سعودی عرب کی قیادت میں خطہ امن کی نئی سمت کی جانب گامزن
اشاعت کی تاریخ: 14th, October 2025 GMT
غزہ کے مسئلے پر کشیدگی کے خاتمے کی امیدیں بڑھنے کے بعد خطے میں نیا موڑ سامنے آنے لگا ہے۔ اس پس منظر میں سعودی عرب اور خلیجی ممالک کی متحرک سفارت کاری علاقائی امن کے قیام اور سیاسی اعتماد کی بحالی کی بنیاد بنتی دکھائی دے رہی ہے۔
بحران کے آغاز سے ہی ریاض ایک مؤثر علاقائی طاقت کے طور پر ابھرا، جو مذاکرات کے ذریعے ایسا متوازن حل تلاش کر رہا ہے جو شہریوں کی تکالیف ختم کرے اور پائیدار استحکام کی راہ ہموار کرے۔
یہ بھی پڑھیے: سعودی عرب اور پاکستان کے درمیان کن شعبوں میں تجارت اور سرمایہ کاری ہو رہی ہے؟
سعودی کوششیں مصر، قطر اور اقوامِ متحدہ کے ساتھ قریبی رابطے میں جاری ہیں تاکہ فریقین کے درمیان اختلافات کم کر کے جنگ بندی کو عملی شکل دی جا سکے۔
سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ سعودی موقف انصاف، باہمی احترام اور شہریوں کے تحفظ پر مبنی اصولی موقف ہے، جس میں فلسطینی اداروں کو بااختیار بنانے اور تعمیرِ نو کے عمل کو سیاسی یا عسکری دباؤ سے آزاد رکھنے پر زور دیا گیا ہے۔
خلیجی ممالک نے بھی فوری امداد، انسانی منصوبوں کی مالی معاونت اور سفارتی کوششوں کے ساتھ بھرپور یکجہتی دکھاتے ہوئے ایک متفق اور ہم آہنگ مؤقف پیش کیا ہے، جس سے واضح ہوتا ہے کہ پائیدار حل صرف انسانی تحفظ اور عزتِ نفس کی بنیاد پر ہی ممکن ہے۔
یہ بھی پڑھیے: حماس کے فیصلے کا خیر مقدم، مسلم وزرائے خارجہ کا واضح پیغام
جیسے جیسے قیدیوں کی رہائی اور جنگ بندی کے جزوی معاہدوں کی خبریں سامنے آ رہی ہیں، سعودی عرب کا کردار خطے میں سب سے زیادہ نمایاں ہوتا جا رہا ہے۔ اپنی سیاسی، معاشی اور سفارتی طاقت کے توازن کے باعث ریاض عرب دنیا کے ردعمل کو قائدانہ اقدام میں بدل رہا ہے، تاکہ غزہ اور پورے مشرقِ وسطیٰ کے لیے ایک محفوظ اور مستحکم مستقبل یقینی بنایا جا سکے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اسرائیل سعودی عرب غزہ مشرقی وسطیٰ.ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اسرائیل
پڑھیں:
چیلنجز سے نمٹنے کیلئے باخبر قیادت، قومی یکجہتی اور مربوط پالیسی ضروری ہے: صدر زرداری
اسلام آباد ( نیوزڈیسک) صدر مملکت آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ چیلنجز سے نمٹنے کے لیے باخبر قیادت، قومی یکجتہی اور مربوط پالیسی سازی ضروری ہے۔
آئی ایس پی آر کے مطابق صدر مملکت آصف علی زرداری نے نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی اسلام آباد کا دورہ کیا اور 27ویں نیشنل سکیورٹی ورکشاپ سے خطاب کرتے ہوئے شرکاء کو مبارکباد پیش کی۔
ورکشاپ میں اراکین پارلیمنٹ، سینئر سول و ملٹری افسران، تعلیمی اداروں اور سول سوسائٹی کے نمائندوں نے شرکت کی، ورکشاپ کا مقصد قومی طاقت کے مختلف عناصر کے باہمی تعلق اور جامع قومی سلامتی کے فریم ورک کے حوالے سے شرکا کی فہم کو مزید گہرا کرنا تھا۔
صدر نے ورکشاپ کامیابی سے مکمل کرنے پر شرکاء کو مبارکباد دی اور قومی سلامتی کے شعور کو مضبوط بنانے کے لئے شرکا کی کاوشوں کو سراہا۔
صدر آصف زرداری نے کہا کہ پاکستان کو درپیش سکیورٹی چیلنجز سے نمٹنے کیلئے باخبر قیادت، قومی یکجہتی اور مربوط پالیسی سازی ضروری ہے۔
صدر مملکت نے اختتامی تقریب میں گریجویٹ شرکاء میں اسناد بھی تقسیم کیں۔
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کی جانب سے بتایا گیا کہ نیشنل سکیورٹی ورکشاپ ملک میں قومی سطح پر مکالمے کو فروغ دینے کا پلیٹ فارم ہے، ورکشاپ ادارہ جاتی صلاحیت بڑھانے اور قومی سلامتی کے لئے مشترکہ قومی حکمتِ عملی کو آگے بڑھانے کا پلیٹ فارم بھی ہے۔