مودی حکومت وقف بورڈ کی جائیدادوں پر قبضہ کرنا چاہتی ہے، اسد الدین اویسی
اشاعت کی تاریخ: 12th, October 2025 GMT
رکن پارلیمنٹ نے کہا کہ نریندر مودی مسلمانوں کی شناخت چھیننا چاہتے ہیں، انہوں نے بنگال سے مسلمانوں کو اغوا کر کے بنگلہ دیش میں پھینک دیا۔ اسلام ٹائمز۔ آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین (اے آئی ایم آئی ایم) نے وقف ترمیمی بل کو واپس لینے کا مطالبہ کرتے ہوئے جنتر منتر پر احتجاج کیا۔ پولیس نے 3 سے 5 بجے تک ہونے والے احتجاج میں صرف 100 لوگوں کو شرکت کی اجازت دی۔ مجلس اتحاد المسلمین کے صدر اور حیدرآباد کے رکن پارلیمنٹ اسد الدین اویسی نے احتجاج سے خطاب کیا۔ انہوں نے کہا کہ مودی حکومت وقف زمینوں کو تباہ کر کے انہیں چھیننا چاہتی ہے، اس لئے یہ قانون لایا گیا ہے، تاہم ہم اس کے خلاف خاموش نہیں رہیں گے، ملک بھر کے مسلمان اس کے خلاف احتجاج جاری رکھیں گے۔ اسد الدین اویسی نے کہا کہ سپریم کورٹ کا عبوری روک بھی وقف بل کو روکنے میں زیادہ مددگار نہیں ہوگا۔ انہوں نے تمام مساجد کے علماء، موذن اور علماء کرام پر زور دیا کہ وہ ہر جمعہ کی نماز کے بعد اس بل کے خلاف عوام سے خطاب کریں اور اس کی خامیوں کو اجاگر کریں۔ اسد الدین اویسی نے کہا کہ امت شاہ نیشنل پاپولیشن رجسٹر (این پی آر) اور نیشنل رجسٹر آف سٹیزن (این آر سی) کو نافذ کرنا چاہتے ہیں اور ہمیں اس کے لئے تیار رہنا چاہیئے۔
اسد الدین اویسی نے کہا کہ نریندر مودی مسلمانوں کی شناخت چھیننا چاہتے ہیں، انہوں نے بنگال سے مسلمانوں کو اغوا کر کے بنگلہ دیش میں پھینک دیا، اب وہ آسام کے مسلمانوں کے پیچھے ہیں، ہمیں اس کے خلاف متحد رہنا چاہیئے۔ انہوں نے کہا کہ میں اس معاملے پر پہلے بھی آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کے ساتھ کھڑا ہوں اور کرتا رہوں گا۔ انہوں نے کہا کہ امت شاہ یہ دعویٰ کر رہے ہیں کہ مسلم آبادی کو مکمل طور پر الگ کر کے دیکھا جائے تو یہ غلط ہے، اگر آپ اسے پوری طرح سے الگ کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مسلمانوں کو ہر طرح سے نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ مسلمانوں کی آبادی میں اضافہ بہت کم ہوا ہے لیکن یہ لوگ جھوٹ پھیلاتے ہیں اور دعویٰ کرتے ہیں کہ مسلمانوں کی آبادی تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ تقریب کے لئے صرف 100 لوگوں کو دی گئی اجازت پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے اسد الدین اویسی نے کہا کہ ہمیں صرف اس تقریب کے لئے اجازت دی گئی تھی، اگر کوئی وزیراعظم کی تعریف میں جلسہ کرنا چاہتا تھا تو اسے 10 ہزار لوگوں کے لئے اجازت دی جاتی، یہ انتہائی مایوس کن ہے کہ سپریم کورٹ نے جس ماڈل کی منظوری دی ہے وہ آپ کو معلوم ہے کہ ماڈل کی جائیدادوں کا تحفظ نہیں ہوگا۔
کلکٹر کو دی گئی اجازت کو معطل کر دیا گیا ہے پانچ سال کے اندر مسلمانوں کی ملکیتی جائیدادوں کے لئے ایک نیا پروویژن بنایا گیا ہے جس سے یہ طے ہوگا کہ ہر وقف املاک سے کتنی آمدنی ہوگی اور اس کا استعمال کیسے کیا جائے گا۔ اسد الدین اویسی نے کہا کہ تیسری بات یہ ہے کہ سچر کمیٹی نے اپنی رپورٹ میں واضح طور پر کہا ہے کہ ملک بھر میں متعدد وقف املاک غیر قانونی قبضے میں ہیں۔ اگر سپریم کورٹ اس معاملے پر واضح رہنما اصول جاری نہیں کرتی ہے تو اس کا اثر ضرور پڑے گا۔ انہوں نے کہا کہ اب وقف املاک کی نگرانی ای ڈی اور اے ایس آئی جیسی ایجنسیوں کے حوالے کرنے کی بات ہو رہی ہے، اس سے مذہبی مقامات خاص طور پر درگاہوں اور خانقاہوں پر اثر پڑ سکتا ہے۔ یہ خدشہ بھی ہے کہ شرپسند عناصر بعض مقامات پر حالات کو خراب کرنے کی کوشش کر سکتے ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: انہوں نے کہا کہ مسلمانوں کی کے خلاف کے لئے
پڑھیں:
عطا اللہ تارڑ نے اب تک معافی نہیں مانگی، وزیراعظم وزرا کے تضحیک آمیز رویے کا نوٹس لیں، سحر کامران
پاکستان پیپلز پارٹی کی رکن قومی اسمبلی سحر کامران کا کہنا ہے کہ وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں پیش آنے والے واقعے پر اب تک معافی نہیں مانگی جبکہ وزیراعظم کو اپنے وزرا کے تضحیک آمیز رویے کا نوٹس لینا چاہیے۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان کے اگلے وزیراعظم بلاول بھٹو زرداری، سینیٹر سحر کامران نے دعویٰ کیوں کیا؟
وی ایکسکلوسیو میں گفتگو کرتے ہوئے سحر کامران نے بتایا کہ قائمہ کمیٹی کے اجلاس کے دوران انہوں نے وزارت اور متعلقہ سیکریٹری سے سوال کیا تھا کہ کمیٹی کے اجلاس میں تقریباً 12 ارب روپے مالیت کے 14 منصوبوں کی منظوری لی گئی تاہم بعد میں معلوم ہوا کہ بجٹ میں 14 ارب روپے سے زائد مالیت کے 17 منصوبے منظور کیے گئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ان کا صرف یہ سوال تھا کہ وہ 3 اضافی منصوبے کون سے تھے جو قائمہ کمیٹی کے سامنے پیش نہیں کیے گئے۔ ان کے بقول انہوں نے پاکستان ٹیلی ویژن (پی ٹی وی) سے متعلق بھی ایجنڈے کے مطابق چند سوالات کیے لیکن اسی دوران وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ اونچی آواز میں گفتگو کرنے لگے جس سے انہیں شدید تضحیک کا احساس ہوا۔
سحر کامران کا کہنا تھا کہ انہوں نے اس صورتحال پر واک آؤٹ کرنے کا فیصلہ کیا تاہم ان کے مطابق عطا اللہ تارڑ نے دوبارہ بلند آواز میں کہا کہ ’یہ ممبر کمیٹی کو ہائی جیک کرنا چاہتی ہیں‘، حالانکہ ان کے بقول انہوں نے ایسا کوئی اقدام نہیں کیا تھا۔
مزید پڑھیے: امریکا ایران مذاکرات، پیپلز پارٹی کا کردار پسِ منظر میں کیوں؟
رکن قومی اسمبلی نے مزید کہا کہ یہ پہلا موقع نہیں تھا کہ عطا اللہ تارڑ کے رویے پر انہیں اعتراض ہوا ہو۔ ان کے مطابق اس سے قبل بھی ایک پارلیمانی سوال کے جواب میں وزیر اطلاعات نے ان کے سوال کا متعلقہ جواب نہیں دیا تھا۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ جب انہوں نے قومی اسمبلی میں اس معاملے کی نشاندہی کی تو عطا اللہ تارڑ نے جواب دیا کہ میرا یہی کام ہے کہ سوال جیسا بھی ہو جواب میں اپنی مرضی کا دیتا ہوں۔
سحر کامران نے سپیکر قومی اسمبلی کے رویے پر بھی اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ انہیں ایوان میں جانبداری محسوس ہوئی۔
انہوں نے کہا کہ اس سے قبل بھی ایک وفاقی وزیر کی جانب سے پاکستان پیپلز پارٹی کی سینیٹر شیری رحمان کے ساتھ بھی نامناسب رویہ اختیار کیا گیا تھا۔
سحر کامران نے وزیراعظم سے مطالبہ کیا کہ وہ وزرا کے رویے کا نوٹس لیں اور پارلیمانی روایات کے مطابق ارکان کے ساتھ احترام پر مبنی طرز عمل یقینی بنائیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی نے جمہوریت اور آئین کی بالادستی کے لیے بے شمار قربانیاں دی ہیں۔ ان کے بقول پارٹی آج بھی جمہوریت کے استحکام کی خاطر وفاقی حکومت کی اتحادی ہے تاہم اسی وجہ سے کابینہ کا حصہ نہیں بنی۔
مزید پڑھیں: عطا تارڑ کا بڑا ایکشن: واجبات کی ادائیگی تک نجی ٹی وی کے اشتہارات بند کا اعلان
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی کی ملک کے تمام صوبوں کے علاوہ گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر میں بھی نمایاں نمائندگی موجود ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
رکن قومی اسمبلی سحر کامران سحر کامران کو عطا تارڑ سے شکایت وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ