اپوزیشن جماعتوں کا نئے وزیراعلیٰ خیبرپختونخواہ کے انتخابی عمل کے بائیکاٹ کا فیصلہ
اشاعت کی تاریخ: 13th, October 2025 GMT
پشاور ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 13 اکتوبر2025ء ) اپوزیشن جماعتوں نے نئے وزیراعلیٰ خیبرپختونخواہ کے انتخابی عمل کے بائیکاٹ کا فیصلہ کرلیا۔ تفصیلات کے مطابق حزب اختلاف کی جانب سے فیصلہ اپوزیشن لیڈر ڈاکٹر عباد اللہ کی زیر صدارت اپوزیشن جماعتوں کے اجلاس میں کیا گیا، اپوزیشن لیڈر کا کہنا ہے کہ استعفیٰ ابھی تک قبول نہیں ہوا ، یہ کیسے ہوسکتا ہے ایک وزیر اعلیٰ کے ہوتے ہوئے دوسرے وزیر اعلیٰ کا انتخاب کیا جائے؟ حکومت کے پاس اکثریت ہے تھوڑا صبر کرلیں۔
دوسری طرف وزیراعلیٰ خیبرپختونخواہ کے انتخاب کے لیے کاغذات نامزدگی کی جانچ پڑتال کا عمل مکمل ہونے کے بعد امیدواروں کی حتمی فہرست جاری کردی گئی، خیبرپختونخواہ کی وزارتِ اعلیٰ کے لیے مجموعی طور پر 4 امیدوار میدان میں ہیں، جن میں حکمراں جماعت پی ٹی آئی کے سہیل آفریدی، اپوزیشن پارٹیوں کی طرف سے جمعیت علمائے اسلام ف کے مولانا لطف الرحمان، پاکستان پیپلز پارٹی کے ارباب زرک، اور مسلم لیگ ن کے سردار شاہجہان شامل ہیں۔(جاری ہے)
بتایا گیا ہے کہ خیبر پختونخواہ کے نئے وزیراعلیٰ کے انتخاب کے لیے کاغذات نامزدگی جمع کروانے کا وقت ختم ہونے سے پہلے وزارت اعلیٰ کے الیکشن کے لیے تحریک انصاف، مسلم لیگ ن، پیپلزپارٹی اور جے یو آئی ف کے امیدواروں نے کاغذات نامزدگی جمع کروائے، تمام امیدواروں کے کاغذات نامزدگی سیکرٹری خیبرپختونخواہ اسمبلی کے پاس جمع کرائے گئے تاہم عوامی نیشنل پارٹی کے کسی امیدوار نے کاغذات نامزدگی جمع نہیں کروائے۔ اس حوالے سے ترجمان اے این پی انجینئراحسان اللہ نے کہا کہ عوامی نیشنل پارٹی اسمبلی اجلاس میں نئے وزیراعلیٰ کے انتخاب میں حصہ نہیں لے گی، وزارت اعلیٰ کے الیکشن میں عوامی نیشنل پارٹی نے فیصلہ کیا ہے کہ وہ کسی بھی ہارس ٹریڈنگ کا حصہ نہیں بنے گی تاہم اے این پی عمران خان کی طرف سے حکمراں جماعت پی ٹی آئی کے نامزد کردہ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کے حق میں بھی نہیں۔.
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے کاغذات نامزدگی نئے وزیراعلی کے انتخاب کے لیے
پڑھیں:
سرداریار محمد رند کی سفری پابندی کیخلاف درخواست پر فیصلہ محفوظ
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)اسلام آباد ہائیکورٹ نےسرداریار محمد رند کی سفری پابندی کیخلاف درخواست پر فیصلہ محفوظ کرلیا۔
نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق جسٹس انعام امین منہاس نے کہاکہ پولیس اور ایف آئی اے کو درخواست مطلوب نہیں، عدالت نے کہاکہ جن کو چاہئے تھا ان کو بھی اب نہیں چاہئے پھر اب تک نام کیو ں نہیں نکالا۔
ایف آئی اے نے کہاکہ یار محمد رند کا نام ای سی ایل نہیں ،صرف پی این آئی ایل میں ہے،سابق وفاقی وزیر کا نام پی این آئی ایل میں 28مارچ کو ڈالا گیا، پی این آئی ایل میں نام ایک ماہ رکھاجاتا، پھرتوسیع لینا ہوتی ہے۔
ایف بی آر کا انکم ٹیکس ریٹرنز جمع کرانے سے متعلق اہم اعلان
عدالت نے کہاکہ زیادہ سے زیادہ 60روز رکھ سکتےہیں، اب تو جولائی ہے، کتنے ماہ ہو گئے؟کس قانون کے تحت نام اب تک برقرار رکھا گیا؟ایسے کتنے ہی کیسز ہمارے پاس آ رہے ہیں ، ہم کتنی بار لکھ بھی چکے ہیں۔
مزید :