پاکستانی سفارتکار آصف خان نے مودی سرکار کا گھناؤنا چہرہ بے نقاب کردیا
اشاعت کی تاریخ: 14th, October 2025 GMT
نیویارک (نیوزڈیسک) پاکستان نے اقوام متحدہ میں بھارت کو منہ توڑ جواب دے دیا۔
پاکستان سفارتکار آصف خان نے مودی سرکار کا گھناؤنا چہرہ بے نقاب کردیا، انہوں نے کہا کہ بھارت کالعدم بی ایل اے، ٹی ٹی پی مجید بریگیڈ جیسے گروہوں کی پشت پناہی کررہا ہے، بھارت ہر سال جھوٹ پر مبنی پرانا سکرپٹ لے کر آتا ہے۔
آصف خان نے کہاکہ جموں و کشمیر بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ متنازعہ علاقہ ہے، مسئلہ کشمیر کا حل اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق استصواب رائے ہے، بھارت خود سلامتی کونسل میں مسئلہ لے کر آیا اب وعدوں سے فرار چاہتا ہے۔
پاکستانی سفیر نے مزید کہا کہ پاکستان کشمیریوں کی منصفانہ اور پر امن جدوجہد آزادی کی حمایت جاری رکھے گا، بھارت کا غیر ذمہ دار رویہ خطے کے امن کیلئے خطرہ ہے، بھارت خود کو مظلوم ظاہر کر کے اپنی اصل ریاستی دہشتگردی چھپا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ بھارت میں اقلیتوں پر مظالم کی متعدد عالمی تنظیموں کی رپورٹس موجود ہیں، اقوام متحدہ کے فورم پر بھارت کی منافقت کو بے نقاب کرتے رہیں گے، ہزاروں پاکستانی شہری بھارتی حمایت یافتہ دہشتگردی کا نشانہ بنے۔
آصف خان کا کہنا تھا کہ بھارت کی دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت نہیں سب سے بڑی گمراہ ریاست ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے بڑھتے ہوئے واقعات کے خلاف سخت اقدامات کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے جرائم میں ملوث افراد کو جلد انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیےفاسٹ ٹریک عدالتیںقائم کی جائیں گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ طلبہ کے مستقبل سے کھیلنے والوں کے ساتھ کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (X) پر جاری اپنے بیان میں وزیراعظم مودی نے کہا کہ نوجوانوں کا مستقبل حکومت کی اولین ترجیح ہے اور امتحانی نظام میں بدعنوانی یا پرچے لیک کرنے جیسے جرائم میں ملوث عناصر کو سخت اور فوری سزا دی جائے گی۔
یہ امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے معاملے پر وزیراعظم مودی کا پہلا عوامی بیان ہے۔ تاہم ان کے ردعمل کے بعد بھی ملک بھر میں جاری طلبہ احتجاج میں کمی نہیں آئی۔ متعدد طلبہ اور سماجی حلقوں نے سوال اٹھایا کہ حکومت نے اس حساس معاملے پر ردعمل دینے میں اتنی تاخیر کیوں کی۔
دوسری جانب لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے وزیراعظم کے بیان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے حکومت پر تعلیمی نظام کو کمزور کرنے کا الزام عائد کیا۔
راہل گاندھی نے ایکس پر اپنی پوسٹ میں لکھا کہ نوجوانوں کے مستقبل کو سب سے زیادہ نقصان موجودہ حکومت نے پہنچایا ہے۔ ان کے مطابق حکومت نے نہ صرف تعلیمی نظام کو تباہ ہونے دیا بلکہ ذمہ دار افراد کو بھی تحفظ فراہم کیا۔
انہوں نے کہا کہ احتجاج کرنے والے طلبہ کے تین بنیادی مطالبات ہیں، جن میں وزیر تعلیم دھرمندر پردھان کو عہدے سے ہٹانا، طلبہ سے باضابطہ معافی مانگنا اور احتجاج کے دوران طلبہ پر مبینہ تشدد میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی شامل ہے۔
واضح رہے کہ ملک میں تعلیمی اصلاحات اور امتحانی نظام میں شفافیت کے مطالبات کے حوالے سے احتجاجی تحریک جاری ہے۔ حالیہ دنوں میں طلبہ اور پولیس کے درمیان جھڑپوں کے بعد یہ معاملہ مزید شدت اختیار کر گیا ہے، جبکہ امتحانی پرچے لیک ہونے کے واقعات نے بھارت کے تعلیمی نظام پر سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔