افغانستان کے حملے میں وطن کا دفاع کرتے شہید ہونیوالے 12 جوانوں کی نماز جنازہ ادا
اشاعت کی تاریخ: 13th, October 2025 GMT
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق شہدا کی نماز جنازہ راولپنڈی کے چکلالہ گیریژن میں ادا کی گئی جس میں فیلڈ مارشل حافظ سید عاصم منیر، وفاقی وزراء، گورنر خیبرپختونخوا اور اعلیٰ عسکری و سول حکام نے شرکت کی۔ اسلام ٹائمز۔ افغانستان سے ہونے والے حملے کے دوران مادر وطن کا دفاع کرتے ہوئے پاک افغان سرحد پر شہید ہونے والے 12 جوانوں کی نمازِ جنازہ راولپنڈی میں ادا کردی گئی۔ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق شہدا کی نماز جنازہ راولپنڈی کے چکلالہ گیریژن میں ادا کی گئی جس میں فیلڈ مارشل حافظ سید عاصم منیر، وفاقی وزراء، گورنر خیبر پختونخوا اور اعلیٰ عسکری و سول حکام نے شرکت کی۔ آئی ایس پی آر کے مطابق 11 اور 12 اکتوبر کی درمیانی شب افغان حکومت کی جانب سے کی گئی بزدلانہ اور بلاجواز جارحیت کے خلاف مادرِ وطن کا دفاع کرتے ہوئے 23 جوان شہید ہوئے تھے۔
اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے وزیر دفاع نے کہا کہ پاکستانی عوام ان ہیروز کی لازوال قربانیوں کے مقروض ہیں جنہوں نے طالبان حکومت کی بزدلانہ اور غدارانہ جارحیت کے خلاف پاکستان کی علاقائی سالمیت کا دفاع کرتے ہوئے اپنی جانیں نچھاور کیں اور افغان سرزمین کے اندر سے سرگرم بھارتی سرپرستی میں دہشت گرد پراکسیز کا مقابلہ کیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ "پاکستان کی مسلح افواج قوم کی مکمل حمایت سے پاکستان کے خلاف کسی بھی جارحیت اور سازش کو ناکام بنانے کے لیے پرعزم ہیں۔"
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: کا دفاع کرتے کرتے ہوئے کی نماز
پڑھیں:
وسائل پر قبضے کی جنگ: افغان طالبان میں اختلافات کھل کر سامنے آگئے
افغانستان کے صوبے بدخشاں میں سونے کی کانوں، غیر قانونی دولت، مسلح گروہوں کے باہمی مفادات اور قدرتی وسائل پر کنٹرول کے تنازع نے طالبان حکومت کے اندر بڑھتے ہوئے اختلافات کو نمایاں کردیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق بدخشاں کی صورتحال طالبان کے سرکاری بیانیے سے مختلف تصویر پیش کرتی ہے، جہاں مختلف دھڑے عوامی فلاح یا حکمرانی کے بجائے سونے کے ذخائر، منشیات سے حاصل ہونے والی آمدنی، غیر قانونی مالی فوائد اور طاقت کے حصول کے لیے ایک دوسرے کے مدمقابل دکھائی دیتے ہیں۔
سونے کے ذخائر پر کشمکش، قندھاری قیادت پر الزاماتبدخشاں میں سونے کی کانوں پر جاری تنازع نے طالبان کے اندر موجود گہرے اختلافات کو نمایاں کر دیا ہے۔
مقامی سطح پر اس بات پر ناراضی پائی جاتی ہے کہ قندھاری طالبان قیادت مبینہ طور پر کانوں، آمدنی کے ذرائع، ریاستی اختیارات اور معاشی فوائد پر اپنا کنٹرول مضبوط کرنے کی کوشش کر رہی ہے، جبکہ مقامی طالبان عناصر کو نظر انداز کیا جا رہا ہے۔
10 ہزار جنگجوؤں کا دعویٰ، انتظامی بیان یا طاقت کا مظاہرہ؟صوبہ زابل کے طالبان نائب گورنر ملا جمعہ خان فتح کی جانب سے 10 ہزار جنگجوؤں پر کمانڈ رکھنے کا دعویٰ بھی توجہ کا مرکز بن گیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق یہ بیان ایک فعال انتظامیہ کے نمائندے کے بجائے ایسے مسلح دھڑے کے رہنما کا تاثر دیتا ہے جو دولت، اثر و رسوخ اور اختیار کی اندرونی کشمکش میں اپنی طاقت دکھانے کے لیے تیار ہے۔
تحقیقات کا حکم، بدعنوانی کے اعتراف کے مترادف قرارطالبان رہنما کی جانب سے غیر قانونی کان کنی، منشیات کی تجارت اور شہریوں پر مظالم کے الزامات کی تحقیقات کا حکم اس بات کا اعتراف سمجھا جا رہا ہے کہ طالبان نظامِ حکومت کے اندر مجرمانہ مالی مفادات، وسائل کے استحصالی استعمال اور اختیارات کے ناجائز استعمال کے مسائل موجود ہیں۔
اسلامی انصاف کا دعویٰ سوالات کی زد میںرپورٹ میں کہا گیا ہے کہ طالبان اقتدار سنبھالنے کے بعد بعض عہدیداروں کی اچانک بڑھتی ہوئی دولت، کانوں پر کنٹرول کے لیے دھڑوں کی کشمکش اور ہزاروں جنگجوؤں تک رسائی کے دعوے طالبان کے ’اسلامی انصاف‘ کے بیانیے کو کمزور کرتے ہیں۔ اس صورتحال کو وسائل کی لوٹ مار، عسکری بدعنوانی اور جنگجو سرداروں کی طرز کی سیاست سے تشبیہ دی گئی ہے۔
بدخشاں طالبان طرز حکمرانی کی عکاس تصویررپورٹ کے مطابق بدخشاں میں سونے کے مافیا، منشیات پر مبنی معیشت، مسلح سرپرستی کے نظام، شہریوں کو دباؤ میں رکھنے کے حربے اور مختلف جنگجو گروہوں کے درمیان مسابقت طالبان حکمرانی کی ایک واضح تصویر پیش کرتی ہے۔
اس صورتحال میں مقامی آبادی استحصال کا سامنا کررہی ہے جبکہ طالبان کے مختلف حلقے وسائل اور اثر و رسوخ کے حصول کی دوڑ میں مصروف ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق طالبان نے اقتدار میں آنے سے قبل نظم و ضبط، احتساب اور بدعنوانی کے خاتمے کے وعدے کیے تھے، تاہم بدخشاں کی صورتحال قندھاری قیادت کے مبینہ اختیارات پر قبضے، اندرونی اختلافات، معدنی وسائل کی لوٹ مار، منشیات سے جڑی بدعنوانی اور مسلح گروہی طرز عمل کو نمایاں کرتی ہے، جس سے یہ تاثر ابھرتا ہے کہ طالبان حکومت ایک مرکزی ریاستی نظام کے بجائے مختلف مسلح نیٹ ورکس کے اتحاد کی صورت اختیار کر چکی ہے جو اقتدار اور وسائل کی تقسیم پر باہمی کشمکش میں مبتلا ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews اختلافات افغان طالبان وسائل پر قبضے کی جنگ وی نیوز