افغان جارحیت میں شہید 12 جوانوں کی چکلالہ چھاؤنی میں نمازِ جنازہ ادا کر دی گئی
اشاعت کی تاریخ: 14th, October 2025 GMT
راولپنڈی: افغانستان کی جانب سے کی گئی بلااشتعال اور بزدلانہ جارحیت کے خلاف وطن عزیز کا دفاع کرتے ہوئے جامِ شہادت نوش کرنے والے 12 بہادر سپوتوں کی نمازِ جنازہ چکلالہ گیریژن میں ادا کی گئی، شہدا نے 11 اور 12 اکتوبر 2025 کی درمیانی شب مادرِ وطن کی سرحدوں پر دشمن کے حملے کا دلیری سے مقابلہ کرتے ہوئے اپنی جانیں وطن پر نچھاور کیں۔
پاک فوج کے شعبہ تعلقاتِ عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق نمازِ جنازہ میں فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے علاوہ وفاقی وزرا، گورنر خیبرپختونخوا، اعلیٰ عسکری و سول حکام اور شہریوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی، فضا میں شہداء کے حق میں نعروں کی گونج سنائی دیتی رہی، جب کہ حاضرین کی آنکھیں اشکبار اور دل جذبۂ فخر سے لبریز تھے۔
اس موقع پر وزیرِ دفاع خواجہ آصف نے اپنے خطاب میں شہداء کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے عوام ان جوانوں کے بے مثال عزم اور قربانی کے شکر گزار ہیں جنہوں نے افغان طالبان حکومت اور بھارت کی حمایت یافتہ دہشتگرد تنظیموں کی بزدلانہ جارحیت کے سامنے سر نہ جھکایا، یہ سپوت پاکستان کی علاقائی سالمیت اور قومی وقار کے تحفظ کی راہ میں قربانی کی لازوال مثال بن گئے ہیں۔
وزیرِ دفاع نے واضح کیا کہ پاکستان کی مسلح افواج، قوم کی مکمل تائید کے ساتھ، ملک کے خلاف کسی بھی جارحیت، دہشتگردی یا بیرونی سازش کو ناکام بنانے کے لیے ہمہ وقت تیار ہیں، یہ قربانیاں قوم کے حوصلے کو کمزور نہیں بلکہ مضبوط کرتی ہیں، اور دشمن کو ایک واضح پیغام دیتی ہیں کہ پاکستان اپنی سرحدوں اور خودمختاری کے دفاع میں کسی قیمت پر سمجھوتہ نہیں کرے گا۔”
شہداء کے جسدِ خاکی کو بعدازاں مکمل فوجی اعزاز کے ساتھ اُن کے آبائی علاقوں کو روانہ کردیا گیا جہاں انہیں سپردِ خاک کیا جائے گا۔ چکلالہ گیریژن میں موجود اہلِ وطن نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ شہداء کے خون کا قرض پاکستان کی مضبوطی، استحکام اور اتحاد سے ادا کیا جائے گا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
پڑھیں:
اتحاد مذاہب کیلئے سعودی فتویٰ، مولانا زاہدالراشدی اور مولانا فضل الرحمان خلیل کی تائید
راہنماؤں نے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے مشرق وسطیٰ میں اسرائیل کے مفادات کے تحفظ اور توسیع کے لیے مسلسل سہولت کاری کی جا رہی ہے، جس کا مقصد فلسطینی عوام کے جائز حقوق کو نظرانداز کرتے ہوئے صہیونی ریاست کے توسیع پسندانہ عزائم کو عملی شکل دینا ہے۔’’ابراہیمی معاہدہ‘‘ بین المذاہب ہم آہنگی کا عنوان استعمال کرتے ہوئے مسلم ممالک کو اسرائیل کیساتھ تعلقات استوار کرنے پر آمادہ کرنے کی کوشش ہے، حالانکہ اس کے پس پردہ سیاسی اہداف اور مقاصد کسی سے پوشیدہ نہیں۔ اسلام ٹائمز۔ پاکستان شریعت کونسل کے امیر مولانا زاہدالراشدی اور انصار اُلامہ پاکستان کے امیر مولانا فضل الرحمن خلیل نے سعودی عرب کے ممتاز علماء کی جانب سے اتحاد مذاہب کے بارے میں جاری کردہ فتوے کی بھرپور تائید کرتے ہوئے کہا ہے کہ نام نہاد ابراھیمی معاہدہ درحقیقت اسرائیل کو خطے میں مستقل حیثیت دلانے اور ’’گریٹر اسرائیل‘‘ کے توسیع پسندانہ منصوبے کی راہ ہموار کرنے کی ایک خطرناک کوشش ہے، جسے عالم اسلام کسی صورت قبول نہیں کرے گا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے اسلام آباد میں باہمی ملاقات کے دوران کیا۔ اس موقع پر پاکستان شریعت کونسل کے ڈپٹی سیکرٹری جنرل مولانا عبدالرؤف محمدی، سیکرٹری اطلاعات پروفیسر حافظ محمد منیر، مولانا جمیل الرحمن فاروقی، حاجی صلاح الدین فاروقی، مفتی محمد نعمان، مولانا محمد معاویہ، سردار زاہد منان اور دیگر راہنما بھی موجود تھے۔ راہنماؤں نے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے مشرق وسطیٰ میں اسرائیل کے مفادات کے تحفظ اور توسیع کے لیے مسلسل سہولت کاری کی جا رہی ہے، جس کا مقصد فلسطینی عوام کے جائز حقوق کو نظرانداز کرتے ہوئے صہیونی ریاست کے توسیع پسندانہ عزائم کو عملی شکل دینا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ’’ابراہیمی معاہدہ‘‘ بین المذاہب ہم آہنگی کا عنوان استعمال کرتے ہوئے مسلم ممالک کو اسرائیل کیساتھ تعلقات استوار کرنے پر آمادہ کرنے کی کوشش ہے، حالانکہ اس کے پس پردہ سیاسی اہداف اور مقاصد کسی سے پوشیدہ نہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ اسرائیل نے گزشتہ کئی دہائیوں سے فلسطینی سرزمین پر ناجائز قبضہ کر رکھا ہے، لاکھوں فلسطینیوں کو ان کے گھروں سے بے دخل کیا گیا، بیت المقدس کی حیثیت تبدیل کرنے کی کوششیں کی گئیں اور غزہ سمیت فلسطینی علاقوں میں انسانیت سوز مظالم کا سلسلہ جاری ہے۔ ایسے حالات میں اسرائیل کو تسلیم کرنے یا اس کیساتھ معمول کے تعلقات قائم کرنے کا کوئی جواز موجود نہیں۔ مولانا زاہد الراشدی اور مولانا فضل الرحمن خلیل نے کہا کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی نسبت کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرنا اور اس کے نام پر مختلف مذاہب کو ایک ایسے نظریاتی فریم ورک میں جمع کرنے کی کوشش کرنا جس سے اسلامی عقائد و تعلیمات متاثر ہوں، قابل قبول نہیں۔ انہوں نے کہا کہ قرآن کریم کی تعلیمات اور امت مسلمہ کے اجماعی عقائد کی روشنی میں اسلام اپنی مستقل شناخت اور نظریاتی اساس رکھتا ہے جسے کسی مصنوعی عنوان کے تحت خلط ملط نہیں کیا جا سکتا۔
اجلاس کے شرکاء نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پاکستان اور سعودی عرب سمیت تمام مسلم ممالک کو اسرائیل کے توسیع پسندانہ عزائم اور گریٹر اسرائیل کے منصوبے کے خلاف مشترکہ مؤقف اختیار کرنا چاہیے اور ایسی ہر کوشش کو سختی سے مسترد کر دینا چاہیے جو فلسطینی کاز کو نقصان پہنچانے یا صہیونی ریاست کو مزید تقویت دینے کا باعث بنے۔ انہوں نے عالم اسلام کے حکمرانوں، دینی قیادت اور عوام سے اپیل کی کہ وہ مسئلہ فلسطین کے حوالے سے اپنے تاریخی، دینی اور اخلاقی موقف پر ثابت قدم رہیں اور بیت المقدس اور فلسطینی عوام کے حقوق کے تحفظ کے لیے متحدہ کردار ادا کریں۔ اس موقع پر شرکاء نے فلسطینی عوام کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے عوام ہمیشہ کی طرح فلسطینی بھائیوں کے حق خود ارادیت، آزادی اور ایک آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کی جدوجہد کی حمایت جاری رکھیں گے۔