امریکا میں امریکی یہودیوں کی اکثریت جو پہلے اسرائیل کی غزہ میں جارحیت کی حامی تھی، اب تیزی سے مخالف ہورہی ہے۔ صرف مخالف ہی نہیں، وہ اسرائیلی کارروائی کو فلسطینیوں کی نسل کشی سمجھنے لگی ہے۔

امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ کے ایک تازہ سروے کے مطابق زیادہ تر امریکی یہودی اسرائیل کے غزہ میں جاری فوجی اقدامات سے سخت نالاں ہیں۔
سروے کے مطابق 61 فیصد امریکی یہودیوں کا کہنا ہے کہ اسرائیل نے جنگی جرائم کیے ہیں، جب کہ تقریباً 39 فیصد کے نزدیک اسرائیل فلسطینیوں کے خلاف نسل کشی  کر رہا ہے۔ صرف 29 فیصد کا خیال ہے کہ اسرائیل جنگی جرائم کا مرتکب نہیں ہورہا۔

یہ بھی پڑھیے  اسرائیل غزہ جنگ بندی کا مطالبہ: امریکی یہودیوں نے نیویارک کے مجسمہ آزادی پر قبضہ کرلیا

یہ نتائج حیران کن سمجھے جا رہے ہیں کیونکہ امریکی یہودی برادری کی اسرائیل کے ساتھ تاریخی اور جذباتی وابستگی طویل عرصے سے چلی آ رہی ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ اختلاف اسرائیل اور امریکی یہودیوں کے تعلقات میں ایک تاریخی موڑ ثابت ہو سکتا ہے۔

 جنگ کے پس منظر میں اختلافات کی شدت

7 اکتوبر 2023 کو حماس اور دیگر مزاحمتی گروہوں کے حملے میں تقریباً 1,200 اسرائیلی مارے گئے اور 250 افراد کو یرغمال بنایا گیا، جس کے بعد اسرائیل نے غزہ پر شدید فوجی کارروائی شروع کی۔


دوسری طرف غزہ کی وزارتِ صحت کے مطابق اسرائیلی حملوں میں اب تک 67,000 سے زائد فلسطینی شہید ہو چکے ہیں، جن میں اکثریت عورتوں اور بچوں کی ہے۔ لاکھوں فلسطینی بے گھر ہو چکے ہیں اور شدید بھوک و قحط کا سامنا ہے۔

 امریکی یہودیوں کی رائے

سروے میں شامل 68 فیصد یہودیوں نے اسرائیلی وزیرِاعظم نیتن یاہو کی کارکردگی کو منفی قرار دیا، جن میں سے تقریباً نصف نے ان کی قیادت کو ’انتہائی ناقص‘ کہا۔

امریکی یہودی برادری اسرائیل کی کارروائیوں پر منقسم ہے 46 فیصد اس کی حمایت کرتے ہیں۔ 48 فیصد مخالفت کرتے ہیں۔ جب کہ عام امریکیوں  میں صرف 32 فیصد اسرائیل کے اقدامات کی حمایت کرتے ہیں۔

 خیالات میں تبدیلی: ابتدا میں حمایت، اب مایوسی

کئی شرکاء نے کہا کہ ابتدا میں وہ اسرائیل کے جوابی حملے کو ضروری سمجھتے تھے، مگر وقت گزرنے کے ساتھ جنگ کی شدت اور انسانی المیے نے ان کی رائے بدل دی۔
واشنگٹن کی ایک مصنفہ جولیا سیڈمین نے کہا کہ شروع میں اسرائیل کے پاس کوئی چارہ نہیں تھا، مگر دو سال بعد جو کچھ ہو رہا ہے وہ ناقابلِ برداشت ہے۔ انسانی تکلیف کی یہ سطح شرمناک ہے۔

 اسرائیل سے جذباتی وابستگی برقرار

سروے کے مطابق، باوجود اختلافات کے، 76 فیصد امریکی یہودی اب بھی سمجھتے ہیں کہ اسرائیل کا وجود یہودی قوم کے مستقبل کے لیے ضروری ہے۔
ایک کاروباری ماہر باب ہاس نے کہا کہ اسرائیل کا ہونا یہودیوں کے تحفظ کے لیے ناگزیر ہے، لیکن نیتن یاہو حکومت کے اقدامات یہودیوں کی سلامتی کے لیے خطرہ بن گئے ہیں۔

 سیاسی اثرات

یہ تقسیم امریکی سیاست میں بھی نمایاں ہو رہی ہے۔ ڈیموکریٹ پارٹی کے کئی ارکان بشمول یہودی سینیٹرز، اب اسرائیل پر پہلے سے زیادہ تنقید کر رہے ہیں۔


جولائی میں سینیٹ نے اسرائیل کو اسلحے کی فروخت روکنے سے متعلق قرارداد پر ووٹ دیا، جس کی حمایت زیادہ تر ڈیموکریٹس نے کی، اگرچہ یہ قرارداد منظور نہ ہو سکی۔
یہ قرارداد برنی سینڈرز (آزاد، ورمونٹ) نے پیش کی تھی، جو خود بھی یہودی ہیں اور اسرائیل کے خلاف سخت موقف رکھتے ہیں۔

اسی ماہ، سینیٹ لیڈر چک شومر اور دیگر یہودی اراکین نے غزہ میں انسانی امداد بڑھانے کا مطالبہ کیا۔ شومر نے گزشتہ سال نیتن یاہو سے استعفے اور نئے انتخابات کا بھی مطالبہ کیا تھا۔

 نسل کشی کے سوال پر تقسیم

سروے میں جب شرکاء سے پوچھا گیا کہ کیا اسرائیل غزہ میں نسل کشی کر رہا ہے، تو

39 فیصد نے کہا ہاں

51 فیصد نے کہا نہیں

10 فیصد غیر یقینی رہے۔

بوسٹن کی 59 سالہ ڈانا وِٹن نے کہا کہ اسے نسل کشی کہنا درست نہیں، کیونکہ اسرائیلی فلسطینیوں کو مکمل طور پر مٹانے کی کوشش نہیں کر رہے جیسے نازیوں نے یہودیوں کے ساتھ کیا تھا۔

دوسری جانب، جولیا سیڈمین نے کہا کہ وہ اس امکان کو رد نہیں کرتیں کہ یہ نسل کشی ہو سکتی ہے، میں یقین کی کیفیت میں نہیں ہوں، مگر جو کچھ ہو رہا ہے، بہرحال اس کا دفاع نہیں ہوسکتا۔

دلچسپ اعدادوشمار

رائے عامہ کے جائزہ میں عمر کے لحاظ سے واضح فرق دیکھا گیا۔

18 سے 34 سال کے 50٪ نوجوان یہودیوں کا خیال ہے کہ اسرائیل نسل کشی کر رہا ہے۔

65 سال سے زائد میں یہ شرح صرف 30٪ کے قریب ہے۔
اسی طرح، مردوں کی اکثریت (56٪) اسرائیلی کارروائیوں کی حمایت کرتی ہے، جب کہ 55٪ خواتین مخالفت میں ہیں۔

 امریکی امداد پر رائے

تقریباً 60 فیصد امریکی یہودی چاہتے ہیں کہ امریکا اسرائیل کو فوجی امداد جاری رکھے، مگر 32 فیصد کا کہنا ہے کہ امریکا بہت زیادہ حمایت کر رہا ہے جو 2020 کے مقابلے میں 10 فیصد زیادہ ہے۔

یہ بھی پڑھیے اسرائیلی وزیراعظم کا دورہ امریکا، یہودیوں نے احتجاج کیوں کیا؟

بروکلین کے ایک انجینئر میکس پارک نے کہا کہ اگر امریکا اسرائیل کو دی جانے والی امداد محدود کرے تو غزہ کے حالات فوراً بہتر ہو سکتے ہیں۔ یہودی اقدار انسانیت کے احترام کا درس دیتی ہیں، مگر اسرائیل ان اصولوں پر عمل نہیں کر رہا۔

امن کی امید باقی

اگرچہ حالات مایوس کن ہیں، 59 فیصد امریکی یہودی اب بھی سمجھتے ہیں کہ اسرائیل اور فلسطین امن کے ساتھ ساتھ رہ سکتے ہیں۔ تاہم صرف 4 فیصد چاہتے ہیں کہ غزہ پر حماس کی حکومت ہو، جبکہ اکثریت منتخب فلسطینی حکومت کی حامی ہے۔

پارک کے بقول ’میں یہودی قوم اور سرزمینِ اسرائیل سے تعلق محسوس کرتا ہوں، لیکن موجودہ ریاست اسرائیل، جو ان اصولوں کی نمائندگی نہیں کرتی، کا میں ترجمان نہیں۔

یہ سروے واشنگٹن پوسٹ اور SSRS کی جانب سے 2 تا 9 ستمبر کے دوران کیا گیا۔
اس میں 815 امریکی یہودی بالغوں کو شامل کیا گیا، جن میں مذہبی اور ثقافتی دونوں شناخت رکھنے والے افراد شامل تھے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

اسرائیل کی غزہ جنگ امریکی یہودی.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: اسرائیل کی غزہ جنگ امریکی یہودی فیصد امریکی یہودی امریکی یہودیوں کہ اسرائیل اسرائیل کے یہودیوں کی اسرائیل کو کر رہا ہے نے کہا کہ کے مطابق کی حمایت حمایت کر نہیں کر کے ساتھ کے لیے ہیں کہ

پڑھیں:

قابلِ فخر سعد ایدھی

کراچی ایئرپورٹ پر 23 ء مئی کو ایک ہجوم جمع تھا۔ اس ہجوم کے شرکاء جس میں مرد ، عورتیں، جوان اور بچے شامل تھے، سعد ایدھی کے استقبال کے لیے دور دراز علاقوں سے ایئرپورٹ پہنچے تھے۔ اس ہجوم میں فیصل ایدھی اور ان کی اہلیہ بھی شامل تھیں جو اپنے بیٹے کے استقبال کے لیے آئی تھیں۔ا ن کے ساتھ سعد ایدھی کی اہلیہ بھی تھی جن کی گود میں تین ماہ کی بچی بھی تھی۔ فیصل اپنے والد عبدالستار ایدھی کی روایت کے امین ہیں۔ عبدالستار ایدھی نے بہادری کے ساتھ انسانوں کی مدد کرنے کی زندہ مثالیں قائم کی تھیں۔ فیصل کو فخر ہے کہ ان کا بیٹا ان کے والد کے راستے پر گامزن ہے۔

سعد ایدھی اسرائیل کے کنسرٹیشن کیمپ سے رہا ہو کر ترکیہ پہنچے تھے تو استنبول سے کراچی آرہے تھے۔ سعد ایدھی نے جب فلوٹیلا میں سفر کر کے اسرائیل کا محاصرہ توڑ کر غزہ جانے کا فیصلہ کیا تھا تو ایدھی خاندان کے لیے ایک بری خبر تھی اور اس خبر کا ایک واضح پس منظر تھا۔ چند ماہ قبل ایک اور فلوٹیلا میں سوار ہو کر 430 کے قریب رضاکار غزہ روانہ ہوئے تھے تو اسرائیل کی نیوی نے بین الاقوامی سمندر میں فلوٹیلا پر فائرنگ کی تھی اور توپوں کے گولے پھینکے تھے۔

اسرائیلی فوجوں نے اس فلوٹیلا کے قافلے میں سوار افراد کو گرفتار کر کے بیہمانہ تشدد کا نشانہ بنایا تھا اور عام خیال تھا کہ اس دفعہ اسرائیل کی نیوی فلسطینی شہریوں سے یکجہتی کے لیے آنے والے افراد کو ہلاک کرنے سے گریز نہیں کرے گی۔ ایدھی خاندان کی خواتین سخت پریشان تھیں مگر سعد ایدھی کے والد فیصل ایدھی نے اپنے بیٹے کو اس خطرناک مشن پر جانے سے نہیں روکا تھا، یوں سعد کا حوصلہ بہت بلند ہوگیا تھا۔

غزہ کا علاقہ فلسطین میں شامل ہے۔ فلسطین کے دو حصے دریائے اردن کے مغربی کنارے سے متصل ہیں۔ غزہ کی سرحد ایک طرف مصر سے ملتی ہے تو جنوبی مغرب میں اسرائیل ہے اور مشرق اور جنوب میں بحیرہ روم واقع ہے۔ بحیرہ روم جس کو انگریزی میں Mediterraneen Sea کہا جاتا ہے، یہ افریقہ، یورپ اور ایشیا کے درمیان سمندر ہے جو تقریباً چاروں طرف سے زمین پر بھی گھرا ہوا ہے۔

یہ صرف وہاں سے کھلا ہوا ہے جہاں اسپین اور فرانس آمنے سامنے ہیں اور درمیان میں چند کلومیٹر کا سمندر بحیرہ روم کے شمال میں یورپ، جنوب میں افریقہ اور مشرق میں ایشیا موجود ہے۔ بحیرہ روم 2.5 ملین مربع کلومیٹر پر پھیلا ہوا ہے۔ اسرائیل نے گزشتہ بہت برسوں سے فلسطین کے تمام علاقوں کا بحیرہ روم کے راستہ کا گھیراؤ کیا ہوا ہے۔ غزہ اور فلسطین کے دیگر علاقوںمیں آباد عرب باشندوں کو بحیرہ روم میں نقل و حمل کی اجازت نہیں ہے۔ فلسطین سے محبت کرنے والے سماجی کارکن جن میں یورپ، امریکا، ایشیا، افریقہ اور لاطینی امریکا کے ممالک کے شہری بھی شامل ہیں مسلسل کوشش کررہے ہیں کہ اسرائیل کی ناکہ بندی کو ختم کرایا جائے۔

ان کارکنوں نے فلوٹیلا میں شامل بہت سے چھوٹے جہازوں کا کاررواں کے ذریعے جس میں دنیا بھر کے سماجی و سیاسی کارکن، صحافی اور خواتین شامل ہیں نے غزہ کے ساحل پر پہنچنے کا طریقہ اپنایا ہوا ہے۔ یہ کارکن اپنے خرچہ پر ترکیہ میں جمع ہوتے ہیں اور پھر یہ قافلہ بحیر ئہ روم سے گزرتا ہوا غزہ کے قریب پہنچتا ہے۔ پہلے تو اسرائیلی فوجیں غزہ کے قریب فلوٹیلا سے جہازوں میں سوار افراد کو بندرگاہ سے ہی نکال دیتے تھے مگر وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اسرائیلی فوج کا رویہ غیر انسانی ہوتا گیا۔ سعد ایدھی ترکیہ کی بندرگاہ Marmaris Port سے روانہ ہوئے تھے۔ ابھی یہ قافلہ فلسطین اور اسرائیل سے بہت دور بین الاقوامی سمندر میں پہنچا تھا کہ اسرائیل کی گن بوٹس نے فلوٹیلا کے جہازوں پر مارٹر توپ کے گولے پھینکنے شروع کردیے۔ پھر ان فوجیوں نے ربڑ کی گولیاں چلانا شروع کردیں ۔

بین الاقوامی سمندر میں اسرائیل کی اس جارحیت کا کئی جواز نہیں تھا مگر پھر یہ فوجی چھوٹے جہازوں میں کود گئے اور فلوٹیلا کے جہازوں میں رضاکاروں کی کی آنکھوں میں پٹیاں باندھ دی گئیں اور جب یہ لوگ بندرگاہ پر پہنچے تو فلوٹیلا میں شامل 450 افراد کو جن میں بوڑھے، بچے اور خواتین بھی شامل تھے گھسیٹ گھسیٹ کر چھوٹی سی جیل میں دھکیل دیا گیا۔ سعد ایدھی نے کراچی میں بتایا کہ تمام لوگوں کو مسلسل مرغے بنا کر رکھا گیا۔ اسرائیلی فوجی ان رضاکاروں پر بندوق کے پٹ سے حملہ کرتے رہے اور خاص طور پر گھٹنوں اور پسلیوں کو نشانہ بنایا جاتا رہا۔ کئی افراد کی پسلیاں ٹوٹ گئیں۔

Global Sumud Flotilla کے منتظمین کا کہنا ہے کہ اسرائیل کے فوجیوں نے کم از کم 15 افراد کو جنسی بدسلوکی کا نشانہ بنایا۔ ان منتظمین کا یہ بھی کہنا ہے کہ اسرائیل کے فوجی دستے نے ایک جہاز کو کنسرٹیشن کیمپ میں تبدیل کیا اور اس جہاز کے گرد خاردار تار لگادیئے گئے۔ پھر اس عارضی جیل میں کم گنجائش کے باوجود 450کے قریب رضاکاروں کو رکھا گیا۔ آسٹریلین ڈاکٹر کا کہنا ہے کہ اسرائیلی فوجیوں نے جانوروں سے زیادہ بدتر سلوک کیا ۔ اٹلی کے ماہرمعاشیات نے اسرائیلی فوج کے بدترین سلوک کو بیان کرتے ہوئے کہا کہ انھیں 24 گھنٹوں کے دوران بار بار تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور کئی دفعہ رضاکاروں کو زمین پر گھسیٹا گیا ، ان کی آنکھوں پر پٹیاں باندھی گئیں اور انھیں پینے کے لیے پانی تک نہیں دیا گیا۔

سعد ایدھی نے بتایا کہ دون دن کی قید کے دوران صرف ایک ایک بوتل پانی دیا گیا۔ پھر تقریباً ہر رضاکار کے گھٹنوں کو مجروح کرنے کی کوشش کی گئی۔ اسرائیل کے وزیر دفاع نے ایک رضا کار لڑکی کے بال کھینچے اور یہ وڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی تو یورپ میں شدید احتجاج ہوا۔ فرانس کی حکومت نے اسرائیلی وزیر دفاع کا ویزا منسوخ کردیا۔ یورپی یونین کی ترجمان نے اسرائیل کے رضاکاروں پر تشدد کی شدید مذمت کی۔ برطانیہ، جرمنی، اسپین اور دنیا بھر کے دیگر ممالک نے مظلوم رضاکاروں کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا۔

اسرائیل کی حکومت کو اس بات کی توقع نہیں تھی کہ ایشیائی اور افریقی ممالک کے علاوہ برطانیہ ، فرانس اور جرمنی وغیرہ بھی اسرائیل کی انسان دشمن پالیسیوں کے خلاف اتنا سخت ردعمل ظاہر کریں گے۔اس فلوٹیلا کے 50 جہازوں میں زیادہ تعداد اسپین اور دیگر یورپی ممالک کے باشندوں کی تھی۔ یہ لوگ اسرائیل کے جرائم کو آشکار کرنے کے لیے فلوٹیلا کے جہازوں میں سوار ہوئے تھے۔

انھیں اگرچہ اپنے مشن کی کامیابی کی زیادہ امید نہیں تھی مگر انسانیت کی خاطر اور غزہ کے عوام کے ساتھ یکجہتی کے لیے یہ تمام افراد اس فلوٹیلا کا حصہ بنے تھے۔ اس فلوٹیلا میں شریک سماجی کارکنوں نے اسپین کی خانہ جنگی کی یاد تازہ کردی۔ جب اسپین کے فاشسٹ جنرل فرانکو کی حکومت کے خلاف جدوجہد کرنے والے اس بریگیڈ میں دنیا بھر کے ادیب، شاعر اور دانشور شامل ہوئے۔ انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیموں نے مطالبہ کیا ہے کہ فلوٹیلا کے رضاکاروں پر اسرائیلی فوج کے بیہمانہ سلوک کے خلاف عالمی عدالت انصاف فوری طور پر کارروائی کرے اور اسرائیل کے خلاف اقتصادی پابندیاں عائد کی جائیں۔

فلسطین کے لیے جدوجہد کرنے والے یہ مختلف ممالک کے کارکن صرف فلسطین کے عوام کے بنیادی حقوق کے تحفظ کے لیے جدوجہد کررہے ہیں۔ سعد ایدھی پر پوری قوم کو فخر ہے۔ سعد ایدھی اور دیگر انسانی حقوق کے کارکنوں نے جو جدوجہد کی ہے، وہ وقت جلد آئے گاجب اس جدوجہد کے مثبت نتائج برآمد ہونگے اور فلسطین ایک متحدہ ملک کے طور پر دنیا کے نقشہ پر ابھرے گا۔

متعلقہ مضامین

  • قابلِ فخر سعد ایدھی
  • شارع فیصل، کس لین میں گاڑی چلائی تو چالان نہیں ہوگا؟
  • ایران کے جوہری پروگرام پر انتہائی ٹیکنیکل مذاکرات میں مہینے لگ سکتے ہیں، امریکی وزیرخارجہ
  • آبنائے ہرمز بحالی پر بھی ایران سے پابندیاں نہیں ہٹائینگے: مارکوروبیو
  • ایران سے مذاکرات کے امکانات روشن ہیں، معاہدے کا حتمی نہیں کہہ سکتے، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو
  • لاہور بلدیاتی الیکشن، 159 یوسیز کا اضافہ، مجموعی تعداد 433 ہوگئی
  • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی حملوں پر برہم، نیتن یاہو کو سخت پیغام
  • بحرین نے اپنے شہریوں کو ایران اور عراق کے سفر سے روک دیا
  • واشنگٹن میں کیمیائی ٹینک دھماکہ: ہلاکتوں کی تعداد 11 ہوگئی، تمام لاپتا افراد کی لاشیں برآمد
  • امریکی کانگریس میں اہم بل، اسرائیل کو امریکی دفاعی ٹیکنالوجی تک غیرمعمولی رسائی ملنے کا امکان