WE News:
2026-07-24@04:37:08 GMT

سعودی عرب کی قیادت میں خطہ امن کی نئی سمت کی جانب گامزن

اشاعت کی تاریخ: 14th, October 2025 GMT

سعودی عرب کی قیادت میں خطہ امن کی نئی سمت کی جانب گامزن

غزہ کے مسئلے پر کشیدگی کے خاتمے کی امیدیں بڑھنے کے بعد خطے میں نیا موڑ سامنے آنے لگا ہے۔ اس پس منظر میں سعودی عرب اور خلیجی ممالک کی متحرک سفارت کاری علاقائی امن کے قیام اور سیاسی اعتماد کی بحالی کی بنیاد بنتی دکھائی دے رہی ہے۔

بحران کے آغاز سے ہی ریاض ایک مؤثر علاقائی طاقت کے طور پر ابھرا، جو مذاکرات کے ذریعے ایسا متوازن حل تلاش کر رہا ہے جو شہریوں کی تکالیف ختم کرے اور پائیدار استحکام کی راہ ہموار کرے۔

یہ بھی پڑھیے: سعودی عرب اور پاکستان کے درمیان کن شعبوں میں تجارت اور سرمایہ کاری ہو رہی ہے؟

سعودی کوششیں مصر، قطر اور اقوامِ متحدہ کے ساتھ قریبی رابطے میں جاری ہیں تاکہ فریقین کے درمیان اختلافات کم کر کے جنگ بندی کو عملی شکل دی جا سکے۔

سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ سعودی موقف انصاف، باہمی احترام اور شہریوں کے تحفظ پر مبنی اصولی موقف ہے، جس میں فلسطینی اداروں کو بااختیار بنانے اور تعمیرِ نو کے عمل کو سیاسی یا عسکری دباؤ سے آزاد رکھنے پر زور دیا گیا ہے۔

خلیجی ممالک نے بھی فوری امداد، انسانی منصوبوں کی مالی معاونت اور سفارتی کوششوں کے ساتھ بھرپور یکجہتی دکھاتے ہوئے ایک متفق اور ہم آہنگ مؤقف پیش کیا ہے، جس سے واضح ہوتا ہے کہ پائیدار حل صرف انسانی تحفظ اور عزتِ نفس کی بنیاد پر ہی ممکن ہے۔

یہ بھی پڑھیے:  حماس کے فیصلے کا خیر مقدم، مسلم وزرائے خارجہ کا واضح پیغام

جیسے جیسے قیدیوں کی رہائی اور جنگ بندی کے جزوی معاہدوں کی خبریں سامنے آ رہی ہیں، سعودی عرب کا کردار خطے میں سب سے زیادہ نمایاں ہوتا جا رہا ہے۔ اپنی سیاسی، معاشی اور سفارتی طاقت کے توازن کے باعث ریاض عرب دنیا کے ردعمل کو قائدانہ اقدام میں بدل رہا ہے، تاکہ غزہ اور پورے مشرقِ وسطیٰ کے لیے ایک محفوظ اور مستحکم مستقبل یقینی بنایا جا سکے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

اسرائیل سعودی عرب غزہ مشرقی وسطیٰ.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: اسرائیل

پڑھیں:

ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدہ ابراہیمی معاہدہ میں شمولیت سے مشروط کر دیا

امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ مجوزہ سول جوہری معاہدے کومعاہدہ ابراہیمی (Abraham Accords) میں سعودی شمولیت سے مشروط کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ معاہدے کے تحت سعودی عرب کو کسی بھی صورت یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر جاری بیان میں کہا کہ امریکا کے محکمہ توانائی اور سعودی عرب کے درمیان زیر غور سول جوہری معاہدہ صرف پرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ یہ پروگرام ایران، متحدہ عرب امارات اور دیگر ممالک کے سول جوہری پروگراموں کی طرز پر ہوگا، تاہم اس میں یورینیم افزودگی کی اجازت شامل نہیں ہوگی۔

امریکی صدر نے کہا کہ معاہدے کی منظوری ضرور دی جائے گی، لیکن اس کی بنیادی شرط یہ ہوگی کہ سعودی عرب باعزت اور باہمی احترام پر مبنی معاہدہ ابراہیمی میں شامل ہو۔ ان کے مطابق امریکا کو ایسے سول جوہری مراکز پر کوئی اعتراض نہیں جو مکمل طور پر پرامن مقاصد کے لیے قائم کیے جائیں اور جن میں یورینیم افزودہ نہ کیا جائے۔

دوسری جانب اسرائیلی وزیراعظم کے دفتر نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ اگر سعودی عرب معاہدہ ابراہیمی میں شامل ہوتا ہے تو یہ مشرق وسطیٰ میں امن کے لیے ایک تاریخی پیش رفت ہوگی۔ بیان میں کہا گیا کہ حالیہ علاقائی پیش رفت کے بعد خطے میں امن کے دائرے کو مزید وسعت دینے کا موقع پیدا ہوا ہے، تاہم اسرائیلی حکومت نے امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے پر براہ راست کوئی تبصرہ نہیں کیا۔

ادھر امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل کی ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ صدر ٹرمپ سعودی عرب کے ساتھ 30 سالہ سول جوہری معاہدے کی اصولی منظوری دے چکے ہیں، جسے اب کانگریس کی منظوری درکار ہوگی۔ رپورٹ کے مطابق اس معاہدے کی مالیت کئی ارب ڈالر ہو سکتی ہے اور اس کے ذریعے سعودی عرب کو جوہری توانائی کی جدید ٹیکنالوجی تک رسائی حاصل ہوگی۔

تاہم اسرائیل میں اس مجوزہ معاہدے پر تحفظات بھی سامنے آئے ہیں۔ سابق اسرائیلی وزیر دفاع اویگدور لائبرمین نے اسے اسرائیل کے لیے اسٹریٹیجک خطرہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ہر فوجی جوہری پروگرام کی ابتدا سول جوہری پروگرام سے ہوتی ہے اور اگر سعودی عرب کو اپنی سرزمین پر یورینیم افزودگی کی اجازت دی گئی تو اس سے مشرق وسطیٰ میں جوہری ہتھیاروں کی نئی دوڑ شروع ہونے کا خدشہ پیدا ہو سکتا ہے۔

واضح رہے کہ معاہدہ ابراہیمی کا آغاز 2020 میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پہلے دورِ صدارت میں ہوا تھا، جس کا مقصد اسرائیل اور مختلف عرب و مسلم ممالک کے درمیان سفارتی، اقتصادی اور سکیورٹی تعلقات کو فروغ دینا تھا۔ اس معاہدے کے تحت متحدہ عرب امارات، بحرین، مراکش اور سوڈان اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لا چکے ہیں، جبکہ سعودی عرب کی ممکنہ شمولیت کو خطے کی سفارتی تاریخ میں ایک اہم پیش رفت تصور کیا جا رہا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • ارشد ندیم کی قیادت میں پاکستانی دستے کی کامن ویلتھ گیمز کی رنگا رنگ افتتاحی تقریب میں شاندار شرکت
  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مسلسل چوتھے روز اضافہ
  • فیفا ورلڈ کپ دیکھنے کیلیے کینیڈا جانیوالے 175 غیر ملکیوں نے سیاسی پناہ مانگ لی
  • بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدہ ابراہیمی معاہدہ میں شمولیت سے مشروط کر دیا
  • امریکا کی جانب سے ایران پر بمباری کیلئے برطانوی ائیربیس کا استعمال، پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو سخت ردعمل کی دھمکی
  • جدہ قونصل خانے میں اہم انتظامی تبدیلی، فرینہ ارشد نے ڈپٹی قونصل جنرل کا عہدہ سنبھال لیا
  • دریائے چناب میں ہیڈ مرالہ اور خانکی کے بعد ہیڈ قادرآباد پر بھی اونچے درجے کا سیلا ب آ گیا
  • مقبوضہ کشمیر میں تیز بارشیں، بھارت نے پانی کا بڑا ریلہ پاکستان کی جانب چھوڑ دیا