سلاد صرف سبز پتوں تک محدود نہیں ہونا چاہیے بلکہ اس میں ثابت مونگ دال، چنے، کھیرا، ٹماٹر، پیاز، گاجر، شملہ مرچ، کینوا، ایووکاڈو، مالٹے کے قتلے، انار کے دانے اور کچے آم جیسے غذائیت سے بھرپور اجزا بھی شامل کیے جا سکتے ہیں۔(جاری ہے)
ذائقے کے لیے نمک، کالی مرچ، لیموں کا رس یا سرکہ استعمال کیا جا سکتا ہے، جبکہ پروٹین کی ضرورت پوری کرنے کے لیے گرل کیا ہوا پنیر، سویا یا دیگر صحت بخش پروٹین ذرائع شامل کرنے کی بھی تجویز دی گئی ہے۔ماہرین نے کہا کہ اگر ایک ہی قسم کا سلاد روزانہ کھایا جائے تو وقت کے ساتھ اکتاہٹ پیدا ہو سکتی ہے، اس لیے مختلف سبزیوں، پھلوں اور دیگر اجزا میں تبدیلی کرتے رہنا چاہیے تاکہ ذائقے کے ساتھ غذائی تنوع بھی برقرار رہے۔طبی ماہرین کے مطابق دوپہر کے کھانے میں سلاد شامل کرنے سے زیادہ دیر تک پیٹ بھرنے کا احساس رہتا ہے، غیر ضروری اسنیکس اور بار بار کھانے کی خواہش میں کمی آتی ہے، جبکہ دوپہر کے کھانے کے بعد محسوس ہونے والی سستی بھی کم ہو سکتی ہے۔ اس کے نتیجے میں روزمرہ سرگرمیوں کے لیے جسمانی توانائی اور چستی برقرار رکھنے میں مدد ملتی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ اگرچہ وزن میں کمی کا عمل ہر فرد میں مختلف ہو سکتا ہے، تاہم متوازن غذا کو مستقل معمول بنانے سے جسمانی ساخت میں مثبت تبدیلیاں آ سکتی ہیں، کپڑوں کی فٹنگ بہتر محسوس ہو سکتی ہے اور مجموعی صحت میں بتدریج بہتری آتی ہے۔ماہرین نے کہا کہ صحت بخش غذائی عادات نہ صرف جسمانی بلکہ ذہنی صحت پر بھی مثبت اثرات مرتب کرتی ہیں اور انسان کے اعتماد میں اضافہ کرتی ہیں۔ ان کے مطابق صحت مند طرزِ زندگی کا مطلب پسندیدہ کھانوں سے مکمل پرہیز نہیں بلکہ اعتدال، توازن اور مستقل مزاجی کے ساتھ غذائیت سے بھرپور خوراک کو روزمرہ معمول کا حصہ بنانا ہے۔