بھارتی آبی جارحیت سے نمٹنے کیلئے دریائے چناب پر ڈیم بنانے کا فیصلہ
اشاعت کی تاریخ: 25th, November 2025 GMT
لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن)بھارتی آبی جارحیت سے نمٹنے کے لیے دریائے چناب پر چنیوٹ کے مقام پر ڈیم بنایا جائے گا۔
سینیٹر شہادت اعوان کی زیر صدارت سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے آبی وسائل کا اجلاس ہوا جس میں کمیٹی کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ ڈیم کی فزیبلٹی اسٹڈی مکمل ہو چکی ہے، پی سی ون تیاری کے مراحل میں ہے، 824 ارب روپے کا قومی فلڈ پروٹیکشن پلان مشترکہ مفادات کونسل سے منظوری کا منتظر ہے۔
اس کے علاوہ سینیٹ کمیٹی نے صوبوں کو فوری طور پر دریاؤں پر تجاوزات مکمل طور پر ہٹانے کی ہدایت کر دی۔
9 مئی سمیت دیگر 5 مقدمات: بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کی گرفتاری سے روک دیا گیا
چیئرمین کمیٹی نے پنجاب اور سندھ سمیت دریاؤں کے راستوں سے تجاوزات کے خاتمے کو یقینی نہ بنانے پر سخت برہمی کا اظہار کیا، انہوں نے کہا کہ اگر اگلے مون سون سے قبل یہ تجاوزات نہ ہٹائی گئیں تو یہ مجرمانہ فعل ہوگا۔
واپڈا حکام نے کمیٹی کو ملک بھر میں واٹر فلو کی نگرانی اور سیلاب سے قبل وارننگ سسٹم کے لیے نصب کیے جانے والے ٹیلی میٹری سسٹم پر بھی آگاہ کیا۔
مزید :.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
پڑھیں:
گلگت بلتستان کی سڑکوں کی خستہ حالی دیکھ کر شدید دکھ ہوا، نواز شریف
ایک بیان میں قائد نون لیگ کا کہنا تھا کہ ووٹ ملے یا نہ ملے، ہم آپ کو محروم نہیں رکھیں گے۔ آپ ووٹ دیں یا نہ دیں ہم پھر بھی آپ کی خدمت کریں گے اور ترقیاتی کام مکمل کریں گے۔ اسلام ٹائمز۔ نون لیگ کے قائد میاں نواز شریف نے کہا ہے کہ ہم نے گلگت سے سکردو کا 9 گھنٹے کا سفر 3 گھنٹے میں بدل کر عوام کے 6 گھنٹے بچائے ہیں۔ 70 سال سے لٹکے منصوبے ہم نے اربوں روپے لگا کر مکمل کیے۔ ہمیں یہ منظور نہیں کہ یہاں 20، 22 گھنٹے لوڈشیڈنگ ہو۔ ووٹ ملے یا نہ ملے، ہم آپ کو محروم نہیں رکھیں گے۔ آپ ووٹ دیں یا نہ دیں ہم پھر بھی آپ کی خدمت کریں گے اور ترقیاتی کام مکمل کریں گے۔ ایک بیان میں میاں نواز شریف کا کہنا تھا کہ میں شہباز شریف اور مریم کو بھی کہوں گا کہ وہ دونوں یہاں آئیں اور اگر اللہ کے فضل و کرم سے ہماری حکومت آتی ہے، تو میں خود ہر دوسرے تیسرے مہینے یہاں آکر شروع کیے گئے ترقیاتی منصوبوں کی تکمیل اور نگرانی اپنی دیکھ بھال میں مکمل کرواؤں گا۔ یہاں دیس نکالے کی باتیں کرنے والے یاد رکھیں کہ 2017ء میں این ایف سی کمیٹی نواز شریف نے ہی بنائی تھی تاکہ اس مسئلے کا مستقل حل نکل سکے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ گلگت، سکردو، بلتستان اور ہنزہ سمیت پورے خطے کے عوام سے مخاطب ہوں۔ اللہ کے فضل و کرم سے اور شہباز شریف سے بات کر کے اس شاہراہ کو پورا خنجراب تک پہنچائیں گے۔ پاک چائنا ٹریڈنگ کے اس منصوبے سے یہاں ایسی خوشحالی آئے گی کہ آپ کو گھر بیٹھے روزگار اور اخراجات ملیں گے اور پورا خطہ بدل جائے گا۔ آج گلگت بلتستان کی سڑکوں کی خستہ حالی دیکھ کر شدید دکھ ہوا، وہ گلگت کہاں ہے جسے میں جانتا تھا؟ ہم نے مانسہرہ سے تھاکوٹ تک بہترین سڑک بنائی جسے خنجراب تک جانا تھا مگر اسے نظر انداز کر دیا گیا۔ ہم کسی کی برائی کرنے نہیں بلکہ ہمیشہ اپنی کارکردگی کی بنیاد پر ووٹ مانگتے ہیں۔ یہاں کے عوام بے تحاشہ ترقی اور روزگار کے حقدار ہیں۔