Jasarat News:
2026-07-24@04:21:29 GMT

سہ روزہ بستی

اشاعت کی تاریخ: 25th, November 2025 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

ہم پہنچے تو مینارِ پاکستان سبز روشنی میں نہایا ہوا تھا۔ کچھ دیر بعد اس نے دودھیا سفید رنگ کی چادر اوڑھ لی۔ یہ پرچم کے رنگ ہیں۔ وہی پرچم جس کے سائے تلے ہم ایک ہیں‘ ہم ایک ہیں۔ نہایت بلند اسٹیج پر لفٹ اور سیڑھیوں کا انتظام تھا اور اسٹیج بھی روشنیوں میں جگمگ کرتا تھا۔ پنڈال تاحد نظر تک پھیلا ہوا تھا‘ اور گریٹر اقبال پارک میں رات گئے بھی بہت چہل پہل تھی۔ جہاں ہزاروں لوگ جمع ہو جائیں‘ وہاں میلے کا سماں ہو جاتا ہے اور میلے کے اطراف اور اس کے اندر کھانے پینے کے اسٹال اور خوانچے تو لگ ہی جاتے ہیں۔ یہ تین دن کی بستی بسائی گئی تھی اور بستی بسنا کھیل نہیں ہے۔

21 نومبر کو اسٹیج پر بیٹھا میں پنڈال میں ان لوگوں کو دیکھتا تھا جو کراچی سے گلگت تک کے مختلف علاقوں سے دور دراز کا سفر کرکے اس سہ روزہ بستی میں پہنچے تھے۔ اکثر وہ تھے جنہیں اسٹیج پر نہیں‘ پنڈال میں بیٹھنا تھا۔ اَن گنت مرد اور خواتین اپنے الگ الگ مخصوص پنڈالوں میں بیٹھے تھے اور صبح سے تقاریر اور بیانات سن رہے تھے۔ لیکن ان پر تھکاوٹ کے آثار نہیں تھے۔ نومبر کے آخری دنوں کی میں لاہور کی راتیں اچھی خاصی سرد ہوا کرتی ہیں‘ اور لاکھوں لوگوں کا انتظام بہت مشکل ہے لیکن یہ سب انتظام موجود تھا۔ پنڈال میں طے شدہ جماعتیں تمام تر انتظام کر رہی تھیں اور اسٹیج پر کارکنوں اور منتظمین کی الگ ایک جماعت موجود تھی۔ یہ بنیادی طور پر سیاسی اجتماع نہیں تھا۔ یہ سالانہ اجتماع تھا جو دعوتی رخ رکھتا تھا اور اس کی اجازت بھی حکومت سے اسی شرط کے ساتھ ملی تھی۔ اس کا عنوان ’’بدل دو نظام‘‘ جماعت کے سیاسی رخ کی غمازی کرتے ہوئے بھی غیر سیاسی تھا۔ یہ نظام معاشرتی بھی ہے‘ سیاسی بھی‘ انتظامی بھی۔ نظام بدلنے کا یہ نعرہ اور یہ عزم نیا تو نہیں لیکن بہت اہم ہے۔ جس گلے سڑے فرسودہ نظام کو ہم سب روز بھگتتے اور روز اس کے نئے سے نئے عذاب سے گزرتے ہیں‘ اسے بدلنے کا نعرہ پرانا ہو بھی کیسے سکتا ہے۔

جماعت اسلامی کے حامی تو ایک طرف‘ کچھ باتوں سے جماعت اسلامی کے مخالفین بھی انکار نہیں کر سکتے۔ اس کا جماعتی نظم وضبط‘ اس کی برصغیر میں سیاسی اہمیت‘ اس کی اپنے حامیوں کو جمع کرنے کی طاقت۔ ضروری سمجھا جائے تو سڑکوں پر بڑی تعداد میں نکلنے کی قوت اور آزمائش کے وقت مار کھانے اور قربانیاں دینے کی صلاحیت۔ میں ان صلاحیتوں میں جماعت کی فلاحی‘ ادبی اور قلمی تاریخ کو بھی شامل کرتا ہوں۔ یہ سب بار بار آزمودہ‘ مسلمہ طاقتیں ہیں۔ مخالفین جماعت اسلامی پر کتنے ہی جملے اچھالیں‘ اس کے نظریاتی مخالف جتنا بھی تمسخر اڑانے کی کوشش کریں‘ اس میں کیا شک ہے کہ سیاسی جماعتوں میں‘ جو کرپشن کے کیچڑ سے لت پت ہیں‘ یہ وہ بڑی سیاسی جماعت ہے جس کے دامن پر بدعنوانی کا داغ نہیں ہے۔ مجھے حیرت ہوتی ہے کہ نظریاتی مخالف کس ڈھٹائی سے جماعت پر فقرے کستے ہیں۔ خیر یہ اپنا اپنا موقف ہے۔ آپ نظریات اور راہِ عمل سے متفق ہوں یا اختلاف رکھتے ہوں لیکن جب بے بنیاد الزامات اور جملے بازی کے ذریعے مخالف کو زیر کرنے کی کوشش کرتے ہیں تو خود آپ کا قد چھوٹا ہو جاتا ہے۔ وہ لوگ جو ہر بار پس پردہ طاقتوں اور طے شدہ بندوبست کے ذریعے کسی طرح کرسی پر آ بیٹھتے ہیں جماعت اسلامی اور دیگر مذہبی جماعتوں کے بارے میں کہتے ہیں کہ پاکستان کی سیاسی تاریخ ہے کہ عوام انہیں ووٹ نہیں دیتے اور انہیں اقتدار کے قابل نہیں سمجھتے‘ تو واقفانِ حال ان کی باتوں پر مسکراتے ہیں۔ یہ الگ موضوع ہے کہ مذہبی جماعتیں‘ جن میں جماعت اسلامی موثر ترین جماعتوں میں ہے‘ کیونکر انتخابی نظام میں کامیاب نہیں ہو پاتیں۔ یہ زمانہ سیاسی شعور کا ہے اور لوگ جانتے ہیں کہ کون کتنا شفاف اور پاک ہے‘ کون کس طرح کرسی پر بیٹھا ہے اور اسے کن طاقتوں کی مدد ملتی ہے۔ یہ وہ نظام ہے جس سے یہ ملک بار بار گزرتا ہے اور یہ آواز ہر دل کی ہے کہ بدل دو نظام۔ جب تک یہ نظام نہیں بدلے گا‘ یہ عذاب بھی نہیں بدل سکتے۔ پھر جماعت کے فلاحی بازوئوں نے وہ بے مثال کار کردگی دکھائی ہے جس کے اعتراف کے لیے بہت کچھ لکھا جانا چاہیے۔ ایک اور بات جس کی طرف توجہ کم کم کی گئی ہے‘ جماعت اسلامی کے رہنمائوں اور عام کارکنوں کا ادبی رخ ہے۔ میرے خیال میں یہ موضوع کئی تحقیقی مقالوں کا محتاج ہے۔ بانی جماعت اسلامی سید ابوالاعلیٰ مودودی کی رواں اور خوبصورت نثر اپنی مثال آپ ہے جو دل میں اترتی ہے۔ یہ دلّی کی وہ ٹکسالی نثر ہے جسے مثال کے طور پر پیش کیا جا سکتا ہے اور جس کی تحسیب بڑے بڑے ادیبوں نے کی ہے۔ یہ بات بھی کم لوگوں کے علم میں ہے کہ مودودی صاحب عمدہ شاعر تھے اور ابتدا میں ’’طالب‘‘ تخلص کرتے تھے۔ ان کے دو شعر سن لیجیے:

فطرت کی کانِ سنگ کا حاصل نہیں ہوں میں
پگھلوں نہ غم سے کیوں کہ ترا دل نہیں ہوں میں
ساقی کے تغافل سے مایوس نہ ہو رندو
خود طالبِ گردش ہے اب فطرتِ پیمانہ

مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی کو میں نے اپنے سمن آباد موڑ والے گھر میں کئی بار دیکھا۔ یہ میرے بچپن کی بات ہے۔ ان کے لباس اور شخصیت کی نفاست کا تاثر اب تک حافظے میں ہے۔ اْس زمانے میں 1970ء کے انتخابات کا غلغلہ تھا۔ ہمارے گھر کے مستقل مہمان مولانا ظفر احمد انصاری کا جماعت کے عمائدین سے قریبی رابطہ تھا۔ میرے والد گرامی جناب محمد زکی کیفی بھی دینی جماعتوں کے اتحاد کے داعی تھے۔ ہمارا گھر ان مشوروں اور مجلسوں کا مرکز تھا اور ان سب عمائدین کو قریب سے دیکھنے کا موقع ملتا رہتا تھا۔ ہمارے گھر جو رسالے آتے تھے ان میں ’’سیارہ‘‘ بھی شامل تھا جو جماعت سے وابستہ معروف شاعر اور ادیب جناب نعیم صدیقی کی زیر ادارت شائع ہوتا تھا۔ نعیم صدیقی صاحب سے جناب زکی کیفی کے دوستانہ مراسم تھے اور سیارہ سے بہت کچھ سیکھنے کو ملتا تھا۔ وہ اعلیٰ پائے کے شاعر تھے اور ان کی

نعت ’’میں ایک نعت لکھوں‘ سوچتا ہوں کیسے لکھوں‘‘ اب تک میرے حافظے میں ہے۔ جیسا کہ بدقسمتی سے ہمیشہ ہوتا رہا ہے‘ نظریاتی مخالفوں نے اسلامی پس منظر رکھنے والے شاعروں ادیبو ں کو ان کی مقدار اور معیار کے باوجود کبھی تسلیم نہیں کیا۔ مولانا مودودی‘ نعیم صدیقی اور نسیم حجازی کو بھی ان کا ادبی مقام اور مرتبہ نہیں دیا گیا۔ حالانکہ ان میں بہت سے نام بڑے بڑے مخالف ناموں سے کہیں بلند تھے۔ جماعت سے وابستہ مولانا ماہر القادری بھی ہمارے گھر کے مستقل مہمان ہوا کرتے تھے اور جب بھی لاہور آتے جماعت اور جمعیت کے نوجوان ان سے ملنے یا کسی تقریب میں لے جانے کے لیے ہمارے گھر تشریف لایا کرتے تھے۔ ان سب کا ادبی ذوق اور خوش مزاجی متاثر کن تھی اور یہ سلسلہ نسل در نسل اب تک چلا آتا ہے۔

میں پچھلے دنوں غزالی پبلک اسکول پھالیہ کے برادرم ضیغم مغیرہ کی دعوت پر اس اجتماع میں شریک ہوا جو ملک بھر کے ہم مزاج اہلِ قلم کو یکجا کرنے اور انہیں اپنے قلم کی طاقت کا بہترین استعمال کرنے کے لیے منعقد کیا گیا تھا۔ یہاں بھی ملک بھر کے اہم قلم موجود تھے اور ان سے ملنا خود ایک خوشگوار موقع تھا۔ نوواردان ادب کی تربیت کے لیے بیانات بھی بہت عمدہ تھے‘ اور ان میں سیکھنے کو بہت کچھ تھا۔ اصلاحی تحریکوں کا یہ ادبی رخ بیشتر دینی جماعتوں میں مفقود ہے۔ حالانکہ اہلِ قلم کو ساتھ لے کر چلنا فی زمانہ نہایت اہم ہے۔

اْس دن مینار پاکستان کی سبز وسفید روشنیوں کے سائے میں بیٹھا وقاص جعفری‘ سید عامر محمود جعفری‘ شعیب ہاشمی‘ ضیغم مغیرہ اور دیگر خوش ذوق دوستوں کی مہمان نوازی کا لطف اٹھاتے میں سوچ رہا تھا کہ مینار پاکستان کے سائے تلے اس سہ روزہ بستی میں ایک کل پاکستان مشاعرے کا انعقاد کرکے عمائدین جماعت نے اپنے اس تاریخی ورثے کا احیا کیا ہے جو ناقابلِ تردید بھی ہے اور ناقابلِ فراموش بھی۔ نظام بدلنے کی اہمیت اپنی جگہ ہے اور اپنے تاریخی ورثے کو سینے سے لگائے رکھنے کی اہمیت اپنی جگہ۔ سہ روزہ بستی کو دونوں مبارک! (بشکریہ: روز نامہ دنیا)

سعود عثمانی سیف اللہ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: سہ روزہ بستی ہمارے گھر اسٹیج پر تھے اور اور ان کے لیے میں ہے ہے اور اور اس

پڑھیں:

یو اے ای ویزا آن ارائیول کی نئی شرائط اور فیس جاری

دبئی: یو اے ای ویزا آن ارائیول سے متعلق متحدہ عرب امارات نے نئی شرائط، فیس اور درخواست کے طریقہ کار کی تفصیلات جاری کر دی ہیں۔ نئی ہدایات کے تحت مخصوص ممالک کے اہل شہری امارات پہنچنے پر 14 یا 60 روزہ ویزا حاصل کر سکیں گے، تاہم اس کے لیے مقررہ شرائط پر پورا اترنا لازمی ہوگا۔

دبئی کی جنرل ڈائریکٹوریٹ آف آئیڈینٹیٹی اینڈ فارنرز افیئرز (GDRFA) کے مطابق بھارت، انڈونیشیا، ویتنام، تھائی لینڈ، فلپائن، کینیا اور جنوبی افریقہ کے شہری، اور ان کے ہمراہ سفر کرنے والے اہل خانہ، اس سہولت سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔

حکام کے مطابق درخواست گزار کے پاس کم از کم چھ ماہ کے لیے کارآمد پاسپورٹ، سفید پس منظر والی حالیہ رنگین تصویر اور امریکا، برطانیہ، یورپی یونین، کینیڈا، آسٹریلیا، نیوزی لینڈ، جاپان، جنوبی کوریا یا سنگاپور کی جانب سے جاری کردہ قابل قبول رہائشی پرمٹ یا ویزا ہونا ضروری ہے۔

اعلامیے کے مطابق 14 روزہ ویزا آن ارائیول کو صرف ایک مرتبہ مزید 14 دن کے لیے توسیع دی جا سکتی ہے، جبکہ 60 روزہ ویزا میں توسیع کی سہولت دستیاب نہیں ہوگی۔

جی ڈی آر ایف اے نے بتایا کہ ویزا کے لیے درخواست اس کی سرکاری ویب سائٹ یا اسمارٹ ایپ کے ذریعے جمع کرائی جا سکتی ہے۔ درخواست کی منظوری کے بعد ویزا رجسٹرڈ ای میل پر ارسال کیا جائے گا، جبکہ عام طور پر درخواستوں پر 48 گھنٹوں کے اندر کارروائی مکمل کر لی جاتی ہے۔

فیس کے حوالے سے جاری تفصیلات کے مطابق 14 روزہ ویزا آن ارائیول کی فیس 172.50 درہم جبکہ 60 روزہ ویزا کی فیس 422.50 درہم مقرر کی گئی ہے۔

جی ڈی آر ایف اے کا کہنا ہے کہ اس سہولت کا مقصد بین الاقوامی مسافروں کے لیے سفری عمل کو مزید آسان بنانا، سیاحت کو فروغ دینا اور زیادہ سے زیادہ سیاحوں کو متحدہ عرب امارات کی جانب راغب کرنا ہے۔

ادارے کے اعداد و شمار کے مطابق سال 2026 کے پہلے چھ ماہ کے دوران اس پروگرام کے تحت 73 ہزار 551 ویزے جاری کیے جا چکے ہیں، جو اس سہولت کی بڑھتی ہوئی مقبولیت کی نشاندہی کرتے ہیں۔

اہم وضاحت: جاری کردہ شرائط میں پاکستانی پاسپورٹ ہولڈرز شامل نہیں ہیں۔ یہ سہولت صرف ان مخصوص ممالک کے شہریوں کے لیے ہے جن کا جی ڈی آر ایف اے نے اعلان کیا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • پیٹرول کی قیمتیں روزانہ بدلنے کا نظام، عوام خوش یا پریشان؟
  • ڈیرہ اسماعیل خان، بیس روزہ دین شناسی شارٹ کورس
  • فیفا ورلڈ کپ دیکھنے کیلیے کینیڈا جانیوالے 175 غیر ملکیوں نے سیاسی پناہ مانگ لی
  • نذیر احمد جنجوعہ قائم مقام سیکرٹری جنرل جماعت اسلامی پاکستان مقرر
  • بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
  • یو اے ای ویزا آن ارائیول کی نئی شرائط اور فیس جاری
  • سلمان خان بیان، بھارتی طلباء کے احتجاج پر دبنگ خان کی کھل کر حمایت
  • جماعت اسلامی کے سیکریٹری جنرل امیرالعظیم انتقال کرگئے
  • جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے رکنِ پارلیمنٹ  کی نوجوان خاتون کے ساتھ نازیبا ویڈیو سامنے آگئی
  • ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی