---فائل فوٹو 

پاکستان تحریکِ انصاف کے رہنما اسد قیصر نے کہا ہے کہ وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخوا کا چناؤ قانونی طریقے سے ہوا، اپوزیشن جو کرنا چاہتی ہے کرے۔

پشاور میں میڈیا سے گفتگو کے دوران اسد قیصر نے کہا کہ اپوزیشن اپنے آپ کو ویسے ہی شرمندہ کرنا چاہتی ہے، ان کی غلط فہمی ہے کہ ہمارے ووٹ پر ڈاکا ڈالیں گے، کل 90 ووٹ پڑے، ان میں سے کوئی بھی بانی پی ٹی آئی کے فیصلے کے خلاف نہیں جا سکتا، ہم ہر حد تک جائیں گے، ہم نے ووٹ کی حفاظت کی اب اپنی حکومت کی حفاظت کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ اپوزیشن کے پاس ہم گئے کہ صوبے کے مسائل حل کرنے ہیں، صوبے میں امن و امان کے مسائل ہیں، اپوزیشن کو کہتے ہیں کہ آئیں مل کر صوبے کے مسائل کو حل کریں۔

اسد قیصر کا کہنا ہے کہ چیف جسٹس صاحب نے کیس سنا، ہم مطمئن ہیں، سب نے دیکھا آئین اور قانون کی بالادستی کی گئی، ہم جوڈیشری کو کہنا چاہتے ہیں کہ ہم آپ کے ساتھ ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ابھی گورنر نے کہا کہ میں کل آسکتا ہوں، توقع رکھتے ہیں کہ جو بھی ہو آئین اور قانون کے مطابق ہو۔

نومنتخب وزیراعلیٰ کے پی پرچی نہیں بلکہ فرشی وزیراعلیٰ ہیں: عظمیٰ بخاری

پنجاب کی وزیرِ اطلاعات، عظمیٰ بخاری نے کہا ہے کہ خیبر پختون خوا کے نومنتخب وزیرِ اعلیٰ نے اسمبلی کے ایوان میں بڑی بڑھکیں لگائی ہیں، وزیرِ اعلیٰ کے پی کہتے ہیں وہ پرچی کے ذریعے وزیرِ اعلیٰ نہیں بنے، وزیراعلیٰ کے پی پرچی نہیں بلکہ فرشی وزیرِ اعلیٰ ہیں۔

اس سے قبل اسد قیصر کی  پشاور ہائی کورٹ میں مقدمات کی تفصیلات کے لیے دائر درخواست پر سماعت ہوئی۔

اسد قیصر عدالت میں پیش ہوئے، عدالت نے ان کی حفاظتی ضمانت میں 5 نومبر تک توسیع کر دی۔

پشاور ہائی کورٹ نے وفاقی حکومت سے رپورٹ طلب کرتے حکم دیا کہ فریقین مکمل رپورٹ جمع کروائیں اور ایف آئی آرز کی تفصیلات فراہم کریں۔

بعد ازاں عدالت نے درخواست کی سماعت 5 نومبر تک ملتوی کر دی۔

.

ذریعہ: Jang News

کلیدی لفظ: نے کہا کہ

پڑھیں:

کراچی 6 دسمبر کو 35ویں نیشنل گیمز کی میزبانی کے لیے تیار، صدر مملکت افتتاح کریں گے

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

کراچی ( رپورٹ : مقصود احمد خان ) وزیر اعلیٰ سندھ   مراد علی شاہ کی زیر صدارت وزیر اعلیٰ ہاؤس میں منعقد اعلیٰ سطح اجلاس میں 35ویں نیشنل گیمز کے انتظامات کو حتمی شکل دے دی گئی۔ یہ میگا اسپورٹس ایونٹ 6 دسمبر کو نیشنل اسٹیڈیم میں شاندار افتتاحی تقریب کے ساتھ شروع ہوگا، جس کا افتتاح صدرِ پاکستان آصف علی زرداری انجام دیں گے۔

اجلاس میں وفاقی و صوبائی حکام نے بھرپور شرکت کی جن میں وزیر داخلہ ضیاءاللہ حسن لنجار، وزیر زراعت محمد بخش مہر، میئر کراچی مرتضیٰ وہاب، چیف سیکریٹری آصف حیدر شاہ، آئی جی سندھ غلام نبی میمن، کمشنر کراچی حسن نقوی اور سیکریٹری کھیل خیر محمد کلوڑ سمیت متعدد اعلیٰ افسران شامل تھے،  اجلاس کے دوران کھیلوں کی افتتاحی اور اختتامی تقریبات، کھلاڑیوں کی رہائش، سیکیورٹی، مقامات کی اپ گریڈیشن اور لوجسٹکس سے متعلق منصوبوں کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔

افتتاحی تقریب کے لیے وزیر اعلیٰ کو پیش کیے گئے منٹ بہ منٹ شیڈول میں ٹیموں کی پریڈ، کھلاڑیوں کی حلف برداری، مشعل روشن کرنے کی تقریب، تھیم سانگ کی پرفارمنس، ثقافتی شوز، ڈرون ڈسپلے، آتشبازی، لیزر شوز اور پیراگلائیڈنگ پرفارمنس شامل ہیں۔ وزیر اعلیٰ نے تمام نکات کی منظوری دیتے ہوئے ہدایت کی کہ مراسم کو عالمی معیار کا بنانے کے لیے تمام ادارے مربوط انداز میں کام کریں۔

اجلاس میں اختتامی تقریب کے منصوبے کو بھی حتمی شکل دی گئی جس کی صدارت وزیر اعظم شہباز شریف کریں گے۔ اس موقع پر قائداعظم ٹرافی، بہترین کارکردگی اور فیئر پلے ٹرافی سمیت مختلف ایوارڈز تقسیم کیے جائیں گے جبکہ تقریب کا اختتام بھی رنگا رنگ ثقافتی و موسیقی پروگرام اور شاندار آتشبازی کے ساتھ ہوگا۔

کراچی میں مجموعی طور پر 24 مقامات نیشنل گیمز کے لیے منتخب کیے گئے ہیں جن کی تزئین و مرمت محکمہ کھیل و یوتھ افیئرز کمشنر کراچی کے تعاون سے انجام دے رہا ہے،  کمشنر آفس نے تمام وینیوز کے اطراف تجاوزات ختم کرنے اور ٹریفک و آپریشنل لاجسٹکس کو ہموار بنانے کے لیے خصوصی اقدامات کیے ہیں۔

وزیر اعلیٰ سندھ نے افتتاحی و اختتامی تقریبات کی نگرانی کے لیے ایک وزارتی کمیٹی قائم کر دی ہے جس میں میئر کراچی سمیت محکمہ تعلیم، ثقافت، ٹرانسپورٹ اور اطلاعات کے نمائندے شامل ہوں گے،  محکمہ تعلیم نے طالب علموں کی بڑی تعداد میں شرکت کی یقین دہانی کرائی جبکہ محکمہ اطلاعات پرنٹ، الیکٹرانک اور ڈیجیٹل میڈیا پر تشہیری مہم چلائے گا۔

مراد علی شاہ نے محکمہ ثقافت کو ہدایت کی کہ ہوائی اڈوں اور ریلوے اسٹیشنز پر آنے والی ٹیموں کے لیے روایتی انداز میں استقبال کا انتظام کیا جائے،  انہوں نے محکمہ ٹرانسپورٹ کو کھلاڑیوں اور آفیشلز کے لیے خصوصی ٹرانزٹ سہولیات فراہم کرنے کی ہدایت بھی دی۔ مزید برآں، وی آئی پی، وی وی آئی پی، طلبہ اور شائقین کے لیے علیحدہ نشستوں کا جامع پلان تیار کرنے کا حکم دیا گیا۔

عوامی شمولیت بڑھانے کے لیے شہر میں ایونٹ ایکٹیویشن مہم بھی چلائی جائے گی جبکہ فین انٹریکشن زونز، فوڈ اسٹیلز اور تربیت یافتہ رضاکار ایونٹ کے دوران مہمانوں کی رہنمائی کریں گے۔

اجلاس کے اختتام پر وزیر اعلیٰ سندھ نے کہا کہ نیشنل گیمز نہ صرف کھلاڑیوں کی صلاحیتوں کو اجاگر کرنے کا ذریعہ ہیں بلکہ قومی یکجہتی، نوجوانوں کی شمولیت اور کراچی کی اسپورٹس میزبانی کی صلاحیت کو عالمی سطح پر نمایاں کرتے ہیں۔

ویب ڈیسک وہاج فاروقی

متعلقہ مضامین

  • پی ٹی آئی سیاسی نوعیت کی ملاقات کرنا چاہتی ہے، وزیر مملکت
  • گورنر کی تبدیلی میں سندھ کے وزیر اعلیٰ کا کردار نہیں، ہم سے نہیں پوچھا جاتا، مراد علی شاہ
  • پی ٹی آئی قیادت جیل میں سیاسی نوعیت کی ملاقاتیں کرنا چاہتی ہے، عقیل ملک
  • کراچی 6 دسمبر کو 35ویں نیشنل گیمز کی میزبانی کے لیے تیار، صدر مملکت افتتاح کریں گے
  • تنخواہ کو مہینے کے آخر تک لے جانے کے 20 مؤثر طریقے
  • راولپنڈی میں دھرنا ختم، وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی آج پھر ہائیکورٹ سے رجوع کریں گے
  • وزیر اعلیٰ کے پی کا راولپنڈی پر جاری دھرنا ختم کرنے کا فیصلہ
  • عمران خان سےکیوں نہیں ملنے دیا جارہا؟ محمود اچکزئی کی تمام افراد سے آئین کیلئےکھڑے ہونےکی اپیل
  • وزیرِ اعلیٰ کے پی سہیل آفریدی نے اڈیالہ روڈ پر دھرنا دیدیا
  • وکلا کو آئینی عدالت پسند نہیں آ رہی، وکلا کا کام دلائل دینا ہے: وزیر اعلیٰ سندھ