موبائل بینکنگ ایپس صارفین کی تعداد ساڑھے 9 کروڑ سے زیادہ ہوگئی
اشاعت کی تاریخ: 13th, October 2025 GMT
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)پاکستان میں کیش لیس اکانومی کے فروغ کی جانب پیش رفت جاری ہے۔ موبائل بینکنگ ایپس صارفین کی تعداد ساڑھے 9 کروڑ سے زیادہ ہو گئی ۔ ایک کروڑ 77 لاکھ پاکستانی انٹرنیٹ بینکنگ پورٹل استعمال کر رہے ہیں۔ ملک بھر میں فوری اور مفت ڈیجیٹل ٹرانزیکشنز سے متعلق راست آئی ڈیز کی تعداد بھی 4 کروڑ ساٹھ لاکھ ہو چکی ۔ جون 2026 تک آن لائن بینکینگ ایپس صارفین کی تعداد 12 کروڑ تک لے جانے کا ہدف ہے۔
نجی ٹی وی سما نیوز کے مطابق معشیت کو جدید دور کے تقاضوں کے مطابق ڈھالنے کی حکومتی کوششیں کامیاب ہونے لگیں۔ پاکستان میں مجموعی طور پر 19 ہزار سے زیادہ بینک برانچز ، 7 لاکھ برانچ لیس بینکنگ ایجنسٹس موجود، لیکن شہریوں میں بینکوں کا رخ کرنے کے بجائے کیش لیس اکانومی کا رجحان بڑھنے لگا۔
پنجاب کے 355 سرکاری کالجوں کی سولرائزیشن ، محکمہ تعلیم اور محکمہ انرجی میں مفاہمتی یادداشت پر دستخط
گزشتہ 7 سال میں ری ٹیل سیکٹر میں 8 ارب ٹرانزیکشنز ڈیجیٹل چینلز کے ذریعے کی گئیں۔ اوور دی کاؤنٹر ٹرانزیکشنز 1.
دستاویز کے مطابق موبائل بینکنگ ایپس صارفین کی تعداد بڑھ کر 9 کروڑ 60 لاکھ تک پہنچ گئی۔ 1 کروڑ 70 لاکھ پاکستانی انٹرنیٹ بینکنگ پورٹل بھی استعمال کر رہے ہیں۔ راست آئی ڈیز کی تعداد 4 کروڑ 60 لاکھ ریکارڈ، تو کیو آر کوڈ ہولڈر تاجر ساڑھے آٹھ لاکھ تک پہنچ گئے۔
وزیراعظم شہباز شریف کے ڈیجیٹل معیشت ویژن کے فروغ کیلئے تین کمیٹیاں بھی قائم کی گئی ہیں۔ جون 2026 تک کیلئے 4 اہداف مقرر۔ آن لائن بینکینگ ایپس صارفین کی تعداد ساڑھے 9 کروڑ سے بڑھا کر 12 کروڑ کرنا، ڈیجیٹل ادائیگیوں میں شامل تاجروں کی تعداد 20 لاکھ تک لے جانا شامل ہے۔
کرکٹ ٹیم کی لگاتار شکست نے پوری پاکستانی قوم کے سر شرم سے جھکا دیے، کھلاڑیوں کی تربیت، فٹنس پر توجہ، اور ذہنی مضبوطی پر کام کیا جائے ، سید سلیم اختر
مزید :
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
کلیدی لفظ: ایپس صارفین کی تعداد کروڑ 60 لاکھ
پڑھیں:
مینگو شیک کے لیے کون سا آم بہترین ہے؟ ذائقے اور کریمی ٹیکسچر کو بدل دینے والے راز
گرمیوں کی آمد کے ساتھ ہی آموں کی خوشبو اور مٹھاس ہر طرف پھیل جاتی ہے، اور بازاروں، ریڑھیوں اور گھروں میں مختلف اقسام کے آم اپنی رنگینی بکھیرنے لگتے ہیں۔
پاکستان میں آم کی کئی مشہور اقسام پائی جاتی ہیں جن میں دسہری، کیسر، چونسہ اور سندھ کے بعض علاقوں میں محدود پیمانے پر کاشت ہونے والا الفانسو آم شامل ہے، جسے عام طور پر ’الفنس‘ کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔
آم کو صرف ایک پھل نہیں بلکہ گرمیوں کی پہچان سمجھا جاتا ہے، اسی لیے اس موسم میں اس سے آئس کریم، میٹھے پکوان، آم رس، سلاد اور مختلف مشروبات تیار کیے جاتے ہیں۔ تاہم ٹھنڈا اور گاڑھا مینگو شیک آج بھی سب سے زیادہ پسند کیے جانے والے مشروبات میں شمار ہوتا ہے، اور اکثر یہ سوال سامنے آتا ہے کہ آخر مینگو شیک کے لیے بہترین آم کون سا ہے؟
ماہرین اور شوقین افراد کے مطابق الفانسو آم مینگو شیک کے لیے بہترین انتخاب سمجھا جاتا ہے۔ اس کی گودے دار ساخت قدرتی طور پر کریمی ہوتی ہے، اس میں ریشہ نہ ہونے کے برابر ہوتا ہے اور اس کی مٹھاس دودھ کے ساتھ بخوبی گھل جاتی ہے، جس سے شیک ہموار اور ملائم بنتا ہے۔ بعض آم بلینڈ کرنے کے بعد ریشے دار محسوس ہوتے ہیں، لیکن الفانسو شیک کو ایک یکساں اور کریمی ساخت دیتا ہے۔
الفانسو آم کی ایک اور نمایاں خصوصیت اس کی خوشبو ہے، جو سادہ دودھ کے شیک کو بھی ایک خاص ذائقہ اور مہک عطا کرتی ہے۔ چونکہ یہ قدرتی طور پر بہت میٹھا ہوتا ہے، اس لیے اکثر افراد اس میں اضافی چینی ڈالنے کی ضرورت محسوس نہیں کرتے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ہر آم مینگو شیک کے لیے یکساں طور پر موزوں نہیں ہوتا۔ ایک اچھے شیک کے لیے ایسے آم کا انتخاب بہتر ہے جس میں ریشہ کم ہو، گودا قدرتی طور پر میٹھا اور خوشبودار ہو، ساخت گاڑھی اور کریمی ہو، جبکہ گٹھلی چھوٹی اور گودا زیادہ ہو۔
الفانسو کے علاوہ کیسر آم بھی ایک اچھا انتخاب سمجھا جاتا ہے، جو اپنے شوخ نارنجی گودے اور بھرپور مٹھاس کے باعث گاڑھا اور لذیذ شیک تیار کرتا ہے۔ اسی طرح دسہری آم اپنی خوشبو اور رس دار خصوصیات کی وجہ سے ہلکے اور تازگی بخش شیک کے لیے موزوں مانا جاتا ہے۔
ماہرین یہ بھی خبردار کرتے ہیں کہ بہت زیادہ پکے ہوئے آم استعمال نہ کیے جائیں، کیونکہ اگرچہ وہ زیادہ میٹھے ہوتے ہیں لیکن بعض اوقات ان میں خمیر جیسی بو پیدا ہو سکتی ہے جو شیک کے ذائقے کو متاثر کرتی ہے۔
گھر میں بہترین مینگو شیک بنانے کے لیے چند آسان طریقے بھی مددگار ثابت ہوتے ہیں۔ آموں کو استعمال سے پہلے ٹھنڈا کر لیا جائے تو برف کی ضرورت کم ہو جاتی ہے، جبکہ مکمل چکنائی والے ٹھنڈے دودھ سے شیک زیادہ کریمی بنتا ہے۔ آم کے ٹکڑوں کو فریز کر کے استعمال کرنے سے شیک مزید گاڑھا ہو جاتا ہے، اور ذائقے میں بہتری کے لیے ہلکی سی الائچی یا زعفران بھی شامل کیا جا سکتا ہے۔
ماہرین کے مطابق ضرورت سے زیادہ بلینڈنگ سے شیک پتلا بھی ہو سکتا ہے، اس لیے اسے مناسب وقت تک ہی بلینڈ کرنا بہتر سمجھا جاتا ہے۔ مجموعی طور پر کہا جا سکتا ہے کہ گرمیوں میں بہترین مینگو شیک کا راز صرف ترکیب میں نہیں بلکہ صحیح آم کے انتخاب میں بھی چھپا ہوتا ہے۔